مولانا فضل الرحمٰن، نواز شریف سے ناراض ہو گئے

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دبئی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں پر ناراضی کا اظہار کر دیا۔ پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2 بڑی حکومتی اتحادی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ’شیڈول‘ ملاقات کے حوالے سے حکومتی اتحاد میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پی ڈی ایم کا حصہ ہے، حیرت ہے پی ڈی ایم کو پیپلز پارٹی کے ساتھ ملاقات کے بارے میں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا جو کہ پی ڈی ایم اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔گزشتہ سال اپریل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بارے میں بات کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ ان کی پارٹی تحریک عدم اعتماد کے خلاف تھی جبکہ پی ٹی آئی حکومت کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے کی حامی تھی۔تاہم پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان سے ملاقات میں سینیٹ کی رکنیت اور چیئرمین شپ کی پیشکش کی جسے انہوں نے مسترد کردیا جب کہ سابق جنرل ’نظام کے اندر تبدیلی چاہتے تھے۔
مولانا کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی مدت ایک ماہ میں ختم ہو جائے گی اور انتخابات سے قبل نگران سیٹ اَپ مقرر کیا جائے گا۔بظاہر پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے امید ظاہر کی کہ ’قوم ملک کو تباہی کی طرف نہیں دھکیلے گی۔‘سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست کو ختم ہو رہی ہے اور رواں سال اکتوبر میں انتخابات کرانا ضروری ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ صرف پارلیمنٹ قومی اسمبلی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کوئی سیاسی اتحاد نہیں ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم اسمبلی کی مدت کے بعد حکومت چھوڑ دے گی، ہمیں انتخابات میں جانا پڑے گا۔
دبئی میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں ہونے والی اہم میٹنگ میں مدعو نہ کرنے پر مولانا فضل الرحمان کے شکوے پر لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ یہ میٹنگ دو بڑی جماعتوں کے درمیان تھی اور ضروری نہیں کہ اس میں ہر شخص شامل ہو۔فضل الرحمان کا حق ہے کہ وہ اپنی تشویش سے آگاہ کریں کیونکہ وہ ہمارے اتحادی ہیں ان کو ضرور اعتماد میں لیا جائیگا، بدقسمتی ہے کہ کوئی ایسا نیوٹرل نہیں جو سب کو ساتھ بٹھا سکے، الیکشن آگے لے کر جانا بہت بڑی غلطی ہوگی ۔ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت الیکشن کروانے یا نہ کروانے کی چوائس نہیں ہے، یہ بدقسمتی ہے کہ الیکشن کے انعقاد پر شک پیدا ہوئے، گزشتہ 4، 5ماہ میں جو کچھ ہوا اس لیے الیکشن کے انعقاد پر شک پیدا ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حکمران اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے دبئی میں اہم مذاکرات ہوئے ہیں، جنہیں پی ڈی ایم کے مذاکرات قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اس میں حکمران اتحاد کی جماعت جے یو آئی کی نمائندگی نہیں تھی اور اس پر قیاس آرائیاں ہو رہی جاری تھیں تاہم اب مولانا فضل الرحمن نے ان مذاکرات میں اتحادی جماعتوں کی عدم شمولیت پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔
دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی میں ہونے والے مذاکرات میں تمام جماعتوں کو شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کا اجلاس یا مذاکرات تھے، بلکہ حکمران اتحاد کی سرکردہ قیادت ہی کی میٹنگ تھی جس میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان براہِ راست شامل نہیں ہوئے بلکہ وہ مشاورتی عمل میں شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات سے پہلے میاں نواز شریف اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی طویل مشاورت اور گفتگو ہوچکی تھی۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری اور جے یو آئی کے قائد کی بھی مشاورت ہوچکی تھی۔ دبئی میں ہونے والے مذاکرات میں نواز شریف اور آصف علی زرداری نے کچھ امور طے کرنا تھے۔ ذرائع کے مطابق اب تینوں رہنماؤں کی پھر سے مشاورت ہوگی جس میں اگلے چند روز میں نگران سیٹ اپ سمیت دیگر امور پر پر بھی مشاورت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف علی ذرداری کی یہ ملاقات الیکشن ’’ٹیسٹر‘‘ میٹنگ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس میٹنگ کا باضابطہ حصہ نہیں بنے۔ وہ ان دونوں قائدین
آئی ایم ایف معاہدے کے بعد فچ نے پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کر دی
سے جماعت کی بنیاد پر الگ الگ ڈیل کیلیے الگ الگ ملاقات کریں گے۔
