قبرستان میں فوٹو شوٹ کرانے پر ماریہ بی تنقید کی زد میں

دیدہ زیب ڈیزائنز کے ملبوسات کے حوالے سے شوبز انڈسٹری میں نام بنانے والی معروف ڈیزائنر ماریہ بی موسم گرما کی کلیکشن کا منفرد مقام پر فوٹو شوٹ کرانے پر تنقید کی زد میں آ گئیں، جی ہاں! ماریہ بی نے فوٹو شوٹ کے لیے قبرستان کا انتخاب کیا تو لوگ خود کو تنقید سے نہ روک پائے۔
ماریہ بی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں اور اس بار تنازع بہاولپور کے نوابوں کے قدیم مقبروں پر ماڈلز کی شوٹ پر سامنے آیا ہے۔ ڈیزائنر ماریہ بی کو حال ہی میں مبینہ طور پر بہاولپور کے نوابوں کے خاندان کے قدیم قبرستان میں ایک فیشن ویڈیو بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ماریہ بی کے برانڈ کی جانب سے خواتین کے نئے کلیکشن کا فوٹو شوٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اظہارِ برہمی کیا جا رہا ہے۔
بہاولپور کے حکمران نواب عباسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک سوشل میڈیا صارف نے ماریہ بی کے برانڈ کے فوٹو شوٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ان کے نانا کی قبر کا احاطہ ہے جس پر ماریہ بی کی ماڈل ر قص کر رہی ہے۔
صارف نے عباسی خاندان کے قبرستان میں فوٹو شوٹ کرنے پر ماریہ بی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا، سوشل میڈیا صارفین نے اس پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ماریہ بی عام طور پر اسلامی روایات اور شرعیت پر آواز اُٹھاتی ہیں اور اسلامی نظام نافذ کرنے پر زور دیتی ہیں مگر انہیں اپنے ہی برانڈ کے فوٹو شوٹ قبرستان میں کرواتے ہوئے شرم نہیں آتی۔
ایک اور صارف نے کہا کہ ٹرانسجینڈرز اور ایل جی بی ٹی کے خلاف ماریہ بی پرُزور مذمت کرتی ہیں تاہم انہیں یہ خیال نہیں آتا کہ وہ قبرستان میں اپنی ماڈلز سے رقص کروا رہی ہیں۔
شوٹ کے بعد سوشل میڈیا پر نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مبینہ طور پر ان کے اجداد کے مقبرے پر ماڈلز کی شوٹنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور ڈیزائنر کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی عندیہ دیا ہے۔
تاہم یہ تنازع سامنے آنے کے بعد ماریہ بی کے آفیشل انسٹاگرام پیج پر اس معاملے پر معذرت سامنے آئی ہے۔ کمپنی نے لکھا: ہمارے برینڈ کے لیے حالیہ شوٹ کی منصوبہ بندی اور اس کی شوٹنگ ایک پروڈکشن ہاؤس نے کی تھی اور اس کا مقصد بہاولپور میں ہمارے شاندار ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے لانا تھا۔
انہوں نے مزید کہا ’شوٹنگ کی تصاویر کو ایڈٹ اور شائع کیا گیا تاہم ہمیں اس مقام کی اہمیت اور تقدس کے بارے علم نہیں تھا۔ ہم ان لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس غلطی کی نشاندہی کی اور ہم نے تمام مواد کو ہٹا کر فوری کارروائی کی ہے۔کمپنی کا مزید کہنا تھا: ’ہم ان تمام لوگوں سے دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہیں جنہیں اس ناخوش گوار واقعے سے قابل فہم تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ماریہ بی ایک معروف ڈیزائنر ہیں جو نہ صرف اپنے ڈیزائنر کلیکشنز اور لان پرنٹس کے لیے جانی جاتی ہیں بلکہ اپنے نقطہ نظر کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔وہ ٹرانسجینڈر اور انٹرسیکس جیسے حساس معاملات پر اپنے تبصروں کو لے کر سرخیوں میں رہیں جنہوں نے حال ہی میں ڈراما ’سر راہ‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
یاد رہے کہ ماریہ بی کے کپڑوں کے برانڈ کی جانب سے اس سے قبل بھی اس قسم کے فوٹو شوٹ وائرل ہو چکے ہیں جس میں قبروں اور مسجدوں کی بے حرمتی کی گئی تھی۔
