نیپرا نے ناکارہ آئی پی پیز میں 10سال کی توسیع ”بانٹ“دی

عوام کا آئی پی پیز کیخلاف شور  تو دوسری طرف نیپرا نے ناکارہ آئی پی پیز میں 10سال کی توسیع ”بانٹ “کر ان کے لائسنس ریونیو کردیئے۔

ذرائع کے مطابق نیپرا نے 7 ناکارہ آئی پی پیز کی سادہ درخواست پر جنریشن لائسنس میں توسیع دیدی ۔نیپرا نے کوٹ ادو پاور کمپنی، الٹرن انرجی، گل احمد انرجی، حبیب اللہ کوسٹل، کوہ نور انرجی، ٹپال انرجی اور اچ پاور کو توسیع دیدی۔فرنس آئل پر چلنے والے پرانے پاور پلانٹس 30 فیصد ایفیشنسی پر چلتے ہیں ۔نئے پاور پلانٹس کی ایفیشنسی 62 فیصد تک ہے ۔پاور ڈویژن اور سی پی پی اے کی مالی بھگت سے ان پلانٹس کو اکنامک میرٹ آڈر کی خلاف ورزی کر کے چلایا جاتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں نیپرا نے کبھی اکنامک میرٹ آڈر کا اڈٹ نہیں کروایا۔نئے پاور پلانٹس کو ململ صلاحیت پر چلایا جائے تو بجلی سستی اور کیپسٹی پیمنٹس ختم کی جا سکتی ہیں۔پرانے پاور پلانٹس ماحولیاتی آلودگی پھیلانے کا باعث ہیں۔نیپرا نے ناکارہ پاور پلانٹس کے جنریشن  لائسنس میں توسیع کیلئے عوامی سماعت منعقد نہیں کی ۔

بجلی بلوں میں ظالمانہ ٹیکس فوری ختم کئے جائیں،حافظ نعیم الرحمان

ذرائع کے مطابق قانون کے تحت جنریشن لائسنس میں توسیع کیلئے عوامی سماعت منعقد کرنا ضروری ہے ۔پاور پلانٹس کے جنریشن لائسنس میں توسیع کی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری نہیں لی گئی۔نیپرا کی ناکارہ پاور پلانٹس کی توسیع پر پاور ڈویژن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے بھی ناکارہ پاور پلانٹس کی توسیع پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔1994میں لگنے والے کوٹ ادو پاور کمپنی کے لائسنس میں 21 ستمبر 2024 تک توسیع کی گئی۔نیپرا نے بجلی سپلائی مستحکم رکھنے کیلئے 1600 میگاواٹ کیپکو کو ناگزیر قرار دیا ہوا ہے ۔ملک کا پہلا آئی پی پی حبکو 1996 میں شروع ہوا تاہم نیپرا نے جنریشن لائسنس 2008 میں دیا جبکو کا جنریشن لائسنس اکتوبر 2025 میں  ختم ہو گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی 1994 پاور پالیسی کے تحت 15 پاور پلانٹس لگائے گئے تھے۔ان پاور پلانٹس نے 1995 سے 1999 کے دوران آپریشنز شروع کیے۔نیپرا نے ان پاور پلانٹس کو 2003 میں جنریشن لائسنس جاری کیے ۔عالمی  معیار کے مطابق تھرمل پاور پلانٹ کو 25 سال بعد ریٹائرڈ کر دیا جاتا ہے ۔

نیپرا ذرائع کے مطابق نیپرا قانون میں پاور پلانٹس کو ریٹائر کرنے کی کوئی مدت مقرر نہیں۔نیپرا ریٹائرڈ افسران کیلئے پارکنگ لاٹ کا کام سر انجام دے رہا ہے۔ناکارہ پلانٹس کے باعث حکومت کو بجلی کیلئے زیادہ سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔کے الیکٹرک نے ناکارہ پاور پلانٹس کے باعث یکساں ٹیرف پر 500 ارب روپے کی اضافی سبسڈی وصول کی ہے۔

Back to top button