PTI کا دوبارہ اقتدار میں آنا مشکل کیوں ہے؟

الیکشن کمیشن کی تجویز پر پنجاب میں 30اپریل کو انتخابات کے انعقاد کے اعلان کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے جہاں مریم نواز مختلف ڈویژنز میں تنظیمی اجلاسوں سے خطاب کر رہی ہیں وہیں پیپلز پارٹی نے بھی کارنرز میٹنگ کا آغاز کر دیا ہے جبکہ تحریک انصاف بھی 8مارچ سے لاہور میں ریلی منعقد کر کے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہی ہے تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن میں جیت میں جہاں موثر انتخابی مہم ناگزیر ہوتی ہے وہیں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کس پارٹی سے کون سا امیدوار میدان میں ہے اور اس کی ساکھ کیا ہے۔عام انتخابات میں سب سے کٹھن مرحلہ امیدواروں کو ٹکٹ دیئے جانے کا ہوتا ہے۔ن لیگ میں جہاں ٹکٹوں کی تقسیم بارے مشاورت جاری ہے وہیں دوسری طرف تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کے تمام اختیارات عمران خان نے اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات صدر کی دی گئی تاریخ پر ہوتے ہیں تو ان عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم ایک دلچسپ مرحلہ ہوگا اور اس مرتبہ یہ کسی بھی طرح پرانے روایتی طریقے سے نہیں ہوگا کیوں گیم کے رُولز بدل چکے ہیں۔مسلم لیگ ن نے مریم نواز کو پارٹی کا چیف آرگنائزر مقرر کر دیا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پارٹی کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم میں اب مریم نواز کی رائے بھی بہت اہم ہو گی۔تحریک انصاف میں البتہ صورت حال یہ ہے کہ عمران خان باضابطہ طور پر یہ اعلان کر چکے ہیں وہ اب خود پارٹی ٹکٹ جاری کریں گے اور کسی بھی طرح کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

پنجاب میں مسلم لیگ ن پلان بی کے طور پر ٹکٹوں اور دیگر انتخابی معاملات پر کام شروع کر دیا ہے۔پارٹی کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ ویسے تو ہمیں 30 اپریل کو انتخابات نظر نہیں آ رہے البتہ پھر میں ہم نے اپنی تیاری پلان بی کے طور پر شروع کر رکھی ہے۔ اور ایسے حلقے جہاں مسلم لیگ ن کی جیت یقینی ہے اور وہ امیدوار جن کا اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ ہے، ان کے نام فائنل ہو چکے ہیں۔ جو حلقے واضح نہیں ہیں، ان پر پارٹی کا پارلیمانی بورڈ فیصلہ کرے گا، وہ پراسیس تھوڑا لمبا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں کہ جن ایم پی ایز نے تحریکِ انصاف سے وفاداریاں بدلی تھیں۔ کیا انہیں بھی ٹکٹ مل رہے ہیں؟ لیگی رہنما نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کو ٹکٹ ملیں گے جیسا کہ لاہور میں اسد کھوکھر نے ضمنی انتخابات میں اپنا لوہا منوایا تھا۔ اسی طرح کچھ اور امیدواروں کو بھی ٹکٹ دیا جائے گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ اکثر امیدوار جو ضمنی انتخابات میں ہارے تھے، پارٹی کے اندر ان کے لیے بہت زیادہ اپوزیشن ہے۔

سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ن لیگ کا ٹکٹوں کا مرحلہ تھوڑا پیچیدہ ہو گا ’ابھی تو یہ بھی فیصلہ نہیں ہوا کہ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی اکھٹے الیکشن لڑے گی یا بھی راستے جدا ہوں گے۔ اکھٹے ہونے کی صورت میں مسلم لیگ ن کو سینٹر اور اپر پنجاب جہاں ان کا ووٹ بینک زیادہ ہے، وہاں بھی سیٹیں اتحادیوں کو دینا ہوں گی۔ لیکن ابھی یہ قبل از وقت ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ٹکٹ کا حتمی فیصلہ تو نواز شریف ہی کریں گے البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ٹکٹ کے امیدواروں کی مراد نہ پوری ہونے پر وہ کس حد تک نقصان پارٹی کے خلاف جا سکتے ہیں تو یہ پارٹ آف گیم ہے اور یہ ہر پارٹی میں ایک حد تک ہوتا ہی ہے۔

مسلم لیگ ن کی پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری نے بتایا کہ ’ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے مسلم لیگ ن کا ایک بورڈ ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔ اور کوشش کی جاتی ہے بہترین امیدواروں کا انتخاب کیا جائے۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ اگر الیکشن کمیشن شیڈول جاری کرتا ہے تو اس کے بعد ٹکٹوں کی تقسیم اور دیگر معاملات شروع کیے جائیں گے۔

دوسری جانب چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ اس بار وہ امیدواروں کا انتخاب خود کریں گے۔ کیا عملی طور پر پارٹی کے اندر ایسا کرنا ممکن ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے یہ تھوڑا مشکل کام ہو گا۔ خاص طور پر جب چوہدری پرویز الٰہی بھی اب باضابطہ طور پر پارٹی میں آ چکے ہیں اور بھی بڑے بڑے نام ہیں پارٹی میں۔ لیکن جیسا کہ عمران خان کا اپنا ایک انداز ہے کہ وہ کسی بھی بات پر ڈٹ جاتے ہیں۔ اب ان کو اس بات کا بھی ادراک ہے کہ وہ بہت زیادہ مقبول ہیں، جس کو بھی ٹکٹ دیں گے وہ جیت جائے گا۔ میرا خیال ہے وہ مکمل تو نہیں بڑی حد تک امیدواروں کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ برس ہونے پنجاب میں 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات نے پی ٹی آئی نے 15 جیتی تھیں۔ان تمام حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کا مقابلہ سابقہ امیدواروں سے تھا جو ن لیگ کے ٹکٹ پر تھے۔

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ٹکٹس تحریک انصاف کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اور نہ پارٹی کے اندر اس بات پر کوئی بحث ہو گی۔ سب کو پتا ہے کہ عمران خان کسی کھمبے کو بھی ٹکٹ دیں گے تو وہ جیت جائے گا۔ اور یہ محض بیان نہیں ہے اس کا عملی مظاہرہ پچھلے سال سے جاری ہے۔‘انہوں نے بتایا کہ ’تحریک انصاف نے سیاست کی گیم ٹوٹل بدل دی ہے۔ الیکٹ ایبلز کون ہوتے ہیں لوگ بھول جائیں گے۔ پی ٹی آئی اس وقت ملک کی مقبول ترین جماعت ہے۔ جس کو ٹکٹ نہیں ملے گا۔ اس کے پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ پارٹی کے لیے ہی کام کرے کیونکہ عوام کا مزاج اس بار سب کو پتا ہے۔

”پاپارازی“ سیف اور کرینہ کے بیڈ روم میں کیسے گھس گئے؟

Back to top button