ایم این اے  صدف احسان کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پرنوٹس جاری

سپریم کورٹ نے خواتین کی مخصوص نشست پر یو آئی کی   صدف یاسمین کے بجائے صدف احسان کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پرنوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن، اٹارنی جنرل اور صدف احسان سے جواب طلب کرلیا۔

وکیل کامران مرتضیٰ کادلائل میں کہنا تھاکہ جے یو آئی کی طرف سے مخصوص نشست پر امیدوار صدف یاسمین تھی۔الیکشن کمیشن نے صدف احسان کا نو ٹیفکیشن جاری کردیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کئے بغیر دلائل کیسے سن سکتے ہیں۔وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ

ایک اجنبی شخص جے یو آئی کی نشست پر ایوان میں بیٹھا ہوا ہے۔جے یو آئی نے صدف احسان کا نام تجویز بھی نہیں کیا۔

جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی کی فہرست میں صدف احسان کا نام ہے۔

جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دیے کہ صدف احسان اپنا پارٹی ٹکٹ دکھا دیں ہم حاضر ہیں۔فاضل جج نے کہا کہ ہائیکورٹ فیصلے کی تفصیلی وجوہات بھی تاحال نہیں آئیں۔

وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صرف نوٹیفکیشن معطل کیا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن، اٹارنی جنرل اور صدف احسان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

Back to top button