کیا علیمہ خان اپنے بھائی کی سیاسی جانشین بننے والی ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر چھائی ہوئی شخصیات اپنی اپنی اننگز کھیل چکیں، ان میں سے اکثر 70 کے پیٹے میں ہیں لیکن ابھی تک بڑی جماعتوں میں یہ طے نہیں ہوا کہ اُن کا اگلا سیاسی وارث کون ہوگا؟ تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور تحریک انصاف کے اگلے سیاسی وارثوں کو ان کے ورکرز قبول کرنے پر تیار ہو جائیں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دنیا بھر کی سیاست میں یہ اصول رائج ہے کہ سب کچھ پہلے سے طے کر دیا جاتا ہے کہ بڑھاپے یا کسی ناگہانی واقعے کے باعث پارٹی کس کو اپنا لیڈر چنے گی؟ پاکستان میں چونکہ وراثتی سیاست کا زور ہے اس لئے یہاں بھی جانشین طے ہونے چاہئیں مگر پارٹیوں کو چلانے والی بوڑھی نسل اقتدار اور اختیار ابھی آگے دینے پر تیار نظر نہیں آتی۔ اصولی باتیں ایک طرف، نظریات کو بھی چھوڑیں سچ تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کا دوسرا نام ہے۔ آج بلاول پارٹی کا نام بدل کر بلاول لیگ رکھ لے تو سارے جیالے اس پارٹی میں چلے جائیں گے، اسی طرح مسلم لیگ بھی شریف خاندان کا دوسرا نام ہے، نواز شریف ہوں یا ان کے بھائی شہباز شریف یا پھر مریم اور حمزہ سبھی مسلم لیگ ن کےستارے ہیں اور جب بھی پارٹی کا کوئی وارث مقرر ہو گا وہ شریف خاندان ہی میں سے ہوگا۔ تحریک انصاف لاکھ کہتی رہے کہ وہ وراثتی سیاست پر یقین نہیں رکھتی مگر حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی بہن علیمہ خان کوئی پارٹی عہدہ نہ ہونے کے باوجود سب پارٹی عہدیداروں پر بھاری ہیں اور انہوں نے سب کو اگے لگا کر رکھا ہے۔ پہلے یہی رول بشری بی بی نے لینے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے گرفتاری کے بعد سے اب علیمہ پارٹی معاملات چلا رہی ہیں۔ اس سے پہلے عمران خان کی تیسری اہلیہ حکومت کے دنوں سے لیکر اپنی گرفتاری تک حکومت اور پارٹی کے معاملات میں فائنل اتھارٹی تھیں ،گویا عمران وراثتی سیاست سے لاکھ انکار کریں لیکن ان کا وارث بھی انہی کے خاندان سے ہوگا۔ انکا خیال ہے کہ اسی صورت میں لوگ اُسے تسلیم کریں گے ورنہ پارٹی کے اندر تقسیم پیدا ہو جائے گی۔
سہیل وڑائج کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خالص مذہبی سیاست ہو یا خالص سیکولر سیاست دونوں میں خاندانی وارث ہی جانشین ٹھہرتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا مفتی محمود کے وارث مولانا فضل الرحمٰن بنے، اب ان کے بیٹےاسعد محمود اگلی جانشینی کیلئےتیار ہیں۔ اے این پی سیکولر جماعت ہونے کےباوجود اسی طریقے پر گامزن ہے غفار خان کے جانشین ان کے فرزند ولی خان ٹھہرے، ولی خان نے اپنے بیٹے اسفندیار کو آگے کیا اور اب اسفند یار ولی کے بیٹے ایمل ولی خان اے این پی کے سربراہ بن چکے ہیں۔فلسفیانہ بحث ایک طرف کہ کیا سیاست میں اس طرح کی وارثت ہونی چاہیے یا نہیں؟ مگر عملی طور پر پاکستان میں یہی کچھ چل رہا ہے اور مستقبل قریب میں اس میں تبدیلی آنے کا کوئی امکان نہیں۔ ملک کی بڑی جماعتوں میں سب سے پرانی پیپلز پارٹی ہے جہاں محترمہ بے نظیربھٹو کی شہادت کےبعدبلاول بھٹو زرداری کو پارٹی چیئرمین شپ مل چکی ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہترین تربیت یافتہ ہیں، آج کی سیاست میں موجود نوجوان سیاست دانوں میں سب سے زیادہ ٹیلنٹڈ بھی ہیں مگر وہ وزیر اعظم تبھی بن سکتے ہیں جب ان کی پنجاب میں بھی پذیرائی ہو۔ بلاول ابھی تک پنجاب میں کوئی نیا ووٹر اپنے ساتھ نہیں ملا سکے۔ بلاول بھٹو کی وارثت کا معاملہ اگرچہ حتمی اور طے ہے تاہم ان کی بہن آصفہ بھٹو کے بھی بہت سے حامی موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ آصفہ کو آگے آنے کا موقع دیا جائے تو وہ بہتر پرفارم کر سکتی ہے۔ بظاہر پارٹی اور خاندان پر بلاول بھٹو کا مکمل کنٹرول ہے اس لئے موجودہ صورت حال میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی۔
