’’کیا پاکستانی ٹیم ’’گولڈن جنریشن‘‘ ورلڈ کپ کیلئے فیورٹ ہے‘‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ون ڈے رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے پر ’’گولڈن جنریشن‘‘ ورلڈ کپ کے لیے فیورٹ قرار دیا جانے لگا ہے، کیا آپ کو وہ آخری ون ڈے ورلڈ کپ یاد ہے جب پاکستان ٹیم ٹورنامنٹ سے کئی ماہ پہلے ہی فیورٹ قرار دے دی گئی تھی؟شاید آپ کا جواب 2003 کا ورلڈ کپ ہو جس میں انڈیا سے شکست کے بعد وسیم، وقار، سعید انور، انضمام، شعیب، شاہد آفریدی جیسے کھلاڑیوں پر مبنی پاکستان ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہوگئی تھی، دو دہائیوں میں اب دوبارہ ایک ایسا موقع آیا ہے کہ ابھی ورلڈ کپ شروع ہونے میں چند ماہ باقی ہیں اور پاکستانی شائقین کو ٹیم پر بھروسہ ہے کہ وہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے فیورٹ ٹیموں میں سے ہے۔2007 میں بھی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونے کا صدمہ ہو یا 2011 موہالی میں انڈیا سے سیمی فائنل ہارنے کا رنج۔ 2015 میں کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کے بعد 2019 میں بھی پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونا، دکھوں کا وہ تسلسل ہے جو کسی کے لیے بھی سہنا مشکل ہے۔تاہم اس مرتبہ پاکستان ٹیم سے امید لگانے والے مداحوں کے پاس آئی سی سی ون ڈے رینکنگز میں ٹیم کا سرِفہرست ہونے کا جواز بھی ہے۔ناقدین کا خیال ہے کہ شاید اس حوالے سے تجزیے قبل از وقت اس لیے بھی ہیں کیونکہ پاکستان نے 2019 کے ورلڈ کپ سے اب تک دوسری ٹیموں کے مقابلے میں بہت کم ون ڈے کھیلیں ہیں اور پاکستان کی موجودہ کارکردگی افغانستان کی قدرے کمزور ٹیم کے خلاف ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاڈکاسٹ ڈبل وکٹ میڈن کی میزبان ایمان ارباب نے کہا کہ ’اس وقت یہ رینکنگ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کی ٹیم گذشتہ ایک سال سے بہت اچھی پوزیشن میں ہے اور جو سوالات اس ٹیم کے بارے میں کچھ عرصے پہلے تک لوگوں کے ذہنوں میں تھے، جیسے مڈل آرڈر سے متعلق، وہ اب اچانک سے حل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور ہم ایک ایسی صورتحال میں ہیں جب ہر رول کے لیے ہمارے پاس کھلاڑی موجود ہے۔صحافی عمر فاروق کالسن کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے پاس اس وقت جو 16 کھلاڑیوں کا سکواڈ ہے وہ تو بہترین ہے، یہ ان کا ریکارڈ بھی بتاتا ہے لیکن عموماً پاکستان کے ساتھ جو مسئلہ پیش آتا ہے وہ 11 کھلاڑیوں کے حوالے سے صحیح کامبینیشن بنانے کا ہے۔2011 اور 2015 کے ورلڈکپ سے قبل شاہد آفریدی اور مصباح الحق کی کپتانی سے متعلق تنازع چلتا رہا تھا، جبکہ 2003 کے ورلڈ کپ سے قبل یہی کشمکش وسیم اکرم اور وقار یونس کے درمیان تھی، اس مرتبہ بھی رواں برس کے آغاز میں افغانستان کے خلاف سیریز سے قبل ایسی خبریں گردش کرنے لگی تھیں جن میں بابراعظم کی کپتانی کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے تھے، ایمان طفیل کہتی ہیں کہ ’ہماری نسل نے پہلی مرتبہ کرکٹرز کی اس گولڈن جنریشن کی وجہ سے اس ٹیم پر اعتماد کرنا شروع کیا ہے، ’گولڈن جنریشن‘ کا لفظ اس ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے گذشتہ کچھ سالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔صحافی عمر فاروق اس بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاکستان نے تاحال مڈل آرڈر میں رول کے حساب سے کھلاڑی نہیں کھلائے جس کی وجہ سے ابھی تک ہمارا مڈل آرڈر کا مسئلہ برقرار ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایک فارمیٹ کی بنیاد پر دوسرے فارمیٹ میں کھلاڑی کو ڈراپ کرنے یا سیلیکٹ کرنے کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب آپ کو ایک سے لے کر چھٹے ساتویں نمبر تک کھلاڑیوں کو ان کے رولز سے آگاہ کر دینا چاہیے اور انھیں آئندہ گیم ٹائم دینا چاہئے۔ میرے خیال میں آغا سلمان نے بہت اچھی کاکردگی کا مظاہرہ کیا اور لوگ انھیں ہلکا لے رہے ہیں، اسی طرح رضوان بہت اچھا کھیل رہے ہیں، وہ بھی شان مسعود اور عبداللہ شفیق کو نمبر چار پر آزمانے کے خلاف ہیں، ’عبداللہ شفیق اور شان مسعود دونوں کو بیک اپ اوپنر کے طور پر تو دیکھا جا سکتا ہے، لیکن مڈل آرڈر میں ان کے رول پر
عوام پر اصل بجلی شوکت ترین اور اسحاق ڈار نے گرائی؟
سوال موجود رہے گا۔
