نواز شریف کا بھارت کوکرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے کا مشورہ

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نےہندوستان کو مشورہ دیا ہے کہ بھارتی ٹیم کو پاکستان آکرکھیلنا چاہیےتاکہ اگرتعلقات کچھ خراب ہیں تو اُن کو بہتر کیا جاسکے۔

لندن میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کےہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے نواز شریف نے ٹرمپ کی بطور امریکی صدر کامیابی کےسوال پرکہا کہ پاکستان اورامریکاکےتعلقات اچھے ہونے چاہیئیں، ماضی میں دونوں ممالک کےتعلقات اچھےتھےمگر اب ان کےمزید بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہونے چاہیئیں۔

نواز شریف نے چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کی جانب سے ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کے فیصلے پر کہا کہ بھارتی ٹیم کو پاکستان ضرور آنا چاہیے،اگر تعلقات خراب ہیں توانہیں بہتر کرنے کی ضرورت ہےاور لوگ بھارتی کرکٹ ٹیم کوپاکستان میں کھیلتےدیکھنا چاہتے ہیں۔

نواز شریف نےلندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی گاڑی پرحملے سےمتعلق کہا کہ یہ انتہائی بدتمیزی کا کلچر ہے جس کاپروان چڑھنا ہماری بدقسمتی ہے،اپوزیشن میں بیٹھی جماعت نےاپنےدور حکومت میں اس کوپروان چڑھایا اوراب اسکو مزید بڑھا رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نےکہا کہ چھوٹےچھوٹےلڑکوں کو اس کام پرلگادیاہے کہ وہ گاڑیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہےکہ جاؤ لوگوں کی پگڑیاں اچھالو، اگران کی قسمت میں احتجاج لکھا ہےتو پھر کسی اچھے طریقے سےکرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ پی سی بی نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی طرف  سے پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پرانکارکےحوالے سے پاکستانی حکومت کے سخت مؤقف سے آگاہ کردیا۔

ذرائع بورڈ کے مطابق حکومت نے بھارتی ٹیم کے پاکستان نہ آنے کی ٹھوس وجوہات بھی طلب کرلیں، خط کے متن میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر دیگر ٹیمیں پاکستان آسکتی ہیں تو بھارت کو کونسا  مسئلہ ہے۔

پی سی بی نے خط میں یہ بھی  واضح کردیا ہے  کہ چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہی ہوگی، ہائبرڈ ماڈل قبول نہیں، بھارت کے بغیر بھی پاکستان چیمپئنز ٹرافی کروا سکتے ہیں، بھارت کی جگہ کوئی اور ٹیم بھی بلوائی جاسکتی ہے۔

Back to top button