ہمارا اصل’ مسئلہ‘

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ: روزنامہ جنگ
کسی بھی ’نظام‘ کی کامیابی یا ناکامی کیلئے ’نظام‘ کا ہونا پہلی شرط ہے اور ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہ رہا ہے کہ ہم کوئی نظام بناہی نہیں پائے، لہٰذا ہرچند سال بعد کبھی نیا پاکستان بنارہے ہوتے ہیں یا نیا نظام۔ ملک بنا تو پہلے نو سال یہ ملک بے آئین رہا اور جب پہلا آئین بنا تو چند سال بعد ہی اسے ختم کرکے مارشل لا لگادیا گیا اور سیاست کو عملاً جرم ٹھہرا دیا گیا۔ ابتدا میں ہی دو ہزار سے زائد سیاستدانوں کو مجرم ٹھہرا کر سیاست سے بے دخل کردیا گیا جس میں کئی بڑے بڑے نام شامل تھے ۔ ایک وزیراعظم شہید کردیا گیا۔ تصور کریں یہ اس ملک کے ابتدائی 10؍ سال کی کہانی ہے جو لازوال قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کیا گیا وہ بھی جمہوری انداز میں مگر جہاں جمہوریت کو ایک دشنام بنادیا گیا۔ عوامی مینڈیٹ کو پہلے دن سے تسلیم نہ کرنے کی روایت 1954ء میں ہی ڈال دی گئی تھی۔ وہ دن اورآج کا دن یہ ملک ’نظریہ ضرورت‘ پر ہی چل رہا ہے ۔ نظریاتی سیاست ناپید ٹھہری نہ ہی اس کی کبھی اجازت دی گئی کیونکہ ہمارے حکمران بے اختیار رہے اور ریاست با اختیار۔

سیاست جرم ٹھہری تو پہلے وزیراعظم کو شہادت نصیب ہوئی اور اسکی تحقیقات کو کبھی منظرعام پر نہیں آنے دیا گیا۔ سیاست جرم ٹھہری تو حسین شہید سہروردی جیسا سیاستدان بھی نا اہل قرار دیا گیا اور سیاست ہی جرم ٹھہری تو حسن ناصر جیسے سیاسی کارکن کو تشدد کرکے شاہی قلعہ میں ہلاک کردیا گیا ۔ ہم پتا نہیں کونسا پاکستان بنانے جارہے تھے جس میں ملک میں اکثریت یعنی بنگالیوں کی کوئی گنجائش ہی نظر نہیں آرہی تھی نہ انکی اکثریت 1954ء میں قبول تھی اور نہ ہی 1970 میں۔ پہلے دس سال میں ہی یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ملک کو کس سمت لے جایا جائے گا۔ آئین بھی اپنا اور نظام بھی اپنا اور سیاستدان بھی اپنے، اسی لئے جن کوآئین توڑنے کی سزا ملنی چاہئے تھی انہیں اپنا آئین بنانے اور اپنا نظام بنانے کی ا جازت مل گئی۔ پہلے فیلڈمارشل ایوب خان ملک کے نہ صرف صدر بنے بلکہ انہوں نے ہی اپنا آئین 1962ء میں بنایا اور اپنے ہی مطلب کی ’بنیادی جمہوریت‘ لے کر آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی ہی جمہوریت اور الیکشن میںبھی ہار گئے تھے محترمہ فاطمہ جناح کے ہاتھوں مگراس زمانے کا فارم47 کام آگیا، نتیجہ یہ ہوا کہ جناح کی بہن سیاست سے ہی دست بردار ہوگئیں۔ ایوب خان اپنے آپ کو طاقتور ترین شخص سمجھ بیٹھے مگر وہ بے خبر تھے اس گھڑی سے جب انکی کابینہ کے ایک وزیر ذوالفقار علی بھٹو نے بغاوت کردی۔ چونکہ ’سیاست‘ جرم ٹھہری تو جمہوریت کی بات کرنے والوں پر گولی چلادی گئی مگر آخر کار آمر کوجانا پڑا البتہ ایک بارپھر ملک میں مارشل لا لگادیا گیا اس وعدے کے ساتھ کہ اقتدار جلد منتخب نمائندوں کے سپرد کردیا جائیگامگر ایسا نہ ہوا اور ملک دو لخت ہوگیا۔ یہ بھی عجیب سانحہ ہے کہ ملک کا حکمران جنرل یحییٰ خان تھا اور الزام ذوالفقار علی بھٹو پرلگا دیا گیا۔ کبھی کوئی سیاستدان اتنا بھی طاقتور ہوا ہے کہ وہ کسی حکمران کو روک سکے۔ سیاستدان سیاسی غلطی تو کرسکتا ہے کسی فوجی حکمران کو حکم نہیں دے سکتا۔ ملک میںپہلے 23؍برسوں میں کوئی نظام نہ آیا البتہ دو مارشل لا ضرور آئے دو آئین معطل ہوئے اور سیاست کی اجازت نہ تھی، عدلیہ بھی یرغمال رہی اور صحافت بھی پامال۔

