پاکستان میں بجلی بھارت اور بنگلہ دیش سے کئی گنا مہنگی

پاکستان میں جہاں ایک طرف گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 50سے80 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے وہیں پاکستان میں بجلی کی قیمت اپنے ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش سے 400 فیصد زیادہ ہیں۔ پاکستان میں فی یونٹ بجلی کی قیمت 55روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ بھارت میں بجلی کا ایک یونٹ اوسطاً 15سے 18روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں بجلی کا ایک یونٹ پاکستانی روپے میں تقریبا 13روپے کا ہے۔
پاکستانی روپیہ بھارتی روپے کے علاوہ بنگلہ دیشی ٹکے کے مقابلے میں بھی اپنی قیمت کھو بیٹھا ہے، بنگلہ دیش میں بجلی کا ایک یونٹ 6اعشاریہ سات ٹکے میں دستیاب ہے جو پاکستانی روپے میں 12روپے ساٹھ پیسے بنتا ہے۔ اسی طرح انڈیا میں بجلی کا ایک یونٹ 3سے 5بھارتی روپے میں دیا جا رہا ہے جو کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں 15سے 18روپے بنتی ہے۔ بنگلہ دیش کا ٹکہ پاکستان کے 2روپے 76پیسے کے برابر ہے جبکہ انڈین روپیہ پاکستان کے 3روپے 63پیسے کا ہو گیا ہے۔ایک امریکی ڈالر پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں 317روپے پچاس پیسے تک چلا گیا ہے جبکہ ایک امریکی ڈالر بنگلہ دیش میں 110بنگلہ دیشی ٹکوں سے بھی کم ہے۔ امریکی ڈالر بھارت میں 82روپے پچپن پیسے انڈین روپے کا مل رہا ہے۔ اس طرح جنوبی ایشیاء میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی رونما ہو گئی ہے۔
دوسری جانب پچھلے ڈیڑھ سال میں صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں 80 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ کمرشل بلز پر78فیصد ٹیکسزجبکہ گھریلو صارفین پر ٹیکسز کی شرح50فیصد سے زائد ہوچکی ہے جبکہ بجلی کے ٹیرف میں 15 روپے41پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت80فیصد تک بڑھی اور فی یونٹ 13.48 روپے سے بڑھ کر 24.39 روپے ہوگیا ۔ٹیرف میں پندرہ روپے اکتالیس پیسے اضافہ ہوچکا ہے۔کمرشل بلز پر اٹھہترفیصد ٹیکسزجبکہ گھریلو صارفین پر ٹیکسز کی شرح پچاس فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس میں مخلتف سلیبزکا ٹیرف50سے 80 فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت80 فیصد تک بڑھائی گئی ہے۔ جس کے بعد 10 روپے91پیسے اضافے کیساتھ فی یونٹ13 روپے 48پیسے سے بڑھ کر24 روپے 39 پیسے کا ہوگیا ہے۔ 200یونٹ تک کے بلزمیں 60فیصد اضافہ ہوا۔جو یونٹ 18روپے 95 پیسے کا تھا وہ 11روپے 91 پیسے اضافے کیساتھ30 روپے 86 پیسے ہوچکا ہے۔ اس عرصے میں 300 یونٹ والے صارفین کا ٹیرف12روپے91پیسے بڑھا اورقیمت22روپے 14پیسے فی یونٹ سے بڑھ کر 35 روپے 4پیسے یونٹ ہوگئی۔ 400یونٹ والوں کیلئے 14روپے41پیسے اضافے کیساتھ فی یونٹ بجلی 39 روپے 94 پیسے کی ہو چکی ہے۔500یونٹ اوراس سے اوپر بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے ڈیڑھ سال میں فی یونٹ15روپے41 پیسے مہنگا ہوا ہے جبکہ700 یونٹ سے اوپر والوں کو بجلی50 روپے63 پیسے یونٹ مل رہی ہے۔ بجلی بلوں میں بڑا اضافہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں مخلتف سلیبز کا ٹیرف50سے80فیصد تک بڑھا کر کیا گیا ہے جبکہ کمرشل بلز پر 78 فیصد ٹیکسز عائد ہیں گھریلو صارفین
گٹھیا کے مریضوں کی تعداد ایک ارب تک پہنچنے کاخدشہ
پر ٹیکسز کی شرح 50 فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔
