لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک 30 ستمبر 2024 کو اپنی نئی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم اس وقت جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اس سے پہلے بلوچستان میں انفنٹری ڈیویژن اور وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کمانڈ کر چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم اپنے کورس میں اعزازی شمشیر بھی حاصل کرچکے ہیں۔ لیفٹینیٹ جنرل عاصم اس سے پہلے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک چیف انسٹرکٹر این ڈی یو اور انسٹرکٹر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ بھی تعینات رہ چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم فورٹ لیون ورتھ اور رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز کے گریجویٹ بھی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم فورٹ لیون ورتھ اور رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز کے گریجویٹ بھی ہیں، وہ اپنے کورس میں اعزازی شمشیر بھی حاصل کرچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک فوجی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد غلام محمد بھی لیفٹیننٹ جنرل تعینات رہے اور انہوں نے کورکمانڈر راولپنڈی کے فرائض بھی انجام دیے جب کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کے والد کو جنرل جی ایم کے طور پر جانا جاتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک سابق کور کمانڈر راولپنڈی جی ایم ملک کے صاحبزادے ہیں۔میسر معلومات کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے 80 لانگ کورس سے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی.جی ایم ملک نے 1950 میں پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہوں نے برطانیہ کی مایہ ناز رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں تربیت حاصل کی جس کے اختتام پر ان کو برطانوی اکیڈمی کا بہترین کیڈیٹ نامزد کیا گیا تھا اور انہوں کوئینز میڈل سے نوازا گیا تھا۔

یاد رہے کہ رولز آف بزنس میں طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ سیکریٹری دفاع سمری تیار کر کے وزیراعظم آفس بھجواتے ہیں اور وہاں سے منظوری ہوتی ہے۔ آئین کے مطابق تو یہ اختیار وزیراعظم کا ہی ہے لیکن اس میں بطورِ ادارے کے سربراہ آرمی چیف کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔ایک سینیئر قانون دان نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈی جی آئی ایس کی تعیناتی کے لیے یقینی طور پر نام تو آرمی چیف ہی دیتے ہیں اور یہی روایت رہی ہے۔ لیکن چونکہ ڈی جی آئی ایس آئی وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے تو اس لیے قانونی اتھارٹی وزیراعظم کی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’عموماً یہی ہوتا آیا ہے کہ آرمی چیف وزیراعظم سے مشاورت کر کے نام وزرات دفاع کے ذریعے وزیراعظم آفس بھجواتے ہیں اور پھر نام کی منظوری ہو جاتی ہے۔‘

واضح رہے کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو 6 اکتوبر 2021 کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا تھا۔

کیا عسکری قیادت عمراندار ججز کو قابوکرنے میں کامیاب ہوگی؟

Back to top button