’’مغل اعظم اکبر کے علاقے میں کونسی جماعت کا پلڑا بھاری‘‘

برصغیر پاک و ہند کے مشہور مغل بادشاہ جلال الدین اکبر (اکبراعظم) کے علاقے تھرپارکر کے ضلع عمر کوٹ میں پیپلزپارٹی پوری طرح متحرک ہے جس نے اپنے تین دہائیوں سے آزمائے امیدوار نواب یوسف تالپور کو میدان میں اتارا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی ہی ایک بار پھر اس علاقے سے کامیاب ہوگی یا پی پی پی مخالف اتحاد اس بار جیت سمیٹے گا؟ سندھ کے علاقے عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے نواب یوسف تالپور پچھلے چھ انتخابات سے اس حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں، ان کا تعلق سندھ کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے، 1993 سے عمر کوٹ کی قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوتے آ رہے ہیں۔ انہیں اپنے سیاسی سفر میں ایک بار 1997 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے بعد سے اب تک وہ اس حلقے سے کامیاب ہوتے آ رہے ہیں۔نواب یوسف تالپور عمر کوٹ کے حلقہ این اے 213 سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں، طبیعت کی ناسازی اور چلنے پھرنے سے قاصر نواب یوسف تالپور اپنے علاقے کی عوام کی خدمت کیلئے آج بھی فرنٹ پر لیڈ کرتے ہیں، علاقے میں پانی کے مسائل ہوں یا ترقیاتی کام سمیت دیگر مسائل ہوں نواب یوسف تالپور ان کے حل کیلئے ہر فورم پر ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔پاکستان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے ویل چیئر پر اسلام آباد قومی اسمبلی پہنچنے والے یوسف تالپور ہی تھے، 2024 کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پیپلزپارٹی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا، نواب یوسف تالپور کی پارٹی اس وقت عمر کوٹ اور اطراف کے علاقوں میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور عوام کی خدمت کیلئے میدان عمل میں ہیں، عمرکوٹ کی ایک اپنی تاریخی حیثیت ہے، یہاں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگ امن، سکون اور ملنساری کے ساتھ رہتے ہیں، یہاں رہنے والوں کے مسائل بھی ایک ہے اور ان کے حل کے لیے سب مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔عمر کوٹ میں ایک قومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہیں، پی ایس 49 پیٹارو اور سمارو، پی ایس 50 عمر کوٹ 2 اور پی ایس 51 کنری۔ یہ علاقہ پیپلزپارٹی کے چاہنے والے جیالوں کا علاقہ ہے، یہاں پیپلزپارٹی کامیاب ہوتی آئی ہے اور اس بار بھی پوری اُمید ہے کہ اچھے ووٹوں سے کامیاب ہونگے۔عمر کوٹ مشہور مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی جائے پیدائش کی وجہ سے اکبر اعظم کا علاقہ کہلاتا ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق علاقے میں ہندو اور مسلم دونوں ہی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ ضلع میں کل ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 89 ہزار 350 ہے۔ مرد ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار 921 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 78 ہزار 379 ہے۔حلقہ این اے 213 سے 19 امیدوار میدان میں ہے، اس علاقے میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نواب یوسف تالپور، پاکستان مسلم ن کے ٹکٹ پر میر امان اللہ تالپور الیکشن جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے لعل چند ملہی بھی اس سیٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نواب یوسف تالپور اس حلقے سے ایک لاکھ 62 ہزار 979 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 58 ہزار 712 ووٹ سے شکست دی تھی، پی ٹی آئی کے امیدوار ایک لاکھ 4

الیکشن کے بعد نواز شریف کاوزیر اعظم بننا یقینی کیوں؟

ہزار 267 ووٹر لے کر دوسرے نمبر تھے۔

Back to top button