اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف سے دراصل کیا ڈیل کی ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حذیفہ رحمان نے تصدیق کی ہے کہ نوازشریف سے واقعی اداروں نے ڈیل کی ہے جس کے تحت ان ناانصافیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی جارہی ہےجو نوازشریف کے ساتھ گزشتہ 24سال سے ہوتی آئی ہیں نوازشریف نے چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے سے صاف انکار کردیا تھا۔بار بار انہیں کہا گیا کہ اداروں کو اپنی غلطیوں کا شدت سے احساس ہے اور تمام ادارے اپنی غلطیاں درست کرنا چاہتے ہیں۔آپ کی عزت اور وقار کو دوبارہ بحال کرنا ادارے پر ایک قرض ہے۔مگر اس وقت ملک کو آپکی اشد ضرورت ہے اور پاکستان آکر ملک کی قیادت کریں ۔نوازشریف کو ملنے والے عدالتی اور انتظامی ریلیف اسی ڈیل کا نتیجہ ھیں۔ اپنی تحریروں میں مسلم لیگ ن کے گن گانے والے حذیفہ رحمان ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف وطن واپس آچکے ہیں۔ لاہور میں فقید المثال استقبال کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد مسلسل دو ہفتوں سے عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں۔لیکن ایک مخصوص طبقہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی ایک ڈیل کا نتیجہ ہے۔نواز شریف کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے ڈیل کرکے نواز شریف واپس آئے ہیں۔ان کا خیال یہ ہے کہ آئندہ چند دنوں میں نوازشریف پر عدالتی ریلیف کی برسات ہونے جارہی ہے۔سیاسی میدان میں بھی نوازشریف کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی موجود نہیں ہوگا اور یوں نوازشریف باآسانی پنجاب اور مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔یہاں تک اندازے لگائے جارہے ہیں کہ سندھ سے پی پی پی کو بھی آؤٹ کرکے ایک مخلوط حکومت تشکیل دی جائے گی اور یوں مسلم لیگ ن ڈیل کی صورت میں اقتدار حاصل کرلے گی۔
حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہا 21 اکتوبر کے جلسے نے یہ تو طے کردیا ہے کہ مسلم لیگ ن اس وقت بھی پنجاب کی سب سے مقبول سیاسی جماعت ہے ۔نوازشریف کو چھ سال قبل جس طرح سے نااہل کیا گیا،پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔دو روز قبل نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اعتراف کیا کہ نوازشریف کے خلاف ریفرنسز سپریم کورٹ کے حکم پر دائر کئے گئے تھے۔یعنی کیس کے میرٹ کو دیکھے بغیر نیب نے ریفرنسز صرف اس لئے دائر کئے ،کیونکہ سپریم کورٹ کے ایک مخصوص بنچ کی خواہش تھی کہ کسی طرح نوازشریف کو جیل میں ڈال دیا جائے۔کیا اس وقت عدالتیں اور ادارے جو کچھ نوازشریف کے ساتھ کررہے تھے ،کیا وہ ان کی عمران خان سے ڈیل تھی؟ چھ ہفتوں میں نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا،سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی بھی خدمات سرانجام دیں۔کیا وہ بھی ایک ڈیل کا نتیجہ تھا۔نوازشریف کی اگر سیاسی زندگی پر روشنی ڈالی جائے تو گزشتہ 24 سال کے دوران نوازشریف نے 13سال جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔کیا ڈیل کرنے والا شخص اپنی زندگی کے قیمتی 13سال قید و بند اور جلا وطنیوں کو دیتا ہے۔نواز شریف نے 2008 ،2013 اور پھر2018کا الیکشن جن حالات میں لڑا۔وہ بھی بیا ن کرنا چاہئے۔کیونکہ ہم من حیث القوم جھوٹ اور منفی پروپیگنڈے کو تیزی سے قبول کرتے ہیں۔ہم میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کی سوچ سے آگے نہیں نکل سکے۔ آپ نے جس وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کردیا،ایک پاناما اسکینڈل کو جواز بنا کر، پورے ملک کی معیشت کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں،تیزی سے ترقی کرتا ہوا پاکستان پستیوں میں چلا گیا۔
حذیفہ رحمان کے مطابق نوازشریف سے واقعی اداروں نے ڈیل کی ہے۔ لیکن وہ ڈیل کیا ہے؟ اس کی تفصیل یوں ہے کہ آج قومی اداروں کو خود اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ پروجیکٹ عمران ان کی تاریخی غلطی تھی۔پاکستان کی مقتدرہ اس بات پر متفق ہے کہ عمران کو مقبول بنانے کے لئے نوازشریف کے خلاف چور،چور کا جو بیانیہ بنایا گیا۔اس کی اصل قیمت ملک کو چکانی پڑی ہے۔ادارے دل سے جانتے ہیں کہ جس طرح عدالتوں اور ججوں کو نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے پر مجبور کیا گیا،اس کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کے غریب عوام کا ہوا ہے۔نوازشریف کے خلاف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں جان بوجھ کر ایسی معلومات اکٹھی کی گئیں ،جن میں کریمنل غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ نیب نے وہ تمام ثبوت صفحہ مسل سے غائب کردئیے ،جو نوازشریف کے حق میں جاتے تھے۔اگر خط و خطابت ابوظہبی کی حکومت سے کرنی تھی تو خط دبئی کو لکھ دیا گیا۔پورا والیم دس ایک مذاق تھا۔
حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ آج اداروں کو یہ ادراک ہوگیا ہے کہ نوازشریف کے خلاف فیصلے دراصل ملکی معیشت کے خلاف فیصلے ثابت ہوئے تھے اور معیشت ایک ہی صورت میں کھڑی ہوسکتی ہے کہ نوازشریف کو واپس لایا جائے ۔لیکن نوازشریف نے چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے سے صاف انکار کردیا تھا۔بار بار انہیں کہا گیا کہ اداروں کو اپنی غلطیوں کا شدت سے احساس ہے اور تمام ادارے اپنی غلطیاں درست کرنا چاہتے ہیں۔آپ کی عزت اور وقار کو دوبارہ بحال کرنا ادارے پر ایک قرض ہے۔مگر اس وقت ملک کو آپکی اشد ضرورت ہے ، پاکستان آکر ملک کی قیادت کریں۔غریب آدمی کا چولھا بجھ چکا ہے۔معیشت آخری سسکیاں لے رہی ہے۔ایسے میں آپ ہی واحد قومی لیڈر ہیں ،جس پر قومی و بین الاقوامی کاروباری دنیا اعتماد کرتی ہے۔آج اگر نوازشریف کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے کوئی ریلیف ملا ہے یا آئندہ آنے والے چند دنوں میں مزید کوئی ریلیف ملے گا تو یاد رکھیں یہ ان ناانصافیوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی جارہی ہےجو نوازشریف کے ساتھ گزشتہ 24سال
الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کی سیاسی مصالحت ناممکن ہے؟
سے ہوتی آئی ہیں۔
