وینزویلا کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف عوام سٹرکوں پر نکل آئے

وینزویلا میں صدارتی انتخابات کے نتائج کو عوام نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے

وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں عوام نے بڑی تعداد میں احتجاج کیا اور نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔مختلف علاقوں میں عوام اور پولیس کےدرمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کےبعد سکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنےوالے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔عوامی احتجاج میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔رہنماؤں کےمجسمے بھی توڑ ڈالے گئے۔ مظاہرین نے صدارتی محل تک پہنچنے کی کوشش  بھی کی۔مظاہرین نے صدر مادورو کےپوسٹر بھی جلا دیے۔

وینزویلا: نکولس مادورو تیسری مرتبہ صدر منتخب

دارالحکومت کراکس کی سڑکوں پرفوج اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی جس کامقصد مظاہرین کومنتشر کرنا اور انہیں صدارتی محل کی طرف جانے سےروکنا تھا۔کچھ علاقوں میں مظاہرین کی جانب سے  صدر مادورو کےپوسٹر پھاڑ کر جلادیے گئے جب کہ ٹائروں، کاروں اور کچرے کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔

یاد رہے کہ وینزویلا میں نکولس میڈورو مسلسل تیسری مدت کےلیے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوگئے ہیں،قومی انتخابی کونسل کےمطابق میڈورو 51.2 فی صد ووٹ حاصل کرکے فاتح قرار پائے ہیں۔دوسری جانب حزب اختلاف نےپولنگ کےدوران میں جعل سازی کےخدشات کا اظہار کرتےہوئے مادورو کی جانب سےفتح کے اعلان کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

Back to top button