پھر ایک ’نظام‘ بنانے کی کوشش کی گئی جسکی ابتدا پہلے ہی سال 1972ء میں عبوری اور 1973ء میں مستقل اور متفقہ آئین سے ہوئی۔ بدقسمتی سے بھٹو کی شخصیت میں سیاستدان بھی نظر آتا تھا اور جاگیردار بھی شاید یہی وجہ ہے کہ سیاستدان نے آئین دیا اور جاگیردار نے اسی آئین کوپامال کیا۔ تاہم آج بھی 1973ء کی اسمبلی ملک میں اب تک آنیوالی اسمبلیوں میں سب سے موثر رہی ۔ چار سال بعد عام انتخابات ہوئے تو سازشوں کا ایک نیا جال تیار کیا گیا۔ انتخابات کا اعلان ہوا اس پر دھاندلی کا الزام لگا تحریک چلی پھر سیاستدانوں نے مذاکرات کرکے جب راستہ نکال لیا تو سازش بے نقاب ہوئی اور 5؍ جولائی 1977ء کوایک بار پھر مارشل لا ملک کی قسمت کا فیصلہ کرنے بیٹھ گیا۔ ایک بار پھر آئین توڑا گیا مگر اس بار آئین بنانے والے کو پھانسی دیدی گئی جبکہ توڑنے والے کونظریہ ضرورت۔’ سیاست‘ ایک بار پھر جرم ٹھہری نظریاتی سیاست کرنے والوں کو پھانسی، تشدد سے ہلاک جیسا کہ نظیرعباسی کے ساتھ ہوا یا قید و کوڑوں کی سزا۔ البتہ بنیادی جمہوریت کی طرح اس بار مارشل لاکے زیر سایہ غیر سیاسی لوگوں کی ایک فوج ظفرموج تیار کی گئی جسکے بہت سے کردار آج ہماری ’مارشل لائی‘ سیاست کے اہم کردار ہیں۔ پھر کچھ ایسا بھی ہوا کہ اپنے ہی لائے ہوئے سیاستدانوں نے جب آزادانہ رائے قائم کرنے کی کوشش کی تو وہ پابند سلاسل ہوئے اور جلاوطن بھی۔

یہی نہیں پہلی بار سیاست کوجرم ہی نہیںبلکہ کرپشن کا ذریعہ بھی بنادیا گیا، صرف سیاست ہی نہیں صحافت میں بھی لفافوں کا کلچر متعارف کردیا گیا۔ شاعروںا ور ادیبوں کو دربار کا در دکھادیا گیا۔ فاطمہ جناح کے بعد پھرایک عورت محترمہ بے نظیر بھٹو نے آمر کے سامنے کلمہ حق کہا تو پہلے اس کے سامنے مذہبی کارڈ کے ذریعہ عورت کی حکمرانی کا سوال کھڑا کیا گیا، اس نے بہادری سے اس کا مقابلہ کیا اور عوام نے اسکوووٹ دے کرمنتخب کیا۔ اب لنگڑی لولی سیاست کے دو کردار بے نظیر بھٹو اور نواز شریف آمنے سامنے آئے تو شاید ہمارے کچھ دوستوں کو یہ بات اچھی لگی اور دونوں کوایک دوسرے کیخلاف استعمال کیا پھر جب دونوں ’جمہوریت‘ پر متفق ہوئے اور ’میثاق جمہوریت‘ کیا۔ سیاست یکجا ہوئی تو تیسرے آپشن کو سامنے لایا گیا عمران خان کی صورت میں۔ ایک ایسا شخص جو سیاست میں آنے سے پہلے بھی عوام کا ہیرو تھا کرکٹ کی دنیا میں۔ مقصد عمران کی حمایت سے زیادہ باقی دو جماعتوں اورا ن کے قائدین پر دبائوتھا اورپھر وہ ہوا جس نے سیاست کا رخ ہی تبدیل کردیا اور وہ تھی بے نظیر کی شہادت۔ عورت پہلے بھی قابل قبول نہیں تھی ایک سیاست سے دستبردار ہوئی اور دوسری جان سے گئی۔ یوں سیاست کے جرم میں بے نظیر شہید ہوئی۔

اب سیاست میں عمران خان ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے 2013ء سے 2024ء تک ابتدا میں طاقتور لوگوں کی مدد بھی حاصل رہی مگر جب اس نے ماضی کے کچھ ایسے ہی کرداروں کی طرح اپنی مقبولیت کی بنا پر اپنی بات کرنا شروع کردی تو وہ بھی قابل قبول نہ رہا اور اب تلاش ہے ایک نئے نظام کی اور نظام چلانے والے کی۔

اب آپ پچھلے 79؍ سال کا جائزہ لے لیں اور خود ہی فیصلہ کرلیں کہ کون سا نظام ناکام ہوا ہے۔ دراصل وہ نظام ناکام ہوا ہے جس نے اس ملک کو کبھی درست نظام کی طرف جانے ہی نہیں دیا۔ اب ہمیں ایک نئے نظام کی طرف لے جایا جارہا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ نئے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔ اگر اس ملک میں دو تہائی اکثریت والے کواختیار نہیں مل سکا تو کسی چھوٹے سے انتظامی یونٹ یا وہاں کے سربراہ کو کیسے اختیار مل سکے گا۔ پہلے تو سیاست کو تسلیم کریں ،جرم نہیں اس کو ضرورت جانیں۔ پھر ایک آزاد اور با مقصد الیکشن کروادیں، ایک مضبوط احتسابی ادارہ بنائیں، اعلیٰ عدلیہ کو اعلیٰ رہنے دیں، میڈیا پر کنٹرول ختم کریں۔ ایک بار جمہوریت کو اسکی اصل روح کےمطابق چلنے دیں اور منتخب نمائندوں کو فیصلہ کرنے دیں کہ وہ نئے صوبے چاہتے ہیں، انتظامی یونٹس یا با اختیار بلدیاتی ہی نہیں پارلیمانی نظام بھی۔

 

Back to top button