وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا

؎گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔

گورنر پنجاب نے سابق صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی کے وفود سے ملاقاتیں کیں، ملاقات کرنے والے سابق وزرا میں رانا مشہود احمد خان ،خواجہ عمران نذیر ،ایم این اے نواب شیر وسیر ،ایم این اے ملک محمد ریاض، ممبران اسمبلی میاں فدا حسین وٹو، رانا عبدالرؤف غزالی سلیم بٹ ،حنا پرویز بٹ سمیرا کومل، فیصل حیات جبوانہ اور مفتی انتخاب عالم نوری شامل تھے۔

ان ملاقاتوں میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ ڈیفالٹ کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کو ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا، اتحادی حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک میں معاشی استحکام آنا شروع ہو گیا ہے، دوست ممالک معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے اپنے بھرپور تعاون آور مدد کا عندیہ دے چکے ہیں، ملک کو معاشی طور مستحکم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

گورنر بلیغ الرحمٰن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کو آئین و قانون کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا، وزیر اعلی پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔

واضح رہے کہ 20 دسمبر کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو 21 دسمبر کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا اور اس روز اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکامی پر رات گئے وزیر اعلیٰ کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کردیا تھا،تاہم بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری پرویز الہٰی کو اگلی سماعت تک صوبائی اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی پر گورنر کا حکم معطل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے منصب پر بحال کردیا تھا اور تمام فریقین کو 11 جنوری تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

آئی ایس آئی افسران کے قتل میں TTP اور القاعدہ ملوث نکلی

Back to top button