MQMکا بھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا اعلان

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ایم کیوایم پاکستان کے مرکزی رہنماء خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کیا لاپتا ساتھیوں کی بازیابی کا مطالبہ غیرآئینی، غیراسلامی ہے، ہمارے دفاترز بند ہیں، پیغام دیا گیا کہ پاکستان کی سرکاری نوکریوں پر کراچی کا حق نہیں،مردم شماری کے فیصلے پر ایم کیو ایم کے وزیر نے کابینہ میں احتجاجاً اختلافی نوٹ بھی لکھا۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم سے کہا گیا آپ کی کابینہ میں موجودگی حکومت اورجمہوریت کو مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔ لیکن ہمارے دفاترز بند ہیں، یہ مطالبہ بھی ہم نے پہلا نہیں رکھا۔ ہم نے مردم شماری کے مطالبے کو لاپتا افراد کے مطالبے پر فوقیت دی۔ کیا اپنے لاپتا ساتھیوں کی بازیابی کا مطالبہ غیرآئینی اور غیراسلامی ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کو چلانے والے شہر کی آبادی صحیح نہیں گنی گئی۔
کابینہ میں جس وقت فیصلہ ہوا، ایم کیو ایم کے وزیر نے شدید احتجاج کیا، اختلافی نوٹ لکھا۔ سندھ کے شہری علاقوں کو پیغام دیا گیا کہ پاکستان کی سرکاری نوکریوں پر کراچی کا حق نہیں۔ مردم شماری میں ووٹرز اور شناختی کارڈ اڑھائی کروڑ جاری ہوئے جبکہ آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ دکھائی گئی۔ کراچی سے منتخب ہونے والے باقی لوگ کہاں ہیں؟ کراچی میں کئی ایسے بلاکس موجود ہیں جہاں ووٹر موجود ہیں مگر آبادی صفر دکھائی گئی۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت بتائے کہ تمام آئینی آپشن کے بعد بھی کیوں فیصلے نہیں کیے جارہے۔ پچھلی مردم شماری آٹھ سال تاخیر سے ہوئی اب مردم شماری آٹھ سال قبل کرلی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے ذریعے عوام کو دھوکا دیا گیا تھا۔ 18 ویں ترمیم کے نتیجے میں سب سے بڑا نشانہ سندھ کے شہری علاقے ہیں۔ یہ شہر آہستہ آہستہ ایک دیہات کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ شہر سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا پیسا دیتا ہے، سڑکیں کہیں اور بن رہی ہیں۔ شہر پانی کا ٹیکس دیتا ہے، پانی نہیں ملتا، صفائی کا پیسا دیتا ہے صفائی نہیں ہوتی۔
