جگنو محسن نے پارٹی ورکر کو MPA کا ٹکٹ کیوں دیا؟

15 سال قبل 2008 میں مچلز فروٹ فارم کے چیئرمین سید محسن کرمانی نے اپنی بیٹی اور معروف خاتون صحافی جگنو محسن کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقے واپس آ کر اپنے لوگوں کو وقت دیں، جگنو محسن کا خاندان پاکستان کے امیر اور زمیندار گھرانوں میں شمار ہوتا ہے، انہوں نے اپنے والد کے کہنے پر اپنے آبائی حلقے اوکاڑہ، شیر گڑھ کا رخ کیا اور آج تک اسی حلقے میں سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، اوکاڑہ میں ان کے جد امجد مدفون ہیں اور ان کا خاندان یہاں پانچ صدیوں سے مقیم ہے۔ماضی میں مسلم لیگ ن کا حصہ رہنے والی جگنو محسن اوکاڑہ این اے 137 سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار سید رضا علی گیلانی کو سپورٹ کر رہی ہیں، جگنو محسن خود بطور آزاد امیدوار گزشتہ انتخابات میں سید رضا علی گیلانی کو شکست دے چکی ہیں، جبکہ اس بار ان کے مطابق انہوں نے اپنی جیتی ہوئی سیٹ پر ایک ورکر کو انتخابات میں کھڑا کیا ہے۔جگنو محسن نے ’’اُردو نیوز‘‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس بار عام انتخابات میں کارکن کے کاغذات جمع کرائے تھے۔ ان کے بقول ’ میں خود جمہوریت پسند ہوں اس لیے میں نے رائے مشتاق کھرل کے لیے پی پی 186 سے ان کے کاغذات جمع کرائے۔ جگنو محسن گزشتہ کئی مہینوں سے رائے مشتاق کھرل کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔ ایک عام سیاسی ورکر اور کارکن کو جیتی ہوئی نشست پر کھڑے کرنے کی وجہ دریافت کرنے پر جگنو محسن نے بتایا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے اور عوام کو طاقت دینے کے تناظر میں کیا۔اس حوالے سے اوکاڑہ پریس کلب کے صدر شہباز شاہین بتاتے ہیں کہ جگنو محسن کا یہ اقدام قابل تحسین ہے لیکن کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ’دراصل اس حلقے سے عاشق کرمانی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے حقدار قرار پائے ہیں،ان کا شریف فیملی میں بڑا اثر و رسوخ ہے اور یہ تو پہلے سے ہی طے تھا کہ ٹکٹ انہیں ہی ملے گا۔جگنو محسن خود آزاد حیثیت سے انتخابات لڑ چکی ہیں، وہ سیاست میں آنے کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ 2013 میں میاں محمد نواز شریف نے انہیں کہا کہ وہ سیاست میں آئے۔ صوبائی اسمبلی پہنچنے کے بعد ان کو کئی بار مختلف نوعیت کے امتحان سے گزرنا پڑا، ایک وقت میں جب پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی تو انہیں حمزہ شہباز کی حمایت کرنا پڑی اور وہ مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئیں، ان کے بقول ’ہم نواز شریف کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں اس لیے ہم نے ان کے کہنے پر حمزہ شہباز کا ساتھ دیا لیکن بدقسمتی سے وہ حکومت بھی نہ چل سکی۔‘ اس وقت وہ اپنے حلقے سے ایک کارکن کے لیے مہم چلا رہی ہیں لیکن اسی کے ساتھ ساتھ 2018 میں رضا علی گیلانی کو ہرانے کے باوجود انہیں بھی سپورٹ کر رہی ہیں۔ پتر پال سکیم کے حوالے سے اوکاڑہ پریس کلب کے صدر اور صحافی شہباز شاہین بتاتے ہیں کہ اس سے مراد موروثی سیاست ہے جو پاکستانی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ ’تقریبا تمام سیاسی جماعتیں موروثی سیاست کا شکار ہیں۔ جگنو محسن اس ’پتر پال سکیم‘ کے خلاف جاتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سید رضا علی گیلانی کو سپورٹ کر رہی ہیں اور لوگوں سے ان کے لیے ووٹ بھی مانگ رہی ہیں۔ ’’اردو نیوز‘‘ نے جگنو محسن سے اس حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’خواجہ آصف کو منافقت کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ یہ وہی خواجہ آصف ہیں جو فوج مخالف بیانات دیتے تھے اور پھر نواز شریف کے وژن کے برعکس ایکسٹینشن دیتے رہے۔ انہوں نے تو خود نواز شریف کی حکم عدولی کی ہے۔شہباز شاہین کے بقول ’سید رضا علی گیلانی نے انہیں بتا دیا ہے کہ وہ صوبائی نشست پر ان کی سپورٹ نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود جگنو محسن ان کے لیے ووٹ مانگ رہی ہیں۔

Back to top button