پاکستان کا آئل امپورٹ بل آئی ایم ایف کے تخمینے سے تجاوز کر گیا

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستان کا سالانہ پیٹرولیم درآمدی بل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تخمینے سے بڑھ گیا ہے۔

مالی سال2025-26 میں پاکستان کا آئل امپورٹ بل آئی ایم ایف کے اندازے سے ایک ارب 58 کروڑ ڈالر زیادہ رہتے ہوئے 16 ارب 86 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

آئی ایم ایف نے مالی سال 2026-27 کے لیے پاکستان کے تیل درآمدی بل کا تخمینہ 16 ارب 31 کروڑ ڈالر لگایا ہے، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث درآمدی اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی صورتحال کے نتیجے میں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جس کا بوجھ صارفین پر پڑا۔

سرکاری دستاویزات اور آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی مجموعی تیل درآمدات 16 ارب 86 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے لیے آئی ایم ایف نے 15 ارب 28 کروڑ ڈالر کا تخمینہ لگایا تھا۔ اس طرح حقیقی درآمدی بل آئی ایم ایف کے اندازے سے ایک ارب 58 کروڑ ڈالر زیادہ رہا۔

 

وفاقی حکومت کا کفایت شعاری پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ

دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی تیل درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 5.76 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Back to top button