کیا نون لیگ الیکشن میں مزاحمتی بیانیہ اپنائے گی؟

سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی اکتوبر میں متوقع واپسی سے قبل نئے سوال اور تنازعے جنم لے رہے ہیں۔ایک جانب جہاں نواز شریف کی واپسی کے بعد ان کی بقیہ سزا کا سوال موجود ہے وہیں ایک تنازع ان کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید، سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت موجودہ سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے خلاف کارروائی کا عندیہ دینے کی وجہ سے کھڑا ہو چکا ہے۔ تاہم نواز شریف کا احتسابی مطالبہ سامنے آنے کے بعد لیگی قیادت اس بیانیے کی تائید سے کتراتی دکھائی دیتی ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف نے پاکستان واپسی سے کچھ ہی عرصہ پہلے یہ بیان کیوں دیا اور اب ن لیگ اس بیان سے پسپائی کیوں اختیار کر رہی ہے؟۔

جب بی بی سی نے جاوید لطیف سے یہی سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ہر ادارے میں خود احتسابی کا طریقہ موجود ہے اور اگر اس طریقے کے مطابق ادارے کام کر لیں تو قوم کو ان سے کبھی بھی شکایت نہیں ہو گی لیکن ان اداروں میں طاقتور لوگ جن سے اصل شکایت ہوتی ہے، احتساب کرنے والے ان کے سامنے کمزور ہو کر احتساب نہیں کر پاتے۔‘جاوید لطیف نے نواز شریف کے بیانیے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کہہ رہے ہیں کہ عوام کی حمایت سے اگر ہمیں موقع ملا تو ہم کوشش کریں گے کہ اس ادارہ جاتی خود احتسابی کے طریقہ کار کو اتنا موثر کریں کہ کوئی کتنا ہی طاقتور ہو وہ اس سے بچ نہ سکے تاکہ ریاست بھی چلے اور بار بار بیانیے کا سوال بھی نہ اٹھے۔‘

سیاسی مبصرین کے مطابق نواز  شریف کے بیانیے بارت لیگی رہنماؤں کی وضاحت ایک طرف
لیکن بیانیے کا سوال ن لیگ اور نواز شریف کا پیچھا شاید نہیں چھوڑے گا۔ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹنشن کا معاملہ ہو یا پھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کا، ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کا معاملہ زیر بحث آتا رہے گا۔تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نواز شریف نے پاکستان واپسی سے قبل خود ہی جرنیلوں اور ججوں کے احتساب کی بحث کیوں چھیڑی گئی؟

صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کے مطابق میرے نزدیک بیانیہ بنانے سے زیادہ ایک ’واٹر چیک‘ تھا کیونکہ ’ابھی یہ بات تنظیمی ڈھانچے سے خطاب میں کہی گئی تھی، واضح بیانیہ ابھی سامنے نہیں آیا۔‘انھوں نے کہا کہ ’بیانیہ بنانے سے پہلے انھیں اپنی صفوں میں بھی چیزیں دیکھنی ہیں کیونکہ نواز شریف کے ساتھ ساتھ اب شہباز شریف کا بھی جماعت پر اثرورسوخ ہے۔‘’یہی وجہ ہے کہ جب نواز شریف نے ابھی یہ بات کہی ہی تھی تو ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے انھیں سمجھایا بھی اور پیغام پہنچانے کی بھی کوشش کی کہ ایسا بیانیہ نہ اپنائیں۔

عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اپنی بات کہہ بھی پائیں گے یا نہیں کیونکہ اس کے بعد سے ان کی جانب سے خاموشی ہے۔‘’یہ بہت دلچسپ ہو گا کہ وہ واپسی پر اپنے کارکنوں کو کیا بیانیہ دیتے ہیں اور کیا ہائبرڈ رجیم کے کرداروں کا احتساب اس کا حصہ ہو گا یا نہیں۔‘عاصمہ شیرازی کے مطابق ن لیگ کا الیکشن کا بیانیہ نواز شریف کی واپسی پر ہی واضح ہو گا لیکن یہ ضرور ہے کہ ’ایک بیانیے کو بننے سے پہلے ہی جماعت کے اندر سے خاصی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کہا گیا ہے کہ اب ٹکراؤ کی سیاست نہیں کی جائے گی۔’نواز شریف کے آس پاس کے لوگ ٹکراؤ نہیں چاہتے، اس صورتحال میں ظاہر ہے بیانیہ تو لیڈر نے ہی دینا ہوتا ہے، اس لیے میرے نزدیک اس وقت نواز شریف کافی مشکل میں ہیں۔‘

دوسری جانب صحافی ماجد نظامی کی رائے میں ’مسلم لیگ ن کے پاس اس وقت کوئی اور انتخابی بیانیہ نہیں۔ پہلے ان کا بیانیہ ترقی اور خوشحالی ہوتا تھا، وہ اس بار کارگر نہیں۔ دوسرا، یہ ایک پیغام ہے جو ریاست کو یا اسٹیبلشمنٹ کو دیا گیا ہے کہ نواز شریف میاں شہباز شریف نہیں، ان کا اپنا موقف ہے۔‘لیکن نواز شریف کے اس پیغام کے بعد خود ن لیگ ہی اس بیانیے پر پیچھے ہٹتی کیوں دکھائی دیتی ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے شہباز شریف کے ذریعے لندن یہ جوابی پیغام بھیجا گیا ہو کہ احتساب اور قومی مجرموں کے حوالے سے سوچا تو جا سکتا ہے لیکن ابھی اظہار کی اجازت نہیں۔‘

واضح رہے کہ 2023 کے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اکتوبر 2019 کے اس پاکستان سے بہت مختلف ہے جب نواز شریف علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوئے تھے۔سپریم کورٹ ہو یا فوج، اہم عہدوں پر اب وہ لوگ نہیں رہے جن کے ہوتے ہوئے نواز شریف ملک سے باہر گئے تھے اور نواز شریف کی سیاسی اور قانونی مشکلات اپنی جگہ ہی موجود ہیں۔ایسے میں ن لیگ کی احتساب کے بیانیے سے پسپائی اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔

صحافی ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف کی واپسی میں پہلے دن سے اہم ترین مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی ہے۔ اس کے بغیر ان کی واپسی ممکن نہیں ہو گی۔‘ماجد نظامی کی رائے میں ’میاں نواز شریف کی واپسی میں اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد شامل ہوئی تو قانونی مقدمات بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے اور اسٹیبلشمنٹ ان کا حل نکال لے گی۔‘’ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی کی وجہ سے میاں نواز شریف کو عدالتی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے عدالتی مقدمات نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی زیادہ اہم شمار ہو گی۔‘ماجد نظامی نے نواز شریف کی واپسی سے ہی جڑے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ’ن لیگ نے حال ہی میں نواز شریف کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی بات کی تو انھوں نے اپنا مستقبل کا ارادہ ظاہر کیا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مریم نواز گروپ کے کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ نہ ہو کہ اگلی باری بھی شہباز شریف کو ملے۔ اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ نواز شریف کا ابھی سے نام سامنے لایا جائے۔‘لیکن ایسے میں اگر نواز شریف کے قانونی معاملات اپنی جگہ جوں کے توں موجود ہیں، تو نواز شریف کیا واقعی پاکستان واپس آئیں گے؟ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ ن شہباز شریف کی سولہ ماہ کی حکومت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، اسی لیے وہ نواز شریف کی واپسی سے اس بوجھ سے دوری اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی واپسی ایک نیا نعرہ بن کر انتخابی مہم میں سامنے آئے اور شہباز شریف حکومت کا داغ نواز شریف پر منتقل نہ ہو۔‘

Back to top button