کیا پاکستان بھی چاند پر پہنچنے کی صلاحیت رکھا ہے؟

بھارت کے خلائی مشن کے چاند پر پہنچنے کے بعد پاکستانی شہری بھی اس میدان میں آگے بڑھنے کا سوچ رہے ہیں، بھارت یہ اعزاز حاصل کرنے والا دنیا کا چوتھا جبکہ چاند کے جنوبی حصے پر پہنچنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔چندریان-3 کا چاند پر پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اسپیس (خلائی) ٹیکنالوجی میں بھی بہت ترقی کر چکا ہے۔ پاکستان میں اسپیس ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں اور شعبہ تعلیم سے متعلقہ سابقہ اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ تعلیم کے لیے بجٹ مختص نہ کرنا پاکستان کا کسی بھی ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہنے کی بنیادی وجہ ہے۔ اگر ہمیں بھارت سمیت دیگر ممالک کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں تعلیم اور ریسرچ پر بہت خرچ کرنا ہو گا۔بھارت نے گزشتہ سال پانے خلائی پروگرام کے لیے اپنے بجٹ میں ایک ارب 93 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے جبکہ پاکستان کے سرکاری خلائی ادارے سپارکو کے 9 پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کے لیے کل 8 ارب 74 کروڑ روپے (3 کروڑ 12 لاکھ ڈالرز) مختص کیے گئے ہیں۔پاکستان کے ممتاز سائنسدان اور ملک میں سائنس اور اعلیٰ تعلیم کی ترقی میں شاندار خدمات انجام دینے والے پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے حالات انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے بجٹ گزشتہ 6 سالوں سے منجمد ہیں جس کی وجہ سے یہ یونیورسٹیاں بند ہونے کے دہانے پر کھڑی ہیں جبکہ جامعات کالجز اور کالج اسکول میں تبدیل ہو رہے ہیں جس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ہم تیزی سے پیچھے جا رہے ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں کوئی نئے ریسرچ ادارے نہیں بنے ہیں، بھارت میں پہلے 5 ریسرچ سنٹر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی تھے اور اب انہوں نے 17 بنا لیے ہیں، اس نے امریکا کے نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے ساتھ معاہدے کیے، اس کی سالانہ آئی ٹی ایکسپورٹ 150 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے اور پاکستان کی سالانہ ایکسپورٹ ابھی صرف 3 ارب ڈالر ہے۔ ممتاز سائنسدان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے 50 سال پہلے طے کر لیا تھا کہ ہم جو بنائیں گے وہی استعمال بھی کریں گے اور کھائیں گے بھی اور وہاں وزرا و افسران اپنے ملک کی بنی گاڑی استعمال کرتے ہیں کیوں کہ انہیں بڑی گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت ہی نہیں۔ پاکستان میں حکومتوں کو سمجھنا ہو گا کہ اب دنیا بدل چکی ہے اور یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اب علم پر مبنی معیشت ہی کامیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف اسپیس ٹیکنالوجی میں ہی نہیں بلکہ تمام ٹیکنالوجیز میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، ہم ایک سوئی تک نہیں بنا سکتے اور یہاں گاڑیوں کے صرف نٹ بولٹ ٹائٹ کیے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی پارٹ بنایا نہیں جاتا جبکہ بھارت 60 سال سے اپنی گاڑیاں بنا رہا ہے۔ سپیس انجینئر اور نجی خلائی کمپنی کے جنرل مینیجر دانیال سہیل ملک نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی خلائی مشن چندریان-3 جب چاند پر پہنچا تو دنیا نے بھارت کو داد دی۔ بھارتی مشن سب سے کم خرچ پر چاند پر پہنچا ہے اور اس نے 50 کروڑ ڈالر کا خلائی مشن صرف 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر میں مکمل کیا ہے۔پاکستان کے سرکاری خلائی ادارے سپارکو نے گزشتہ 10 سالوں میں محض 2 سیٹلائٹ لانچ کیے ہیں جو کہ چین سےحاصل کیے گئے تھے اور اب تیسرے پر کام جاری ہے تاہم پاکستان میں کوئی ریسرچ نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک سیٹ ون آر پر ہمارے چینلز اور ہماری کمیونیکیشن ہوتی ہے اور پی آر ایس ایس پر ریموٹ سروس کا ڈیٹا آتا ہے اب اگر پاکستان کو چاند پر جانا ہو گا تو اسے کسی ملک کو کہنا ہوگا کہ پیسے لے لو اور ہمیں مشن بنا بھی دو اور لانچ بھی کر دو۔اسپیس انجینئر نے کہا کہ پاکستان اب بھارت کا خلائی ٹیکنالوجی میں مقابلہ نہیں کر سکتا، بھارت نے چاند کی ساؤتھ پول پر اپنا خلائی مشن اتارا ہے جو چاند کا تاریک حصہ ہے اور جہاں آج تک کسی ملک نے اپنا مشن نہیں اتارا۔ پاکستان 100 سال بعد وہاں پہنچ سکتا ہے جہاں بھارت ابھی ہے جبکہ پاکستان کا خلائی ادارہ سپارکو بھارت کے خلائی ادارے سے 10 سال قبل بنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلائی مشن میں پرائیویٹ سیکٹر کا بالکل کوئی حصہ نہیں ہے اور 2030 تک اسپیس ٹیکنالوجی کی اکانومی ایک ہزار ارب ڈالر تک بن جائے گی، پرائیویٹ سیکٹر کو خلائی مشن میں شامل کرنے سے سپارکو کی کارکردگی مزید بہتر ہو سکے گی اور وہ ہی خلائی مشن لیڈ

پی آئی اے کا فوری 23 ارب کا مطالبہ، وزارت خزانہ نے انکار کردیا

کرے گا اور پرائیویٹ سیکٹر اس کی بھرپور مدد کرے گا۔

Back to top button