مونس الٰہی اپنے والد کو مشکل میں تنہا کیوں چھوڑ گئے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کی جانب سے مشکل وقت میں اپنے والد کو چھوڑ کر بیرون ملک چلے جانے پر نہ صرف عمران خان پریشان ہیں بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ مونس الٰہی دس روز پہلے ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اپنے تین دوستوں کے ہمراہ سپین روانہ ہوئے تھے جس کے بعد ان کے مخالفین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ بھاری مقدار میں ڈالرز اور سونا لے کر نکل گے ہیں اور اب لمبے عرصے تک واپس نہیں آئیں گے۔ اس دوران ان کے مبینہ فرنٹ مین اور قریبی دوست احمد فاران خان کو بھی ایک نامعلوم ایجنسی نے اغوا کر لیا تھا اور چار روز اپنی تحویل میں رکھا۔ مونس الٰہی نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے دوست کو دباؤ ڈالنے کے لیے اغوا کیا گیا ہے لیکن میں پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا خاندان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم پی ڈی ایم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تاہم اس وقت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی مونس کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کر رہے ہیں اور انہیں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا بھی ممکن نظر نہیں آ رہا، ایسے میں وہ مونس الٰہی کی کمی شدت سے محسوس کر رہے ہیں لیکن ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی مونس کی فوری واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
گورنر پنجاب کی جانب سے چودھری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم دیئے جانے کے بعد سے پنجاب میں سیاسی فریقین کی جانب سے داؤ پیچ جاری ہیں، عمران خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد گورنر نے پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا تھا اور ان کے انکار پر وزیراعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی کردیا گیا تھا لیکن لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی سے اسمبلی نہ توڑنے کی یقین دہانی حاصل کرنے کے عوض انہیں عارضی طور پر عہدے پر بحال کر دیا تھا۔ یوں اپوزیشن کی سیاسی چال نے پنجاب اسمبلی کو وقتی طور پر تحلیل ہونے سے روک دیا جبکہ تحریک انصاف کے اتحادی وزیراعلٰی پرویز الٰہی خود بھی اسمبلی توڑ کر اپنی وزارت عالی گنوانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
لاہور میں عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ آج کل سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ وہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو پرویز الٰہی کی جانب سے اربوں روپے کی ہیرا پھیری کی شکایات پر نالاں ہے لیکن مجبوری میں خاموش ہیں اور اپنے پارٹی رہنماؤں کو بھی پرویز الٰہی کے خلاف بیان دینے سے روک رکھا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی ڈیل مونس کے ساتھ ہوئی تھی لہٰذا وہ ان کی واپسی تک کوئی سخت بات نہیں کرنا چاہتے۔ عمران خان نے یہ ہدایت تب دی جب پارٹی رہنما اعجاز چوہدری نے پرویز الٰہی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر کرپشن اور دھوکہ دہی کے الزامات لگائے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے قضیے میں مونس الٰہی سیاسی منظرنامے سے غائب ہیں اور ان کا ٹوئٹر اکاونٹ بھی خاموش ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی کچھ تصاویر بھی وائرل ہوئیں جن میں وہ ایک پرائیویٹ طیارے میں کچھ لوگوں کے ہمراہ ہنسی خوشی سپین روانہ ہو رہے ہیں۔ اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ سپین سے لندن روانہ ہوچکے ہیں لیکن گرفتاری کے خوف سے ان کا فوری وطن واپسی کا امکان نہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ ق کے ترجمان کے مطابق مونس الٰہی نجی دورے پر ملک سے باہر ہیں اور وہ جلد واپس آئیں گے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مونس ایسے وقت میں ملک سے باہر گے ہیں جب ایک طرف سیاسی محاذ گرم ہے اور ان کے والد کی وزارت اعلی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ پرویز الہی کو اپنے بیٹے مونس الہی کا یرغمالی بھی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ذاتی طور پر عمران خان پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا خیال ہے کہ اسمبلی تڑوانے کے بعد وہ انہیں مکمل طور پر فارغ کر دیں گے۔ لیکن وہ اپنے بیٹے کے ہاتھوں مجبور ہیں اور پی ڈی ایم کی جانب جانے سے گریزاں ہیں جو انہیں اپنا اتحادی بننے کے عوض سپیکر شپ آفر کر رہی ہے۔
اس دوران پرویز الٰہی پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایف آئی اے ایک مرتبہ پھر منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور پرویز الٰہی اور انکی دوسری اہلیہ سمیت چھ قریبی افراد کو دوسری مرتبہ پیشی کے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ مونس الہی کی اہلیہ اور ان کے بھائی راسخ الہی اور ان کی اہلیہ کے نام بھی ای سی ایل پر ڈال دیا گیا ہیں۔ق لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا کہ مونس اپنے والد کو مشکل میں چھوڑ کر بلا وجہ باہر نکل جائیں۔ ان کے مطابق یہ بھی ممکن نھیں کہ اتنے اہم موقعے پر مونس الٰہی اپنے والد کی مشاورت کے بغیر منظر نامے سے غائب ہوئے ہوں۔ ان کے خیال میں مونس الٰہی اپنے والد کی مشاورت سے ہی بیرون ملک گئے ہیں اور ضرور کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ انکے مطابق کس وقت کیا کرنا ہے، یہ کام گجرات کے چوہدریوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پرویز الٰہی کسی بھی صورت اپنی حکومت ختم کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ویسے بھی عمران خان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ مونس الٰہی کی ہے، ان کے والد کی نہیں، ماضی میں جو بھی سیاسی بندوبست ہوا تھا وہ مونس اور عمران خان کے درمیان تھا اس لیے کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پرویز الٰہی نے برخوردار کو منظر سے ہٹا کر معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں جس کا بنیادی مقصد پنجاب اسمبلی بچا کر اپنا اقتدار برقرار رکھنا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کب کہتی ہے؟
قومی اداروں کی توہین کیس میں سپریم کورٹ کا وکیل پر اظہار برہمی
