بلاول نے اتحادی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی کیوں دی؟

مرکز میں اتحادی حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  کے چیئرمین اور وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے علیحدگی کا اشارہ دیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وفاق نے سندھ کے سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہ کیا، تو ان کی جماعت کے لیے حکومت میں شامل رہنا مشکل ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے حکومت سے علیحدگی کا اشارہ ایسے وقت میں دیا گیا ہے، جب حزبِ اختلاف کی جانب سے تحلیل کردہ دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

اپریل 2022 میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ اتحادی حکومت اقتدار میں آئی تھی، تاہم اس کے بعد سے سیاسی بے یقینی نے ملک کو داخلی اور معاشی مشکلات میں مبتلا کیا ہوا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس اتحاد سے علیحدگی کا راستہ نہیں ہے البتہ مہنگائی اور دو صوبوں میں ممکنہ انتخابات کے باعث پی پی پی حکومت سے فاصلہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔

تجزیہ نگار اور سینئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے علیحدگی کی بات پہلی مرتبہ کی ہے، اس بنا پر یہ بات غیر معمولی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی مقبولت کھو رہی ہے، اس بنا پر بلاول بھٹو زرداری اس سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں لیکن ابھی ایسے حالات نہیں ہیں کہ پیپلز پارٹی حکومت سے علیحدگی کا سوچ رہی ہو۔

مظہر عباس نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کے انتخابات میں جانا ہے، جس کی وجہ سے وہ وفاق سے فاصلہ اختیار کرنا چاہتی ہے البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حکومتی اتحاد سے الگ ہو رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی اتحاد انتخابی اتحاد نہیں ہے، اس لیے پیپلز پارٹی کو الگ جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لینا ہے۔ حکومت کی موجودہ کارکردگی عوامی سطح پر متاثر کن نہیں ہے۔مظہر عباس نے کہا کہ بلاول بھٹو سیلاب متاثرین کے امدادی فنڈذ کی بات کررہے ہیں لیکن ان کی نظر میں پیپلز پارٹی مردم شماری کے حوالے سے بھی دباؤ بڑھانا چاہتی ہے۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار اور سینئر صحافی افتخار احمد کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کی حکومت سے علیحدگی کے اشارے کی بنیاد سیاسی نہیں بلکہ عوامی مسئلے کی بنیاد پر ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین سیلاب متاثرین کا مقدمہ لے کہ پوری دنیا میں گئے اور عالمی اداروں کو امداد کے لیے راغب کیا۔وہ کہتے ہیں کہ ایسے میں جب بلاول بھٹو زرداری دنیا سے امداد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے اعلان کردہ رقوم کا اجرا نہ ہونے پر ان کی ناراضگی جائز ہے۔

افتخار احمد نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان عوامی غم و غصہ کی عکاسی کرتا ہے لیکن یہ تاثر کہ وہ حکومت سے علیحدہ ہورہے ہیں درست نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد سے الگ ہو کر کہاں جائے گی کیوں کہ حزبِ اختلاف کی جماعت تحریکِ انصاف کے ساتھ فل وقت شراکت داری نہیں ہوسکتی، لہٰذا بلاول بھٹو زرداری علیحدہ نہیں ہوں گے۔

افتخار احمد کہتے ہیں کہ حکومتی اتحاد انتخابی اتحاد نہیں ہے بلکہ سیاسی جماعتیں ایک سمجھوتے کے تحت حکومت میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو مردم شماری کے ڈیجیٹل طریقے سے انعقاد پر بھی تحفظات ہیں، وہ چاہتی ہے کہ وفاق اس کے تحفظات کا ازالہ کرے۔وہ کہتے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات اس مردم شماری کے نتیجے میں نئی حلقہ بندیوں پر ہوں گے اس بنا پر یہ سیاسی معاملہ بھی ہے۔ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے وفاق کو خط کے ذریعے مردم شماری پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا کہ اگر اسی غلط طریقے سے کسی کی ہدایات پر ڈیجیٹل مردم شماری ہونی ہے، تو پیپلزپارٹی اس کو قبول نہیں کرتی۔

PTI کا دوبارہ اقتدار میں آنا مشکل کیوں ہے؟

Back to top button