کیا عمران جنرل قمر باجوہ کے عہدے میں توسیع چاہتے ہیں؟

معروف اینکر پرسن اورسینئرصحافی عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تقرری بارے ایک انتہائی متنازعہ بیان دے کر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے میں مزید توسیع کا دروازہ کھول دیا ہے، اب نئے آرمی چیف کی تقرری کے تنازعے میں الجھنے کی بجائے حکومت جنرل باجوہ کو توسیع دینے بارے بھی سوچ سکتی ہے۔
معروف اینکر پرسن نے اپنے یوٹیوب چینل پرعمران خان کے متازعہ بیان بارے تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد کی تقریر میں پی ٹی آئی چیئرمین نے آرمی چیف کے محب وطن ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کوئی محب وطن آرمی چیف آئے گا تو وہ نواز شریف اور آصف زرداری سے کرپشن پر باز پرس کرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اگلا آرمی چیف نواز شریف اور آصف زرداری سے کرپشن بارے نہیں پوچھے گا تو وہ غیر محب وطن ہوگا حالانکہ آئین کے تحت آرمی چیف کا یہ کام ہی نہیں ہے۔ فوجی سربراہ کا اصل کام سرحدوں کی حفاظت ہے نہ کہ سیاستدانوں کا احتساب کرنا جو کہ عمران چاہتے ہیں۔
عاصمہ شیرازی نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ عمران نے اس وقت نئے آرمی چیف بارے متنازعہ بیان کیوں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے دوسرے ہفتے میں یہ طے ہو جائے گا کہ نیا آرمی چیف کون ہوگا، جبکہ یہ فیصلہ بھی ہوجائے گا کہ موجودہ آرمی چیف کو عہدے میں توسیع ملنی ہے یا نہیں، نئے آرمی چیف کا فیصلہ شہباز شریف کریں گے اور ایسا کرنے سے پہلے وہ آصف زرداری سمیت 9 جماعتوں سے رائے لیں گے۔ لیکن بقول عاصمہ شیرازی عمران خان کو وہی آرمی چیف قبول ہوگا جسے وہ چاہیں گے، یعنی 9 عدد سیاسی جماعتوں کے فیصلے کی عمران خان کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ بھی خان صاحب ہی طے کریں گے کہ محب وطن آرمی چیف کون ہے اور غدار کون ہے؟
موہنجو دڑو کے تاریخی کھنڈرات سیلاب سے بری طرح متاثر
عاصمہ شیرازی نے بتایا کہ عمران کے مطابق وہی آرمی چیف محب وطن ہے جو ان کے ایجنڈے کو تسلیم کرے اور اسے آگے بڑھانے میں ان کا ساتھ دے حالانکہ عمران خان کو خود پتہ نہیں کہ ان کا ایجنڈا ہے کیا۔ عاصمہ شیرازی کے بقول عمران خان کو وہ آرمی چیف چاہیے جو ان کے حکم پر ایم این ایز، ایم پی ایز کو اٹھائے، حبس بے جا میں رکھے، ان سے تمام جائز و ناجائز مطالبات منوائے، جبکہ ایسا آرمی چیف جو آئین اور قانون کے ساتھ کھڑا ہو گا اور سیاست میں منہ مارنے کی بجائے اپنے کام سے کام رکھے گا، وہ عمران کو قبول نہیں ہوگا۔ اسی طرح عمران خان کے نزدیک وہی صحافی اور میڈیا چینلز اچھے ہیں جو ان کے ماوتھ پیس بنے ہوئے ہیں اور انکا ایجنڈا آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں، عاصمہ کہتی ہیں کہ اسی طرح کا تنازعہ جنرل فیض کی بطور آئی ایس آئی چیف فراغت پر بھی کھڑا ہوا تھا جب عمران نے پنگا ڈال لیا تھا۔ عمران خان جنرل فیض کو برقرار رکھنا چاہتے تھے جبکہ فوج ان کی پوزیشن تبدیل کرنے کی حامی تھی لیکن جب بات نہ بنی تو فوج نے عمران خان کو منوایا کہ یہ ہماری ڈومین ہے جس میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں۔
اینکرپرسن نے بتایا کہ عمران خان اب نئے آرمی چیف کی تقرری کو اس حد تک متنازع بنانا چاہتے ہیں کہ حکومت ان کی رائے کو اہمیت دینے پر مجبور ہوجائے، اس سے قبل عمران خان یہی ہتھکنڈہ سیاستدانوں کیخلاف بھی استعمال کر چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری بارے متنازعہ بیان دے کر عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا جواز پیدا کر دیا ہے کیونکہ اس وقت حکومت اور فوج دونوں کسی متنازع تقرری کے حق میں نہیں ہیں، اب سیاسی قیادت کے کارڈز میں یہ آپشن بھی شامل ہو جائے گی کہ کیوں نہ جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کر دی جائے۔ لہذا دیکھنا ہے کہ حکومت نیا آرمی چیف لگاتی ہے یا جنرل باجوہ کو توسیع دیتی ہے۔
عاصمہ شیرازی نے بتایا کہ کچھ لوگ آزادی اظہار رائے کی آڑ لے کر اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں جوکہ نہیں ہونا چاہئے، ہم شروع سے ہی میڈیا پر پابندیوں کے خلاف رہے ہیں، جہاں تک تقاریر کو ریگولیٹ کرنے کی بات ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے لیکن یہ فیصلہ کون کرے گا کہ تقریر میں کسی سے کوئی متنازع بات نکل گئی یا پھر اس نے جان بوجھ کر متنازع بات کی۔ عاصمہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص آزادی اظہار رائے کی آڑ میں اداروں پر حملہ آور ہو، گالیاں دے، اور جان بوجھ کر اداروں کو ہٹ کرنے کی کوشش کرے تو یہ قابل قبول نہیں ہونا چاہئے، لیکن اگر ادارے کسی قسم کی مداخلت کرتے ہیں تو اس کو بھی ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہئے، ہم شروع دن سے اس عمل کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، جب جب ادارے مداخلت کریں گے، ہم آواز بلند کریں گے، لیکن ہمیں آزادی اظہار کے پیرامیٹر کو بھی چیک کرنا ہوگا کہ کس شخص کے پاس کتنی آزادی ہے، ایک معروف مثال ہے کہ اگر آپ کسی کی ناک کو چھیڑنے کی کوشش کریں تو آہ ایسا کرتے ہوئے اپنی حدود اور آزادی سے تجاوز کر رہے ہیں۔ عاصمہ نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا چینلز عدالتی حکم کے بعد عمران خان کی تقریر کی کیسے کوریج کرتے ہیں۔
