PDMحکومت کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی نہیں کرنے دونگا

چیئرمین تحریک انصاف وسابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہمیں نے پرسوں کہا تھا کہ آرمی چیف کی سلیکشن میرٹ پر ہونی چاہیے، مجھے یہ بتاؤ کہ کوئی بھی کسی کا خیر خواہ ہوتا ہے، وہ ہمیشہ چاہے گا کہ اگر ادارہ مضبوط کرنا ہے تو میرٹ پر سلیکشن ہو، یہ دنیا کا اصول ہے، اس میں کیا غلط بات کی تھی،پی ڈی ایم حکومت کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی نہیں کرنے دوں گا۔
پشاور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کہنا تھا کہ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ کسی صورت نواز شریف اور آصف زرداری کو پاکستان کا آرمی چیف نہیں سلیکٹ کرنا چاہیے، ان لوگوں کا پروپیگنڈا سیل بیٹھا ہوا ہے، وہ ہر چیز کو موڑ کے کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح عدالت میرے خلاف ہو یا کسی طرح فوج میرے خلاف ہو۔
انہوں نےکہا میں سندھ کی بات کرنا چاہتا تھا اللہ تعالیٰ نے سیلاب متاثرین کو بڑے امتحان میں ڈالا ہے اور خاص طور پر سندھ میں لوگ بڑی مشکل میں ہیں، جس طرح کا پروپیگنڈا چل رہا ہےاور خاص طور پر گزشتہ روز منظم طریقے سے پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، یہ جو چوروں کا ٹولہ امریکی سازش کے تحت اس ملک پر مسلط کیا گیا ہے، ایک ایسا وقت تھا کہ عرب کے مسلمان تاجر ملائیشیا اور انڈونیشا گئے تو کوئی مسلمان فوج نہیں گئی تھی، مسلمان تاجروں کا کردار اور سچائی دیکھ کر، صادق اور امین تاجروں نے اپنے کردار سے لوگوں کو مسلمان کیا، مسلمانوں نے ملائیشیا اور انڈونیشا کو فتح نہیں کیا تھا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا تھری اسٹوجیز اب میچ کھیل کر تو جیت نہیں سکتے، جب بھی انتخابات ہوں گے یہ نہیں جیت سکیں گے، اب یہ لوگ سازشیں کررہے ہیں کہ کسی طرح عمران خان کو نااہل کرواؤ، کبھی توشہ خانہ، کبھی ان کا پالتو الیکشن کمیشن کوشش کررہا ہے، ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح عمران خان میچ نہ کھیلے،دوسری چیز، یہ اس سے خطرناک چیز کررہے ہیں، یہ کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو کسی طرح پاکستان کی فوج سے لڑایا جائے، نااہل کرنے کے ساتھ ساتھ کوشش کرو کہ پاکستان کی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرکے لڑوائیں، اور پھر پاکستان کی عدالت کے خلاف لڑوائیں کہ پاکستان کے ادارے کسی طرح تحریک انصاف کے خلاف ہوں اور یہ کسی طرح میچ جیت جائیں۔
انکا کہنا تھا جو کچھ میں کہتا ہوں، ان کا پروپیگنڈا سیل بیٹھا ہوا ہے، وہ ہر چیز کو موڑ کے کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح عدالت میرے خلاف ہو یا کسی طرح فوج میرے خلاف ہو،میں نے پرسوں کہا تھا کہ فوج کے آرمی چیف کی سلیکشن میرٹ پر ہونی چاہیے، مجھے یہ بتاؤ کہ کوئی بھی کسی کا خیر خواہ ہوتا ہے، وہ ہمیشہ چاہے گا کہ اگر ادارہ مضبوط کرنا ہے تو میرٹ پر سلیکشن ہو، یہ دنیا کا اصول ہے، اس میں کیا غلط بات کی تھی، ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ کسی صورت نواز شریف اور آصف زرداری کو پاکستان کا آرمی چیف نہیں سلیکٹ کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا میں نے اس لیے کہا تھا کہ نواز شریف ملک کا مجرم ہے، پاناما میں پکڑا گیا، یہ جھوٹ بول کر ملک سے باہر بھاگا، یہ مفرور ہے، کیا مفرور، بھگوڑے اور چور کو پاکستان کا آرمی چیف سلیکٹ کرنا چاہیے؟ بھارت اس وقت کے پاکستان کے سپہ سالار راحیل شریف کو کہہ رہا تھا کہ یہ دہشت گردوں کا سردار ہے، ڈان لیکس میں سامنے آتا ہے کہ بجائے نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہو، وہ بھارت کو پیغام پہنچاتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کررہے، فوج سب کچھ کررہی ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا دوسری طرف حسین حقانی امریکا کو کہتا ہے کہ زرداری کی حکومت کو پاکستان کی فوج سے بچا لو، کیا یہ لوگ آرمی چیف سلیکٹ کرسکتے ہیں، لوگ ہماری حکومت گرانا چاہتے تھے کہ عمران خان احتساب نہ کردے، ڈر یہ تھا کہ عمران خان رہ گیا تو یہ لوگ جیل میں چلے جائیں گے کیونکہ ان کی چوری پکڑی جائے گی۔
عمران خان نے کہا فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے، جتنے ادارے مضبوط ہوں گے، ملک اتنا مضبوط ہوگا، عدلیہ مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا، فوج مضبوط ہوگی تو ہم آزاد ہو سکیں گے، کوئی ملک ہمیں فتح نہیں کرے گا جس طرح مسلمان دنیا میں آج عذاب آیا ہوا ہے، مسلم لیگ ن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نےکہا سن لو کہ ہم وہ لوگ ہیں جو ملک کے ادارے مضبوط کریں گے، اگر فوج پر کوئی تنقید کرتے بھی ہیں تو بہتری کے لیے کرتے ہیں، ہم تعمیری تنقید کرتے ہیں، مجھے آج بھی 6 ستمبر یاد ہے، لاہور کے پاس بھارت کی فوج آئی، ہمارے گھروں میں بمباری کی آواز آرہی تھی، یہ بھی یاد ہے کہ ساری قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی تھی۔
