پشاور : طبی مراکز میں کتے کے کاٹے کی ویکسین ناپید ہوگئی

پشاور کےتمام سیکنڈری کیئر اسپتالوں اور طبی مراکز میں 2 ماہ سے کتے کے کاٹے کی ویکسین اینٹی ریبیز اور ٹائیفائیڈ ناپید ہوگئی ہے۔ فنڈز کی عدم دستیابی پ ضلعی صحت آفس اینٹی ریبیز اور ٹائیفائیڈ کی ویکسین نہیں خریدسکا۔

کتے کے کاٹے کی ویکسین کی عدم دستیابی پردور دراز سے  آنےوالے متاثرہ افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بڑے اسپتالوں میں بھی کتے کے کاٹے پرصرف ایک ڈوز لگائی جاتی ہے۔مریض ویکسین کی 7 ڈوزز کےلیے دربدر پھرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے ترسیلات زر کا حجم 8 ارب ڈالر سےتجاوز کرگیا

محکمہ صحت حکام کےمطابق رواں سال 28 فروری کو ضلعی صحت آفس کو 1485اینٹی ریبیز کی ویکسین ملی تھیں۔ اینٹی ریبیز ویکسین کاتمام اسٹاک 2 جون کوختم ہوچکا ہے۔ محکمہ صحت کی ایم سی سی لسٹ کی کلیئرنس نہ ہونےسے مسئلہ آرہا ہے۔ ایک ماہ میں 50 سے زائد کتے کے کاٹے کےمتاثرہ کیسز رجسٹرڈ ہو رہےہیں۔

Back to top button