سہیل وڑائچ کے بقول وراثت اور جانشینی کا سب سے بڑا مسئلہ تحریک انصاف میں ہے جس کا نعرہ ہی وراثتی اور خاندانی سیاست کے خلاف ہے مگر اس سب کے باوجود بھی جانشینی یہاں بھی خاندان میں ہی جانی ہے، کئی انصافیوں کا خیال ہے کہ ان کی جماعت مراد سعید، عمر ایوب، گوہر علی یا اسد قیصر جیسے لوگوں کو جانشین بنا کر سب کو حیران کر دے گی مگر عملی طور پر یہ سب دعوےغلط ہیں ،آج بھی علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کا رتبہ تمام پارٹی عہدیداروں سے بڑا ہے وہ دونوں جسے چاہتی ہیں کھڑے کھڑے ڈانٹ دیتی ہیں۔ کبھی کبھی عمران کے بھانجوں حسان نیازی اور شیر علی کے نام بھی متوقع جانشینوں کے طور پر لئے جاتے ہیں مگر پارٹی کے اندر سے ملنے والی اطلاعات اور تجزیوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اگر کبھی جانشینی یا وراثت کا مسئلہ آیا تو اس دوڑ میں سب سے آگے علیمہ خان ہوں گی، کہا جاتا ہے کہ وہ عمران خان کی ہو بہو زنانہ کاپی ہیں۔
چیف جسٹس کے اختیارات بڑھا کر حکومت کیا حاصل کرنے والی ہے ؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دوسری طرف بشریٰ عمران بھی عمران پر بہت اثر رکھتی ہیں۔ بھٹو مشکل میں آئے تو انہوں نے اپنی اہلیہ نصرت بھٹو کو آگے کردیا ، نواز شریف مشکل کا شکار ہوئے تو وہ گھریلو خاتون کلثوم نواز کوباہر لے آئے، تاہم عمران خان نے فی الحال ایسا نہیں کیالیکن انہوں نے پارٹی جن کے حوالے کر رکھی ہے وہ ایک عارضی اور مصنوعی انتظام لگتا ہے، اگر وہ خاندان کا کوئی فردا ٓگے نہ لائے تو ان کے بعد پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔
سہیل وڑئچ کے مطابق مسلم لیگ نون میں شریف خاندان کوسپریم حیثیت حاصل ہے۔ نواز شریف کو شروع سے لے آج تک واحد اور متفقہ لیڈر مانا جاتا ہے ان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے شریف خاندان میں رتبے کے اعتبار سے نواز شریف کے بعد شہباز شریف ہیں تاہم شہباز شریف نےاپنے بڑے بھائی کی عزت اور پیروی والد کی طرح کی ہے۔ ایک زمانے میں شریف خاندان کی اگلی نسل میں سے صرف حمزہ شہباز شریف متحرک تھے۔ 2008ء، 2009ء تک نواز شریف خود کہتے تھے میرا سیاسی جانشین حمزہ ہوگا لیکن پانامہ اور بعد کے حالات نے انہیں فیصلے پر نظرثانی پر مجبورکر دیا ،کہا جاتا ہے کہ شریف خاندان کا اتفاق مثالی ہے مگر پانامہ کے مشکل دنوں میں اور بالخصوص راحیل شریف اور جنرل باجوہ سے نواز حکومت کی لڑائی کے دوران انہیں شہبازخاندان سے جس قدر پرزور حمایت کی توقع تھی وہ نہ ملی۔ دوسری طرف کلثوم نواز خاندانی سیاست میں بہت اثر و رسوخ کی حامل تھیں انہوں نے ان مشکل حالات میں مریم نواز کی تربیت بھی کی اور انہیں والد کی سیاست میں شریک بھی کر دیا۔ یہی وہ دن تھے کہ مریم نواز شریف والد کی حقیقی سیاسی شاگرد بن گئیں، نواز حکومت کا اقتدار ختم ہوا تو مریم نے جرأت رندانہ سے کام لیا، ان کی شخصیت میں کرشماتی بدلائو آیا، انہوں نے جیل کی سختیاں بھی جھیلیں اور والد سے کاروبارِ حکومت کی گتھیاں سلجھانا بھی سیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ 2024ء کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے اگلی نسل میں سے حمزہ کی بجائے مریم نواز کو وزیرِ اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر نوازشریف کا یہ فیصلہ شہباز خاندان نے بھی صبر اور تکلیف کے ملے جلے جذبات سے مان لیا ہےلیکن نون کی جانشینی کے حوالے سے اب بھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے جس طرح نون کے حتمی فیصلوں کا اختیار نواز شریف کےپاس ہمیشہ رہا اورسب ان فیصلوں کو بسر وچشم مانتے رہےہیں، کیا اگلی نسل مریم نواز کوبھی اسی طرح لیڈر مان کر انکے پیچھے چلے گی؟ ابھی یہ طے نہیں ہوسکا۔ اگر تو مریم بطورِ وزیر اعلیٰ شاندار کارکردگی دکھا گئیں تو پھر والد کی قیادت کی دَستارا نہیں ملے گی لیکن اگر وہ حمزہ جیسے عوامی رابطے نہ رکھ سکیں تو پھر جانشینی کے حوالے سے ایک نئی کش مکش ہوگی۔ آخر میں دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ کاش اگلی نسل میں سے کوئی تو ایسا ہو جو ملک کو فلاحی مملکت بنا کر قائداعظم محمدعلی جناح کا خواب پورا کرے……!
