نہرو نے دلیپ کمار کی فلم ‘گنگا جمنا‘ کیسے ریلیز کرائی؟

بھارتی فلم انڈسٹری کے آئیکون دلیپ کمار نے اپنے کیرئیر میں واحد فلم ’’گنگا جمنا‘‘ بنائی لیکن انکا یہ تجربہ اتنا تلخ رہا کہ انہوں نے آئندہ کوئی فلم بنانے سے توبہ کر لی۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ بھارتی وزارت اطلاعات کی سربراہی میں سینسر بورڈ نے فلم کے 250 مناظر کاٹنے کی سفارش کر دی تھی۔سینسر بورڈ کے مطابق فلم میں حد سے زیادہ فحاشی اور تشدد دکھایا گیا تھا۔ دلیپ کمار نے سینسر بورڈ کو لاکھ وضاحتیں دیں لیکن وہ اپنا فیصلہ بدلنے کو تیار نہیں تھا، میگھناد دیسائی دلیپ کمار کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ سینسر بورڈ نے فلم کے موت کے اس منظر پر اعتراض کیا جس میں ایک ڈاکو کو وہی آخری الفاظ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا جو مہاتما گاندھی نے گولی لگنے کے بعد کہے تھے۔
جب کوئی چارہ باقی نہ بچا تو دلیپ کمار نے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی مدد لینے کا فیصلہ کیا، نہرو کے ساتھ ملاقات جو 15 منٹ کی ہونی تھی ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ نہرو کی مداخلت سے سینسر بورڈ نے فلم کو پاس کر دیا، دلیپ کمار چاہتے تھے کہ فلم میں محبوب خان اپنے بھائی ناصر خان کو وہ کردار دیں جو راجندر کمار نے اپنی فلم ’مدر انڈیا‘ میں کیا تھا، ناصر خان چند پاکستانی فلموں میں قسمت آزمانے کے بعد بمبئی میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہے تھے۔ فلم ’’گنگا جمنا‘‘ میں باپ اور بیٹے کے بجائے چھوٹے اور بڑے بھائی کو دکھایا گیا ہے، جس میں ناصر خان ایک اچھے بھائی اور۔پولیس افسر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دلیپ کمار ایک بُرے بھائی یعنی ڈاکو کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
دلیپ کمار نے اس فلم کی ہدایت کاری کے لیے نتن بوس کو تیار کیا، جنھوں نے اس سے قبل فلم ’ملن‘ اور ’دیدار‘ میں ہدایت کاری کی تھی۔ نتن بوس بتاتے ہیں کہ جوانوں اور ڈاکوؤں کے درمیان تصادم کی شوٹنگ کے دوران، ایک جونیئر آرٹسٹ بندوق کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر اپنی غلط آنکھ رکھ رہا تھا۔ میرے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جاوید حسین اس پر غصے میں آ گئے اور بندوق تھامتے ہوئے بولے ’ایسے نہیں، ایسے بندوق رکھو۔ فنکار کی انگلی بندوق کے گھوڑے پر تھی اور غلطی سے وہ گھوڑا دب گیا۔ گولی جاوید کے سینے کو چیرتی ہوئی نکل گئی اور وہ وہیں دم توڑ گیا۔ نوشاد کو ’گنگا جمنا‘ کے میوزک ڈائریکشن کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، دلیپ کمار نے فلم کیلئے مخصوص لہجہ اپنانے کیلئے اتر پردیش اور بہار کے کئی علاقوں کا دورہ کیا۔ دلیپ کمار لکھتے ہیں کہ ’تب میں یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ بولی اتر پردیش کی ہے یا بہار کی لیکن میں اس بولی کا دیوانہ تھا۔ دلیپ کو ’گنگا جمنا‘ کی شوٹنگ کی جگہ کا انتخاب کرنے میں تقریباً ایک مہینہ لگا۔ انھوں نے فلم کی شوٹنگ کے لیے بمبئی سے 120 کلومیٹر دور اگات پوری کے گاؤں جوار کا انتخاب کیا۔
اداکارہ ازیکا ڈینیئل کو روتے ہوئے پروگرام کیوں چھوڑنا پڑا؟
مرکزی اداکاروں کے علاوہ ’’گنگا جمنا‘‘ کے دیگر اداکاروں نے بھی کیریئر کی بہترین کارکردگی دکھائی، دلیپ کمار نے بہترین اداکاری کے باوجود فلم فیئر ایوارڈ لینے سے انکار کیا، جب دلیپ ’گنگا جمنا‘ کو ٹیکنیکلر پروسیسنگ کے لیے برطانیہ کے پائن ووڈ سٹوڈیو لے کر گئے تو وہاں کی لیب میں موجود ٹیکنیشن فلم دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور مشورہ دیا کہ وہ اسے آسکر ایوارڈ کے لیے بھیجیں کیونکہ اس میں جاگیرداروں کی آمریت اور مظلوم کسانوں کی ایمانداری کو دکھایا گیا ہے۔
جب ’’گنگا جمنا‘‘ نامی فلم چیکوسلواکیہ کے کارلووی ویری، بوسٹن اور قاہرہ کے فلمی میلوں میں دکھائی گئی تو سب نے یک آواز ہو کر فلم کی تعریف کی۔ دلیپ لکھتے ہیں ‘میری فلم کے ناقدین کو تجسس تھا کہ میں اس طرح کی اداکاری کیسے کر پایا۔ وہ یہ جاننے کے لیے متجسس تھے کہ اس کے پیچھے کتنی تحقیق ہوئی ہے، کیونکہ ’’گنگا جمنا‘‘ جیسی فلمیں ان کے ملک میں بہت مطالعہ اور سوچ بچار کے بعد ہی بنی ہوں گی۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں نے سکرپٹ، فلم کے کرداروں اور پوربیا بولی پر کیسے کام کیا ہے۔دلیپ کمار کو 1962 میں کارلووی میں ان کی یادگار کارکردگی کے لیے اعزازی ڈپلومہ دیا گیا، جبکہ گنگا جمنا نے 1963 کے بوسٹن فلم فیسٹیول میں سلور بول ایوارڈ جیتا تھا،’’گنگا جمنا‘‘ میں دلیپ کمار کے کام کو اداکاری کی نصابی کتاب کہا جاتا ہے، یہ فلم نہ صرف گولڈن جوبلی ہٹ ثابت ہوئی بلکہ اسے کلاسک کا درجہ بھی حاصل ہوا اور اس کا شمار اب تک کی بہترین فلموں میں ہوتا ہے۔
