عمران کی فوج مخالف سازش کے تانے بانے کیسے ملے؟

راولپنڈی کے با خبر عسکری حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری بارے متنازعہ بیان ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد فوج کے رینک اینڈ فائل کو تقسیم کرنا ہے تاکہ اپنے سیاسی مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔ انکا کہنا ہے کہ اس سے پہلے عمران کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی جانب سے دیا جانے والا بیان بھی فوجی جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف اکسانے کی کوشش تھی اور موصوف نے متنازعہ بیپر عمران کی بنی گالہ رہائش گاہ سے دیا تھا جسکے پکے ثبوت مل چکے ہیں۔ یعنی شہباز نے جو کچھ کہا اس میں عمران خان کی مرضی شامل تھی۔
عسکری ذرائع مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ شوکت ترین کی جانب سے پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ قرض ڈیل سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی اسی سازش کا حصہ تھی جس کا مقصد پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنا تھا حالانکہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے یہ معاہدہ کرانے کے لیے خصوصی کوششیں کیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ عمران نے فوج کے خلاف سازش کا آغاز تب ہی کردیا تھا جب وہ وزیر اعظم تھے اور انہیں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اپنے اقتدار کا خاتمہ یقینی نظر آ رہا تھا۔ اسی لئے انہوں نے پہلے فوج کو نیوٹرل ہونے کے طعنے دینا شروع کیے اور پھر نیوٹرل کو جانور قرار دے دیا۔ اس کے بعد عمران خان نے اقتدار سے بے دخل ہو کر اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کے ذریعے سپہ سالار کے خلاف غداری کا ٹرینڈ چلا دیا اور انہیں میر جعفر اور میر صادق قرار دے دیا۔ جب خان کی فرسٹریشن میں مزید اضافہ ہوا تو اس نے اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل کے ذریعے اے آر وائے نیوز پر فوجی جوانوں کو باقاعدہ اپنی قیادت کے خلاف اکسانے کی سازش کی۔ شہباز گل نے واضح انداز میں فوج کے مختلف رینکس کا ذکر کرتے ہوئے ادارے میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ فوج میں جو لوگ تحریک انصاف کے ساتھ ہیں وہ محب وطن ہیں اور جو اس کے خلاف ہیں وہ ملک دشمن ہیں۔
لیکن معاملہ یہاں نہیں رکا، عسکری ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ اس کے بعد عمران خان نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے قومی مفاد کو داؤ پر لگاتے ہوئے شوکت ترین کے ذریعے پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے خزانہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ آئی ایم ایف کو عدم تعاون کا خط لکھ کر پاکستان کے ساتھ ہونے والی قرض کی ڈیل کو سبوتاژ کر دیں۔ ذرائع سوال کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ کھلی ملک دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے کیونکہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل نہ ہوتی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان اور اس کے عوام کو ہونا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اب تازہ ترین حملے کا مقصد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنانا ہے اور اسی لیے انہوں نے ابھی سے یہ تاثر دینے کی کوشش شروع کر دی ہے کہ جنرل باجوہ کی جگہ جو بھی جرنیل آئے گا وہ محب وطن نہیں ہوگا بلکہ نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن بچائے گا۔ ایسے میں سیاسی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ آخر عمران کو کب تک فوج کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی اجازت ملی رہے گی اور کب تک فوجی ترجمان موصوف کے فوج دشمن بیانات کی مذمت پر ہی اکتفا کرتے رہیں گے؟
فوجی ترجمان نے نئے آرمی چیف کے ممکنہ تقرر بارے عمران کے بیان کو افسوسناک قرار دیا ہے جبکہ تحریک انصاف نے اس کا دفاع کیا ہے۔ فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے عمران کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی متنازعہ بات نہیں کی اور نہ ہی کسی جرنیل کا نام لیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو آئین اور قانون کے خلاف ہو۔ فواد کےمطابق خان صاحب نے صرف یہ کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر خالصتاً میرٹ پر ہونا چاہیے اور یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ جن لوگوں نے اس ملک کو لوٹا اور کرپشن کی، کچھ طاقتور عناصر ان کی پشت پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف کا تقرر میرٹ پر ہونا فوج کے لیے بھی اچھا ہے اور ملک کے لیے بھی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے الٹ ہے اور عمران خان دراصل سینئر ترین جرنیل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ عاصم منیر فوج کے سینئر ترین جرنیل ہیں جنہیں عمران نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی ہٹا کر فیض حمید کو نیا ایجنسی سربراہ بنا دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کے فوج پر تازہ ترین حملے کا مقصد فیض حمید کے قریبی دوست اور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کو آرمی چیف بنوانا ہے جو سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔
دوسری جانب عمران کے تازہ ترین بیان کا نوٹس صرف فوج نے ہی نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھی لیا ہے اور سوال کیا ہے کہ کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ افواج پاکستان میں کوئی جرنیل محب وطن نہیں ہو گا۔ صدر عارف علوی نے بھی کہا ہے کہ عمران خان خود اس بیان کی وضاحت کریں کہ ان کے کہنے کا کیا مقصد تھا۔ ایوان صدر سے جاری ایک بیان میں عارف علوی نے کہا کہ فوج ملک پر جان دیتی ہے اس لیے آرمی چیف سمیت پوری فوج کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ عمران خان نے ماضی میں جنرل قمر باجوہ کی متعدد مواقعوں پر تعریف کی اور انہیں جمہوریت پسند قرار دیا ہے۔ جب عمران خان 2018ء میں اقتدار میں آئے تھے تو یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان میں اور فوج میں بہت قربت ہے اور کئی مواقع پر ان کو اور جنرل باجوہ کو ایک ساتھ دیکھا گیا۔ تاہم کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے مسئلے پر سابق وزیراعظم عمران خان اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا دعویٰ تھا کہ عمران خان جنرل فیض حمید کو مزید کچھ عرصہ تک ڈی جی آئی ایس آئی رکھنا چاہتے تھے،جب کہ فوج نے ان کا تبادلہ پشاور کر دیا تھا۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ عمران خان پہلے وزیراعظم نہیں ہیں جن کے فوج کے سربراہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوئے بلکہ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ فوج نے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کو کارنر کرنے کے بعد 2018 کے الیکشن میں عمران خان کو اقتدار دلوایا اور ایک ہائبرڈ نظام حکومت بنایا۔ لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب عمران کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں زمین پر پٹخ دیا۔ اس لئے عمران کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی صرف اتنی ہے کہ مجھے دوبارہ فوجی کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں کیوں نہیں لایا جا رہا؟
