اولمپکس مقابلوں میں پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار

حکومتی عدم توجہی کے باعث اولمپکس مقابلوں میں پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار، 32 سال بیت گئے، میگا ایونٹ میں ایک بھی میڈل پاکستان کا مقدر نہ بن سکا۔

 کھیلوں کی تنظیموں پر بیس بیس سال سے براجمان عہدیداران بھی بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی تیار کرنے میں ناکام، پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں اولمپکس گیمز میں صرف تین کھیلوں میں دس میڈل ہی جیت سکا ہے۔

اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی بہترین کارکردگی 1960 کے روم اولمپکس میں رہی ہے جس میں پاکستان نے دو میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا، پاکستان نے اولمپکس تاریخ کا پہلا گولڈ میڈل بھی 1960 میں ہاکی ایونٹ میں جیتا جبکہ اسی ایونٹ میں ریسلنگ میں پاکستان کے محمد بشیر نے برانز میڈل جیتا۔

پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کا اولمپکس مقابلوں میں ماضی بڑا تابناک رہا ہے جس نے تین گولڈ، تین سلور اور دو برانز میڈل جیت رکھے ہیں جبکہ گذشتہ بارہ سال سے پاکستان کا قومی کھیل دنیا کے سب سے بڑے ایونٹ سے باہر ہے جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے قومی کھیل کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہا ہے۔

اولمپکس گیمز میں پاکستان نے ریسلنگ اور باکسنگ میں ایک ایک برانز میڈل جیت رکھا ہے۔ 1960 کے روم اولمپکس میں پاکستان کے محمد بشیر نے برانز میڈل جیتا جبکہ 1988 کے سیول اولمپکس مقابلوں میں واحد میڈل پاکستان کے حسین شاہ نے باکسنگ میں برانز میڈل جیت کر حاصل کیا

Back to top button