کیا پرویز خٹک نے کسی کے اشارے پر عمران کو آنکھیں دکھائیں؟

تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے عمران خان کو آنکھیں دکھانے کے حوالے سے اب اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ انہوں نے ایسا کسی کے اشارے کے بغیر نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر سمیت عمران کے کئی قریبی ساتھی انہیں پہلے ہی وارننگ دے چکے تھے کہ پرویز خٹک کی سرگرمیاں مشکوک ہیں لہذا ان پر نظر رکھی جائے ورنہ پارٹی میں انکے خلاف سازش بھی ہو سکتی یے۔
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران کے ساتھیوں کے خدشات تب درست ثابت ہو گے جب پرویز خٹک نے پیٹھ پیچھے سازش کرنے کی بجائے کپتان کے منہ پر اعلان بغاوت کر دیا۔ پرویز خٹک اب جو بھی وضاحتیں دیتے رہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران کے خلاف بغاوت کر کے باقی پارٹی اراکین کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ وہ وقت آنے پر ان کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پرویز خٹک نے جو مؤقف اختیار کیا وہ انتہائی سخت تھا اور انہوں نے اس روز وہ سارے کام کیے جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں کیے۔ سب سے پہلے خٹک نے عمران کو یہ جتلایا کہ وہ ان کی وجہ سے وزیراعظم بنے ہیں، پھر انہوں نے عمران کو چارج شیٹ کیا اور اس کے بعد یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ان کا رویہ نہ بدلا تو وہ انہیں پارلیمنٹ میں ووٹ نہیں دیں گے۔
اس کے بعد وہ اجلاس سے واک آؤٹ کر کے باہر نکل گے۔ خٹک نے بھلے ہی بعد میں یہ موقف اپنا لیا کہ انہوں نے عمران سے کوئی سختی نہیں کی اور صرف سگریٹ پینے کے لیے باہر نکلے تھے لیکن اجلاس میں موجود تحریک انصاف کے تمام اراکین جانتے ہیں کہ معاملات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور عمران کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خٹک کے بدلے ہوئے رویے نے عمران خان کو یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر دیا ہوگا کہ کیا اسد عمر اور ان کے دیگر ساتھی وزیر دفاع کے حوالے سے جو کچھ انہیں بتاتے رہے وہ درست تھا اور کیا وہ واقعی کسی سازش کا حصہ ہیں؟ خٹک بارے کہا جاتا ہے کہ انھیں یہ علم ہوتا ہے کہ کس وقت کیا چال چلنی ہے اور کس طرح اپنی اہمیت کو برقرار رکھنا ہے۔
وہان گنے چنے سیاستدانوں میں شامل ہیں، جو ہوا کا رخ سمجھتے ہیں اور ڈوبتی ہوئی کشتی سے چھلانگ لگانے اور بعض اوقات ڈوبتی کشتیوں کو منجھدار تک لے جانے کے بھی ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ خٹک ایسی سیاسی جماعتوں میں بھی اکثر شامل ہو جاتے ہیں جنھوں نے اقتدار میں آنا ہوتا ہے اسی لیے انہوں نے کئی بار پارٹیاں بدلی ہیں۔
پرویز خٹک 1988 میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے نوشہرہ سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی چھوڑ کر شیرپاؤ کی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی لیکن وہاں بھی وہ زیادہ دیر نہیں رہ سکے اور 2012 میں انھوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔
خٹک تقریباً چالیس برس کی سیاسی زندگی میں اب تک پانچ مرتبہ صوبائی اور ایک مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب چکے ہیں۔ وہ تین مرتبہ صوبائی وزیر کے عہدوں پر بھی رہ چکے ہیں اور ایک مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ مشرف دور میں پرویز خٹک 2002 کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں ضلع نوشہرہ کے ناظم بھی منتخب ہوئے۔
تحریک انصاف سنہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئی اور اس انتخاب میں پرویز خٹک نے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں جیتی تھیں اور ان کی خواہش تھی کہ وہ ایک مرتبہ پھر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ بنیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے بتایا کہ جماعت کے اندر پرویز خٹک انتخابات کے بعد سے خوش نہیں تھے اور عمران خان کے ساتھ ان کے یہ اختلافات اس وقت سے جاری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک ایک مرتبہ پھر چاہتے تھے کہ انھیں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد کیا جائے جبکہ عمران خان انھیں مرکز میں لانا چاہتے تھے۔ عام انتخابات کے بعد وزارت اعلیٰ کے امیداروں میں اسد قیصر، عاطف خان اور مشتاق غنی شامل تھے۔
پی ٹی آئی والے اپنے کپتان کے ساتھ سیدھے ہونے والے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق جب محمود خان کو وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا تو پرویز خٹک نے وفاقی وزارت داخلہ کا عہدہ حاصل کرنا چاہا لیکن ان کی خواہش پوری نہ ہو سکی اور ان کے حصے میں وزارت دفاع آئی۔ قومی سطح پر حکومت سازی کے لیے 2018 میں تحریک انصاف کو کم نشستیں ملی تھیں اس لیے پرویز خٹک کو بھی مرکز میں لایا گیا تھا۔ عقیل یوسفزئی کے مطابق صوبے میں محمود خان کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھانے میں پرویز خٹک کا ہاتھ تھا لیکن پرویز خٹک یہ عہدہ حاصل نہ کرنے کی وجہ سے خوش نہیں تھے۔
اگر 2018 کے بعد سے پرویز خٹک کی جماعت کے لیے کوششیں اور ان کا کردار دیکھیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ ایک وقت میں جماعت کے گول کیپر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں اور جماعت پر گول کی کوششیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر وہ سینٹر فارورڈ بھی ہوتے ہیں، جہاں انھوں نے دوسری جماعت پر گول کرنا ہوتا ہے۔ عقیل یوسفزیی کے مطابق جماعت جب بھی مشکل میں ہوتی ہے تو وہ وہاں پرویز خٹک اپنا کردار ادا کرتے ہیں اس لیے پرویز خٹک اس وقت عمران خان کی ’مجبوری‘ بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت کی شکست کے بعد حالات بہتر بنانے کا کردار بھی عمران خان نے پرویز خٹک کو دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سے پہلے اگر اپوزیشن کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر بات چیت کرنا مقصود ہوتی تھی تو پی ٹی آئی میں پرویز خٹک ان چند ایسی شخصیت میں سے ہیں جو اپوزیشن سے بات چیت اور ان سے مذاکرات کرنے کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور انھوں نے ایسا کیا بھی ہے۔ اسی طرح اتحادی جماعتوں سے جہاں بات چیت مقصود تھی، جیسے ایم کیو ایم کے قائدین کو راضی کرنے کے لیے پرویز خٹک مذاکرات کے لیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بلوچستان نینشل پارٹی کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے بھی پرویز خٹک کا انتخاب کیا گیا تھا۔
عقیل یوسفزئی کے مطابق جماعت میں پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی دو سینیئر سیاستدان ہیں، ’جن کی اپنی حیثیت ہے اور ان کی بات میں وزن ہوتا ہے‘۔انھوں نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق عمران اور خٹک کے درمیان اختلاف ختم کرانے کے لیے رابطے بھی ہوئے ہیں۔
سینیئر صحافی حامد میر نے عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں کہا ہے کہ پرویز خٹک ’جہاں دیدہ اور دور اندیش سیاستدان ہیں اور ایسے سیاستدان اپنے اشاروں سے اہم پیغامات دے دیتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے پہلے بھی پرویز خٹک کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید سیاستدان بھی پرویز خٹک کی طرح کا رویہ یا مؤقف اختیار کر سکتے ہیں۔
