نیب کاوسیم اکرم پلس کو حوالات کی سیر کروانے کا فیصلہ

پکے ثبوت ہاتھ لگنے کے بعد وکٹ چھوڑ کر بھاگ جانے والے کپتان کے وسیم اکرم پلس پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے پر قومی احتساب بیورو نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی گرفتاری کے لیے چیئرمین نیب سے وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ عثمان بزدار پر نئے آرڈیننس کا اطلاق کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور نئے نیب آرڈیننس کے تحت سابق وزیراعلیٰ کو دوران انکوائری بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق عثمان بزدار اور ان کے خاندان پر 9 ارب سے زائد اثاثے بنانے کا کیس زیر تفتیش ہے اور ان کے خلاف گندم برآمد کرنے کا کیس بھی زیر تحقیقات ہے۔

تحریک انصاف کے دور حکومت میں پنجاب کے وزیراعلیٰ رہنے والے عثمان بزدار پر پیسے لے کر تقرریوں کا بھی الزام ہے جبکہ وہ مختلف کیسز میں نیب کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں اور انہوں نے عدالتوں سے ضمانتیں بھی حاصل کررکھی ہیں۔عثمان بزدار طلبی کے باوجود 14ویں مرتبہ بھی نیب لاہور پیش نہیں ہوئے۔عثمان بزدار کے وکیل نے نیب کو بتایا کہ عثمان بزدار نیب لاہور میں پیش نہیں ہوسکتے۔ نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل سے جواب وصول کرنے سے انکار کردیا۔

خیال رہے کہ 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد جہاں پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں نے پارٹی کو خیرباد کہا وہیں گزشتہ ماہ 2 جون کو عثمان بزدار نے بھی تحریک انصاف کو چھوڑ کر سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ وہ فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔

عثمان بزدار پی ٹی آئی کے دور حکومت میں تین سال سے زائد عرصے تک وزیراعلیٰ رہے اور پی ٹی آئی میں اکثر ان کی کارکردگی سے متعلق اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہیں لیکن چیئرمین پی ٹی آئی انہیں اپنا وسیم اکرم پلس قرار دیتے تھے۔تاہم عمران خان نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹاکر پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اداروں نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی اربوں روپے کی کرپشن کے پکے ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں اور جلد انکے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پھنسنے والے چند بڑے ناموں نے بزدار کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر رضامندی بھی ظاہر کر دی ہے۔یاد رہے کہ بزدار کے خلاف ان کی وزارت اعلیٰ کے دوران ہی نیب نے کرپشن پر انکوائریوں کا آغاز کردیا تھا لیکن عمران خان کے دباؤ پر یہ انکوائریاں بند کر دی گئیں۔

خیال رہے کہ عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں متعدد بار یہ دعویٰ کیا تھا کہ عثمان بزدار سے اچھا وزیر اعلیٰ پنجاب کو نہیں ملا، اور مل بھی نہیں سکتا۔ صرف یہی نہیں انہوں نے بڑی بھڑک مارتے ہوئے موصوف کو وسیم اکرم پلس تک قرار دیدیا تھا جس پر وسیم اکرم نے بذات خود سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ یہ اور بات کہ عمران خان کے زیر عتاب آنے کے بعد وہ نہ صرف انھیں بلکہ میدان بھی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔

حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ عثمان بزدار کی جانب سے اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران کی جانے والی کرپشن کے ثبوت اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ بزدار اور ان کے فرنٹ مینوں کے خلاف شواہد وزیراعظم شہباز شریف کو بھی دکھا دیئے گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ عثمان بزدار کے پھوپھا امیر تیمور کیخلاف بھی کرپشن اور کک بیکس کے شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں، جب کہ نیب اور محکمہ اینٹی کرپشن نے بھی بزدار کی اربوں روپوں کی انویسٹمنٹ کے شواہد حاصل کر لیے ہیں، جن کی بنیاد پر ان کی گرفتاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے فرنٹ مین کے طور پر محکمہ آبپاشی کے ایکسین عظیم بلوچ کا نام بھی سامنے آیا ہے، جبکہ عثمان بزدارکے سابق اسٹاف افسران کا بزدار اور فرح گوگی کے حوالے سے چشم کشا انکشافات کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے دو فرنٹ مینوں سے اہم شواہد موصول ہوئے ہیں، جن کے ناموں پر بینک اکاؤنٹس ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازہ خان کی تحصیل تونسہ سے تعلق رکھنے والے عثمان بزدار 2018ء میں پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ان کا تعلق بزدار قبیلے سے ہے۔2018 کے عام انتخابات سے قبل انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت اختیار کی، تاہم انتخابات سے قبل خسرو بختیار کی سربراہی میں بننے والا یہ گروپ تحریک انصاف میں ضم ہوگیا۔ سردار عثمان بزدار کے والد سردار فتح محمد خان اپنے قبیلے کے سردار تھے، وہ تین مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہوں نے ایک اسکول میں استاد کی حیثیت سے بھی کام کیا۔عثمان بزدار نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے کر کیا اور 2008 تک مسلم لیگ ق کے تحصیل ناظم رہے۔ 2008 میں انہوں نے مسلم لیگ ق چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن میں حصہ لیا، تاہم وہ ناکام رہے تھے۔ 2018 کے الیکشن کے بعد عثمان بزدار بذریعہ احسن جمیل گجر عمران خان تک پہنچے اور پھر بشریٰ بی بی کی نظر کرم پڑتے ہی انہیں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ بعد ازاں یہ الزامات عائد ہوئے کہ عثمان بزدار صرف نام کے وزیر اعلیٰ تھے جبکہ ان کے اختیارات احسن جمیل گجر اور ان کی اہلیہ فرح گوگی استعمال کیا

بلڈ پریشر کی عام دوا نے کیچووں میں بڑھاپے کو سست کردکھایا

کرتے تھے۔

Back to top button