26ارکان کی معطلی پرحکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کامیاب

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے 26ارکان کی معطلی پرحکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کامیاب ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے تیسرے دور میں دونوں فریقین نے اہم نکات پر اتفاق رائے کیا۔ معطل ارکان کی ممکنہ نااہلی کے حوالے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے یہ مذاکرات اہم پیشرفت ثابت ہوئے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پایا ہے کہ آئندہ اسمبلی میں نازیبا زبان استعمال نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اپوزیشن کا آئینی حق ہے، تاہم اس کا دائرہ کار آئینی و اخلاقی حدود کے اندر ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایتھکس کمیٹی کے فیصلے حتمی اور تمام فریقین کے لیے قابل احترام ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اس مثبت پیشرفت پر میں تمام شرکاء کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
خیال رہے کہ 28 جون کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا تھا، جس کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اپوزیشن کے 26 ارکان کو معطل کرتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں، 15 جولائی کو پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے معطل ارکان کو جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اسمبلی میں توڑ پھوڑ، مائیک توڑنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 10 ارکان پر 20 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا، جس کے تحت ہر رکن کو 2 لاکھ 3 ہزار 550 روپے جمع کرانے تھے۔
مذاکرات کے نتیجے میں دونوں جانب سے کشیدگی میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے، اور اسمبلی کی کارروائی میں معمول کی بحالی کا امکان ہے۔
