ایران اور امریکہ کے مذاکرات ناکام ہونا ممکن کیوں نہیں ہے؟

پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی ناکامی کا امکان اس لیے کم ہے کہ اگر واشنگٹن اور تہران عارضی سیز فائر کو مستقل جنگ بندی کی صورت نہیں دیتے تو دونوں ہی گھاٹے کا سودا کریں گے۔ مذاکرات کو کامیاب بنانا صدر ٹرمپ کے لیے اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ وہ مڈٹرم انتخابات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بہت ذیادہ کمی واقع ہوئی ہے، اور وہ مڈٹرم ہار سکتے ہیں۔ ایسے میں ایک جامع امن معاہدہ ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دے سکتا اور وہ دوبارہ خود کو امن کے علمبردار کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کا سیز فائر ہو گیا ہے۔ سیز فائر پاکستان نے کروایا ہے جس کے بعد 10 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سیز فائر کے نتیجے میں کون جیتا اور کون ہارا ہے۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ایران کی شرائط پر بات ہو رہی ہے تو ایران کی پوزیشن بہتر قرار دی جا سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران کا بہت نقصان ہوگیا، اس کے اندر بہت تباہی ہو گئی۔ اس کی بڑی تمام قیادت شہید ہو گئی۔ لیکن پھر بھی امریکا اور اسرائیل مل کر ایران میں رجیم چینج نہیں کر سکے ہیں۔ ایران کے اندر رجیم موجود ہے۔
نئی قیادت سامنے آگئی ہے، نئی لیڈر شپ نے بھی جنگ میں کمان سنبھالی ہے اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے۔ اس لیے اس جنگ میں ایران کی سب سے بڑی فتح یہی رہی ہے کہ رجیم چینج کا اسکرپٹ فیل ہوگیا ہے۔
مزمل سہروردی کے بقول وہ تمام مفروضے جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ امام خامنہ ای کی شہادت کے بعد رجیم چینج آسان ہو جائے گا غلط ثابت ہو گئے ہیں۔ وہ مفروضے بھی غلط ثابت ہو گئے کہ ایران کے لوگ اس رجیم کے خلاف ہیں اور اندر سے تبدیلی کے لیے گراؤنڈ تیار ہے، سب غلط ثابت ہوگیا ہے۔ ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ میں ایرانی عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئے ہیں، لوگ سڑکوں پر موجود رہے، لوگوں نے اس رجیم کی مکمل حمایت جاری رکھی ہے۔ اس قدر بمباری کے باوجود ایران میں ایک بھی حکومت مخالف مظاہرہ نہیں ہوا۔ یہ امریکا اور اسرائیل کی بڑی ناکامی ہے۔ جنگ کے بعد امن کے لیے بھی اسی رجیم سے مذاکرات کرنے پڑ رہے ہیں۔
یہ اپنی جگہ ایک بڑی بات ہے۔ اس لیے رجیم چینج نہ ہونا ہی ایران کی بڑی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے والے مجتبی خامنہ ای کا زندہ بچ جانا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔
سینیئر صحافی کے بقول دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے جس طرح امریکی اور اسرائیلی بمباری کا مقابلہ کیا اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جس دن سیز فائر ہوا ہے، اس دن بھی ایران اسرائیل اور سعودی عرب کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس دن بھی ایران کے پاس جواب دینے کی طاقت موجود تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اپنی ساری طاقت کے باوجود ایران کے میزائیل اور ڈرون سسٹم کی طاقت کو ختم نہیں کر سکا جو اپنی جگہ ایران کی بڑی کامیابی ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ اس کی جنگی حکمت عملی کامیاب رہی ہے اور وہ امریکا کی دھمکیوں میں نہیں آیا ہے۔
جہاں تک یورینیم کی بات ہے تو مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ ایران تو جنگ سے پہلے بھی یورینیم دینے کے لیے تیار تھا، وہ افزودہ یورینیم کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ عمان کے وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران یورینیم پر امریکی بات ماننے کو تیار تھا، ایران ایسا کرنے کو آج بھی تیار ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ امریکہ کو جنگ سے کیا حاصل ہوا ہے۔ ایران میں تباہی ضرور ہو گئی لیکن اگر امریکا اور اسرائیل کا مقصد ایران کی تباہی تھا تو یقیناً ان کو اپنا یہ مقصد کافی حد تک حاصل ہوگیا ہے۔ لیکن اگر اس کے بعد ایران سے پابندیاں ہٹ جاتی ہیں تو یہ ایران کے لیے کوئی برا سودا نہیں ہوگا۔
مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ 47 سال سے امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں نے ایران کا معاشی طور پر گلا گھونٹ دیا تھا۔ اس جنگ سے پہلے ایران معاشی طور تباہ نظر آ رہا تھا۔ ڈالر کی قیمت بہت اوپر جا رہی تھی اور لوگ ایران کی معاشی تباہی کی باتیں کر رہے تھے۔ لیکن اگر اب معاشی پابندیاں ہٹ جاتی ہیں تو ایران کو اپنی معاشی تباہی کو ختم کرنے کا موقع مل جائے گا۔ وہاں دولت نظر آنا شروع ہو جائے گی اور وہ دنیا میں واپس شامل ہو جائے گا۔ یہ ایران کے لیے کوئی چھوٹی بات نہیں ہوگی، اور ایران کے لوگ جنگ کی تباہی کو بھول جائیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ معاشی پابندیوں کا خاتمہ ایران میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور لائے گا، جو ایران کے نئے سپریم لیڈر کی قیادت کو مستحکم کرے گا۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ یقیناً یہ سیز فائر متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کو پسند نہیں آیا کیونکہ وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے تھے۔ ایک دن پہلے تو متحدہ عرب امارات اور اس کے ساتھ جنگ کے حامی ممالک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد لا رہے تھے جس کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا تھا۔ اب اس کے بعد سیز فائر یقیناً ان کے لیے ٹھیک نہیں۔ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کو جاری رکھنا چاہتے تھے۔ سیز فائر ان کے خلاف تھا، وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتے تھے۔ ان کو ناکامی ہوئی ہے۔ سعودی عرب دوسری طرف سیز فائر کے ساتھ تھا۔ وہ پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت میں کھڑا نظر آیا ہے۔ اس لیے وہ سیز فائر کے ساتھ تھا، قطر بھی سیز فائر کے ساتھ تھا۔
پاکستان کے ہاتھوں سیز فائر سے انڈیا کو اتنی تکلیف کیوں ہے؟
تاہم آگے کیا ہوگا، ایک بڑا سوال ہے۔ کیا ایک مکمل امن معاہدہ ہو جائے گا۔ مزمل سہروردی کے مطابق مکمل امن معاہدہ دونوں فریقین کی ضرورت ہے۔ عارضی جنگ بندی عربوں کے لیے بھی خطرہ ہوگی۔ عارضی جنگ بندی ایران کے لیے زہر قاتل ہوگی۔ وہ اگر جنگ سے بچ بھی گئے ہیں تو کمزور معیشت ان کی جان لے لے گی۔ اس لیے ایک مکمل امن معاہدہ ایران کے بہترین مفاد میں ہے۔ ٹرمپ کے لیے ایک جامع امن معاہدہ اس وقت ناگزیر ہے۔ وہ مڈٹرم انتخابات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں بہت کمی ہوئی ہے، وہ مڈٹرم ہار سکتے ہیں۔ ایک جامع امن معاہدہ ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو کندھا دے سکتا۔ وہ دوبارہ امن کے علمبردار کے طور پر خود کو پیش کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ وہ حقیقی امن لے آئے ہیں۔
