ناصر بٹ نے جج ارشد ملک کی خفیہ ویڈیو کیسے بنائی؟

پاکستان مسلم لیگ ن لندن کے رہنما اور نواز شریف کے قریبی ساتھی ناصر بٹ نے کہا ہے کہ انہوں نے احتساب عدالت کے جج مرحوم ارشد ملک کی ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے بتائے نکات کو یاد رکھنے کے لیے بنائی تھی مگر ان کے انکشافات اتنے بڑے تھے کہ بعد میں اس سچ کو سامنے لانے کے لیے ویڈیو دکھانا پڑی۔

وی نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ناصر بٹ نے بتایا کہ نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا ان کے بڑے بھائی مرحوم عارف بٹ سے تعلق تھا تو نواز شریف کو سزا کے بعد اسلام آباد میں ان سے کچھ مشترکہ دوستوں کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔ ناصر بٹ کے مطابق جج ارشد ملک نواز شریف کو سزا دینے پر خاصے نادم تھے اور بتاتے تھے کہ وہ راتوں کو بے سکونی کی وجہ سے سو نہیں سکتے۔” جج صاحب دوستوں کے ساتھ بیٹھتے تھے تو کہا کرتے کہ نواز شریف کو سزا دینا نہیں چاہتا تھا۔ ایجنسیوں نے مجبور کیا۔ اب میرا دل کرتا ہے کہ نواز شریف سے مل کر ان کو بتاؤں کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ میں نے میاں صاحب کو بتایا تو وہ ہچکچائے کہ جنہوں نے میرے ساتھ زیادتی کی اور سزا سنائی میں اب ان سے کیا ملوں۔ وہ سکون کے لیے اللہ سے معافی مانگیں۔ “تاہم نواز شریف بیماری کی وجہ سے چند دن کی ضمانت پر گھر آئے تو ناصر بٹ نے انہیں پھرکہا کہ جج ارشد ملک سے اب مل لیں تو وہ مان گئے۔ اس طرح پھر رائیونڈ میں دونوں کی ملاقات ہوئی۔

نواز شریف سے جج ارشد ملک کی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے ناصر بٹ نے کہا کہ جج ارشد ملک خاصے نادم تھے۔ انہوں نے قائد ن لیگ کو کہا کہ اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے مجھ پر دباؤ ڈالا کہ ملک حالت جنگ میں ہے اور تم نے سزا دینی ہے۔’ میں کہتا تھا کہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے میں کیسے سزا دوں اس پر پھر یہی کہا جاتا تھا کہ ملک حالت جنگ میں ہے تم نے سزا دینی ہے‘۔ ناصر بٹ کے مطابق نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں ارشد ملک نے کہا کہ اُس وقت کے سپریم کورٹ کے ججز انہیں ہر تیسرے دن بلا لیتے تھے اور قرآن پر حلف بھی لیا کہ کہیں کچھ اور نہ کرنا بلکہ نواز شریف کو سزا لازمی دینا۔

ناصر بٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے نواز شریف کو یہ بھی بتایا کہ میں مجبور تھا مجھے کچھ لوگوں نے ایک دفعہ ایک میری پرانی ویڈیو دکھائی تو وہ دیکھ کر دل کرتا تھا کہ خودکشی کر لوں۔ پھر اس کے بعد میں بلیک میل ہوا اور سزا پر مبنی فیصلہ سنایا۔اس سوال پر کہ ارشد ملک کے انکشافات کو سُن کر سابق وزیراعظم نواز شریف کا کیا ردعمل تھا، ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اس کے ساتھ میٹنگ میں بیٹھنا نہیں چاہتے تھے مگر میرے اصرار پر جب ملاقات ہوئی تو نواز شریف نے خاموشی سے اس کی بات سنی۔ میں بھی حیران تھا کہ قائد ن لیگ نے جواب میں ایک بات بھی نہیں کی۔’واپسی پر جج ارشد ملک نے مجھے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ میں نے اتنی زیادتی کی مگر انہوں نے ایک بات بھی میرے ساتھ غصے میں نہیں کی کہ یہ تم نے کیا کِیا۔ تو یار میں بڑا پریشان ہوں۔ پھر ان کا کہنا تھا کہ کچھ دن بعد میرے پاس آنا میں آپ کو کچھ پوائنٹس بتاؤں گا فیصلے کے مطابق جو آپ ہائی کورٹ میں اٹھائیں تو نواز شریف کو فائدہ ہو گا‘۔

ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے ملاقات کے دوسرے تیسرے دن جج ارشد ملک نے کہا کہ آپ میرے پاس آئیں کچھ اہم نکات آپ کو بتانے ہیں جو بہت اچھے ہیں اور ان سے نواز شریف کی سزا فوراً ختم ہو جائے گی۔ مجھے انہوں نے ملاقات کی جو جگہ بتائی تھی وہاں جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ انہوں نے فون کیا کہ آپ ایسا کریں میرے گھر ہی آجائیں میں گاڑی بھیج رہا ہوں اس کو فالو کر کے آجائیں۔

’میں ان کے گھر پہنچا تو اسسٹنٹ بھی میرے ساتھ تھا اس کو میں نے کہا کہ تم ’موبائل پر‘ ویڈیو آن کر لو۔ میرے ذہن میں تھا کہ شاید میں کچھ بھول جاؤں تو دوبارہ ویڈیو ریوائنڈ کر کے دیکھ لوں گا۔ جب ان کے گھر گئے تو میرے اسسٹنٹ نے ویڈیو آن کر لی میرے پاس جو فون تھا اس پر میں نے آڈیو آن کر لی۔ جب وہاں جا کر بیٹھے تو ارشد ملک نے کچھ ایسی باتیں بتائیں کہ دنیا کو بتانا پڑیں کہ نواز شریف کو سزا کیسے ہوئی؟ جج ارشد ملک نے سزا کیوں دی؟ بس پھر اس ویڈیو کو لے کر مریم نوازنے پریس کانفرنس کر دی‘۔

اس سوال پر کہ کیا جج ارشد ملک کو پتا تھا کہ ان کی ویڈیو بن رہی ہے، ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ جج صاحب کو نہیں پتا تھا وہ تو مجھے پوائنٹس لکھوا رہے تھے اور میرا بھی کوئی ارادہ نہیں تھا کہ ویڈیو بعد میں اس طرح استعمال ہو گی۔ میرا ویڈیو بنانے کا مقصد ان کی باتوں کو یاد رکھنا تھا۔ لیکن جب ویڈیو ریکارڈ ہو گئی تو پتا چلا اتنے بڑے انکشافات ہیں۔

ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ ویڈیو بنانے کا نواز شریف کو پہلے علم نہیں تھا نہ ان کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت تھی بلکہ جب ویڈیو ریکارڈ ہو گئی تو میاں نواز شریف کو ملا ۔انہوں نے اگلے دن جیل جانا تھا تو افطاری میں نے قائد ن لیگ کے ساتھ ہی کرنی تھی۔ جب میں ان کے پاس گیا تو بتایا کہ میاں صاحب یہ ویڈیو آپ کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔انہوں نے ویڈیو دیکھ کرکہا یہ آپ نے کیسے بنائی؟ میں نے کہا انہوں نے مجھے کچھ پوائنٹس بتانے تھے تو وہاں پر ویڈیو بنائی۔ وہ ویڈیو پھر مریم نواز نے بھی دیکھی اور جب نواز شریف جیل چلے گئے تو انہوں نے پریس کانفرنس کر دی۔

ناصر بٹ نے بتایا کہ حال ہی میں ایک ٹی وی چینل کے خلاف ان کے کیس میں لندن ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ انہوں نے ویڈیو بنا کر کوئی جرم نہیں کیا۔ سچائی سامنے لانے کے لیے ویڈیو بنائی گئی تھی۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد جج ارشد ملک نے پریس ریلیز اور بیان حلفی دیا تھا جس میں انھوں نے مریم نواز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی اور ناصر بٹ پر بلیک میلنگ اور رشوت کی پیش کش کا الزام لگا دیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود ارشد ملک کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

ناصر بٹ کا کہنا تھا مریم نواز کی پریس کانفرنس کے بعد ان کی ارشد ملک سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ایجنسیوں کے کہنے پر جج ارشد ملک نے ان پر الزامات لگائے اور ایف آئی آر بھی کٹ گئی تھی۔ لیکن بعد میں لاہور ہائی کورٹ نےجج ارشد ملک کی درخواست پر کہا کہ آپ کوئی ایسی چیز ثابت نہیں کر سکے کہ ناصر بٹ نے آپ کو رشوت دی ہے یا ڈرایا دھمکایا ہے لہٰذا آپ کے الزامات غلط ہیں۔ پھر ان کو نوکری سے بھی نکال دیا گیا۔ اس کے

گلگت بلتستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کیلئے شیڈول جاری

بعد وہ ایک بیماری کے بعد انتقال کر گئے۔

Back to top button