الیکشن کے بعد نواز شریف کاوزیر اعظم بننا یقینی کیوں؟

پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے۔ کون سی جماعت حکومت بنائے گی اورمستقبل کے وزیرِ اعظم کون ہوں گے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم ملک بھر میں ہونے والھ مختلف سرویز میں نواز شریف کو وزیرِاعظم کے عہدے کیلئے پسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ان کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کی پیش گوئیاں بھی کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ اور تھنک ٹینک نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف چوتھی بار پاکستان کے وزیراعظم بننے جارہےہیں جو بانی تحریک انصاف عمران خان سے بہتر وزیر اعظم ہوں گے۔
برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد ہے کہ نواز شریف ملک کومعاشی بھنور سے نکال سکتے ہیں.دی گارجین نے سیاسی تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف امریکہ، چین اور بھارت کے ساتھ تعلقات دوبارہ بہتر بناسکتے ہیں جنہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دور میں بری طرح نقصان پہنچا۔
دی گارجین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ان کی توجہ روزگار دلانے اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانے پر رہی۔ نواز شریف کے اہم وعدے معیشت پر مرکوز اور بھارت کو امن کا پیغام پیش کرتے ہیں۔
اخبار کے مطابق جمعرات کے انتخابات کے بعد جس شخص سے بڑے پیمانے پر اگلا وزیر اعظم بننے کی توقع کی جا رہی ہے وہ تقریباً چار عشروں سے پاکستانی سیاست کے جانے پہچانے چہرے ہیں۔ تین بار سابق وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف اب چوتھی معیاد کے لیے پر امید ہیں۔ نواز شریف کی جلد واپسی پر ان لوگوں کو راحت ملی ہے جو سمجھتے ہیں کہ نوازشریف پاکستان کو طویل عرصے سے جاری معاشی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی توجہ روزگار دلانے اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانے پر رہی ہے۔
دوسری جانب برطانوی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ نواز شریف عمران خان سے کہیں بہتر وزیر اعظم ثابت ہوں گے. پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے، سلامتی کو بہتر بنانے اور افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کےلیے انہیں مکمل پانچ سال کی مدت کی اشد ضرورت ہے۔ نواز شریف ایک کاروباری شخص ہیں جو مارکیٹوں اور پاکستان کے قرض دہندگان کو ساتھ رکھنے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ نواز شریف کے جراتمندانہ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی متبادل نہیں بچا ۔
برطانوی تھنک ٹینک نے معیشت اور بیرونی ممالک سے تعلقات میں بہتری کے لیے نواز شریف کے لیے پانچ سال کی مدت کو ضروری قرار دیا۔ نواز شریف تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں،وہ چین اور امریکا کے درمیان خارجہ پالیسی کے مفادات کو متوازن کرنے میں تجربہ کار اور ماہر ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے لکھا گیا کہ نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے خواہاں ہیں۔ ان کے جنونی حامیوں کے نزدیک نواز لیگ ان انتخابات میں فتح کےلئے سب سے زیادہ فیورٹ ہے۔اخبار نے شہریوں کے حوالے سے لکھا کہ ان کا کہنا ہےکہ ہم نواز شریف کو چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں معاشی بحران کا سامنا ہے اور جب بھی شریف اقتدار میں آئے ہیں وہ پاکستان میں استحکام لائے،ملک کے حالات بہت خراب ہیں اور انہیں یقین ہے کہ صرف نواز شریف کی پارٹی ہی سنبھال سکتی ہے۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اخبار نے سیاسی تجزیہ کار ابصار عالم کے حوالے سے لکھا کہ اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ ملک کومعاشی بحران سے نکالنے کے لیے نواز شریف کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کا معاشی ریکارڈ بہتر ہے۔ وہ انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور استحکام کے لیے جانے جاتے ہیں۔ پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف، جو کبھی بھی مکمل مدت تک نہیں دیکھ سکے۔ جمعرات کے انتخابات میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی واپسی کی نہج پرہیں۔مسلم لیگ نواز کو فتح کی طرف جانے اور24کروڑ لوگوں پر مشتمل جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی ایک بار پھر ذمہ داری سنبھالنے کے لیے نواز شریف کو سب سے زیادہ فیورٹ قرار دیا جارہا ہے۔توقع ہے کہ مسلم لیگ کی پنجاب اور وفاق میں فتح کے بعد، نواز بلاول بھٹو کو ممکنہ طور پر وزیر خارجہ کے طور پراتحاد میں جگہ پیش کریں گے جیسا کہ وہ شہباز کے ماتحت تھے تاہم لگتا یہی ہے کہ بلاول بھٹو یہ آفر
قبول نہیں کرینگے۔
