PIA اور روز ویلٹ ہوٹل کب تک فروخت ہو جائیں گے؟

مسلسل خسارے میں رہنے والے قومی ائیرلائنز کو حکومت پاکستان نے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ائیرلائنز کے نیویارک میں ہوٹل روز ویلٹ کو بھی فروخت کیا جائے گا جس کے لیے ٹائم لائن تشکیل دے دی گئی ہے، آئندہ چھ ماہ میں پی آئی اے کے اثاثے فروخت کر دیئے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری اس وقت نگراں حکومت کی اوّلین ترجیح ہے کیونکہ ایئرلائن 750 ارب روپے سے زائد کی مقروض ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان کررہی ہے، نگراں وفاقی وزیر نجکاری فواد حسن فواد نے بتایا تھا کہ پی آئی اے نے صرف بینکوں کے 450 ارب روپے دینے ہیں اور یہ ملکی خزانے پر بوجھ ہے، ماضی میں سیاسی حکومتوں نے کئی بار پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی مگر عوامی دباؤ کی وجہ سے ناکام رہی تھی، 1955 میں قائم ہونے والی پی آئی اے نے ماضی میں پاکستان میں کئی ریکارڈز قائم کیے ہیں۔پاکستان میں پولٹری انڈسٹری کی بنیاد بھی پی آئی اے نے رکھی۔ 60 کی دہائی میں قومی ایئرلائن نے کینیڈا کی کمپنی شیور کے ساتھ مل کر پی آئی اے شیور پولٹری فارمز کی بنیاد رکھی۔ یہ پاکستان کا پہلا پولٹری فارم تھا جسے پی آئی اے نے اس لیے بنایا تھا تاکہ اس کے جہازوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو کھانے میں ایک سائز کے چکن پیس اور معیاری انڈے مل سکیں جو مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھے۔پی آئی اے یوں تو باضابطہ طور پر 1955 میں بطور کمرشل ایئرلائن وجود میں آئی، جنوری 1955 میں ایم اے اصفہانی کی قائم کردہ اورینٹ ایئرویز کو پی آئی اے میں ضم کر دیا گیا اور انہیں پی آئی اے کا پہلا چیئرمین بنایا تھا، پی آئی اے نے بطور کمپنی صحیح اُڑان اس وقت بھرنا شروع کی جب 1959 میں ایئر کموڈور نور خان کو اس کا مینجنگ ڈائریکٹر لگایا گیا۔1960 میں پی آئی اے جیٹ طیارہ بوئنگ 707 آپریٹ کرنے والی براعظم ایشیا کی پہلی ایئرلائن بن گئی، پہلی جیٹ پرواز لندن، کراچی، ڈھاکا کے درمیان تھی۔ اگلے سال پی آئی اے کی سروس نیویارک پہنچ گئی۔پی آئی اے نے فرانس کے مشہور ڈیزائنر پیئر کارداں سے اپنی ایئر ہوسٹسز کا یونیفارم ڈیزائن کروایا تو ایوی ایشن انڈسٹری میں دھوم مچ گئی اور پی آئی اے کے اس اقدام کو دنیا بھر میں اسٹائل اور فیشن کے اہم قدم کے طور پر سراہا گیا۔ 70 کی دہائی میں پی آئی اے کے جہاز اور انجینیئرنگ کی سہولیات یوگوسلاویہ، مالٹا، شمالی کوریا اور چین تک کو مہیا کی گئیں۔ 1976 میں پی آئی اے کی آمدنی 13 کروڑ ڈالر سے زائد تھی۔ اس زمانے میں پی آئی اے 100 سے زیادہ روٹس پر پروازیں چلاتی تھی۔ماہرین کے مطابق پی آئی اے 70 کی دہائی کے آخر تک بہتر کارکردگی دکھاتی رہی مگر 80 کی دہائی میں جب مقابلہ بڑھ گیا اور خطے کی دیگر ایئر لائنز نے بہتر سروس کے ساتھ مارکیٹ کا شیئر حاصل کرنا شروع کیا تو پی آئی اے بدلتے حالات کا ادراک نہ کرسکی اور پیچھے رہ گئی، اس وقت مجموعی خساہ تقریباً 750 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
