بالآخر پرویز الٰہی بھی PTI چھوڑنے پر تیار

سینئر صحافی جاوید چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے پر رضامند ہو گئے ہیں تاہم مونس الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے لیے اپنے والد کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں جس وجہ سے پرویز الہٰی پریس کانفرنس کرنے کے حوالے سے تاحال تذبذب کا شکار ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اپنے حالیہ وی لاگ میں مزید دعویٰ کیا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی پی ٹی آئی اور عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کے لیے رضامند ہو گئے ہیں۔ ان کے بھائی اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے متعدد بار ان سے ملاقات کی اور انہیں کہا کہ اپنی صحت کو دیکھیں، پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیں اور ضمانت لے کر آرام سے گھر جائیں، اس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ میں خود بہت پریشان ہوں۔ مونس مجھے پھنسا کر چلا گیا ہے۔ کیسے اس مشکل سے نکلوں کیونکہ جیل میں میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہو رہا۔
ہر پیشی پر چوہدری پرویز الٰہی کے صحت مزید خراب نظر آتی ہے۔ انہوں نے عدالت میں پیشی کےموقع پر بتایا تھا کہ جیل میں ان کے ساتھ بہت برا سلوک ہو رہا ہے۔ ان کو جس سیل میں رکھا گیا ہے اس میں ٹانگیں بھی سیدھی نہیں ہوتیں۔ وہاں کیڑے ہیں۔ نہ اے سی ہے نہ پنکھا۔ واش روم بھی وہیں ہے۔ پی ٹی آئی میں ہونے کے باعث میرے ساتھ یہ سلوک ہورہا ہے۔ دس دن سے ایک ہی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے۔ دوائی ہے نہ ہی ڈاکٹر کی سہولت ہے۔ میری ادویات مجھ تک نہیں پہنچ رہیں۔ کوئی سہولت نہیں دی جا رہی۔ پولیس والے جو چیزیں لاتے ہیں مجھے دے کر تصویریں بناتے ہیں اور پھر ساتھ لے جاتے ہیں۔ آپ مجھے سروسز ہسپتال بھیج دیں کیونکہ میں بہت علیل ہوں۔
جاوید چودھری کا مزید کہنا ہے کہ مونس الٰہی کے اصرار پر ہی چودھری پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی جوائن کی تھی کیونکہ مونس کو یہ موقع نظر آرہا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ان کو وزارت اعلٰی مل جائے گی اور اس کے لیے مونس الٰہی اپنے والد کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ پی ٹی آئی ان کے لیے بہت بڑی گارنٹی ہے کیونکہ ق لیگ میں واپس جانے کے بعد انہیں وزارت ملنا مشکل ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ان کی گنجائش صرف پی ٹی آئی میں ہے۔ کیونکہ اگر کبھی تحریک انصاف کے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات درست ہوئے اور ان کی حکومت آئی تو ان کا وزارت اعلٰی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔
چوہدری پرویز الٰہٰی کو کرپشن کیس میں گرفتار ہوئے قریب قریب ڈیڑھ ماہ ہو چکا ہے لیکن ان کی گرفتاری سے قبل ان کے صاحبزادے مونس الٰہی مُلک سے فرار ہو کر سپین چلے گئے۔ مونس الٰہی نے ہی کوشش کر کے والد کو پی ٹی آئی کا حمایت یافتہ وزیراعلٰی بنوایا لیکن اس کے بعد کرپشن کا جو بازار گرم ہوا اسی کا خمیازہ پرویز الٰہی بھُگت رہے ہیں۔
دوسری جانب خاندانی ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت کی پرویز الہٰی کے ساتھ 4 ملاقاتیں جیل میں ہو چکی ہیں اور ہر ملاقات میں چوہدری شجاعت کا ایک سوال پرویز الہٰی سے ضرور ہوتا ہے ڈھیٹ ہو گئے ہو تو پرویز الہٰی مسکرا کر کہہ دیتے ہیں یہ دن بھی گزر جائیں گے ۔خاندانی ذرائع کے مطابق پرویز الہٰی نہ ہی پریس کانفرنس کے لیے مان رہے ہیں اور نہ ہی مونس الہٰی، والد کو چُھڑوانے کے لیے پریس کانفرنس کرنے کو تیار ہیں۔ مونس الہٰی کی والدہ بھی مونس الہٰی کے مؤقف کو سپورٹ کرتی ہیں۔
چوہدری پرویز الہٰی چونکہ جیل میں ہیں تو اس دفعہ چوہدری شجاعت سمیت تینوں بھائی گجرات نہیں گئے اور یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ چوہدری برادران کی فیملز نے عید لاہور میں منائی ہے۔چوہدری شجاعت سمیت تینوں بھائیوں نے پرویز الہٰی کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ پی ٹی آئی کو خیر آباد کہہ دیں۔ چوہدری وجاہت نے وہ حوالہ بھی دیا کہ جب وزیراعلیٰ بننے کی بات تھی تو میں نے آپ کو سپورٹ کیا تھا اب میری بات مانیں اور پی ٹی آئی کو چھوڑ دیں۔ اس پر چوہدری پرویزالہٰی نے جواب دیا کہ میرا بیٹا نہیں مانتا جس کے بعد چوہدری پرویز الہٰی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا اگر میرے لیے کچھ کرنا ہی تو جیل میں مجھے سہولیات مکمل دلوائی جائیں۔
عید الاضحیٰ کے کچھ دن بعد چوہدری شجاعت کی ملاقات پھر پرویزالہیٰ سے ہوئی۔ اس دفعہ ملاقات میں اکیلے چوہدری شجاعت حیسن ہی تھے تو انہوں نے پرویزالہٰی سے کہا کہ مجھے تمہاری صحت کی فکر ہے، تمہاری عمر 77 سال ہوگئی ہے، تمہارے پاؤں پھول گئے ہیں۔ اپنے بیٹے کو سمجھاؤ اور واپس آ جاؤ۔ اس پر چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ میری مونس الہٰی سے بات ہی نہیں ہوئی، اس کے فون پر گھنٹیاں جاتی ہیں مگر اٹھا کوئی نہیں رہا۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ مزید دن جیل میں رہنے سے صحت مزید خراب ہوگی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا جس پرویز الہٰی نے کہا اب بات ہوئی تو
آئی ایم ایف سے ڈیل کے بعد کونسی چیز کتنی سستی ہوگئی؟
مونس سے مشورہ کروں گا۔
