پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہنے کا امکان کیوں ہے؟

رواں برس جنوری، فروری کے دوران پیٹرولیم کی قیمتیں مستحکم رہنے پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں ماہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوگا بلکہ قیمتیں مستحکم رہیں گی۔گزشتہ برس ہر ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ یا کمی ہوتی رہی ہے تاہم رواں سال کے آغاز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے اور اب یکم مارچ سے بھی پیٹرول کی قیمتیں برقرار رہنے کی اُمید کی جاری ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزارت خزانہ 29 فروری کو اوگرا کی سمری کی روشنی میں کرے گی۔یاد رہے کہ حکومت نے پچھلی بار 15 فروری کو جب پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 73 پیسے کا اضافہ کیا تھا، اس وقت انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 279 روپے تھی جو اب 276 روپے ہے، اسی طرح خام تیل کی قیمت اس وقت 81 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب بھی اسی کے آس پاس ہے۔گزشتہ برس کے اختتام پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 73 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھی۔ اس سے قبل اکتوبر میں خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، گزشتہ 15 دن سے خام تیل کی قیمت مستحکم ہے اور اس وقت خام تیل کی قیمت 81 ڈالر فی بیرل ہے۔پاکستان میں ڈالر کی قیمت گزشتہ 15 دن سے 279 روپے تک مستحکم ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل اور ڈالر کی قیمت میں استحکام کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل نہیں کیا جائے گا۔ فروری کے نصف میں ڈالر کی قدر اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2 روپے 73 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ 31 جنوری کو برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھنے کے باعث پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے 55 پیسے اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل، حکومت نے عوامی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہوئے 15 جنوری کو پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، جنوری میں ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا، گزشتہ سال ستمبر سے پاکستان میں روپے کی قدر مستحکم اور ڈالر سستا ہو رہا تھا، انٹربینک میں ڈالر307 روپے سے کم ہو کر 23 اکتوبر کو 275 روپے کا ہو گیا تھا۔
