کیا نون لیگ اور ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے پائیں گی؟

نون لیگ نے آئندہ انتخابات میں اپنی فتح کو یقینی بنانے کیلئے دو طرفہ پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے ایک طرف قائد مسلم لیگ نون میاں نواز شریف سابق صدر آصف علی زرداری سے دوستی بڑھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف لیگی قیادت نے سندھ میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے بڑا انتخابی اتحاد قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مسلم لیگ کے قائد نواز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات کے بعد مسلم لیگ نے مزید انتخابی معاملات طے کرنے کے لئے کمیٹی قائم کردی ہے‘دونوں جماعتوں کے درمیان اگلے انتخابات میں کراچی اور اندرون سندھ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی جائے گی، جن سیٹوں پر جس جماعت کے ووٹرز کی اکثریت ہوگی وہاں دوسری جماعت اس کے امیدوار کی حمایت کرے گی، ذرائع کے مطابق اس انتخابی اتحاد اور مفاہمت کے حوالے سے ایم کیو ایم، جی ڈی اے میں شامل جماعتوں کو بھی اعتماد میں لے گی۔ ‘کراچی میں قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی سات کے لگ بھگ نشستوں پر مسلم لیگ(ن) اور ایم کیو ایم کے درمیان سیٹ ایڈ جسٹمنٹ ہوگی۔

خیال رہے کہ قائد ن لیگ نواز شریف سے متحدہ وفد نے ملاقات میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے 3،3 ارکان پر مشتمل کمیٹی ایک چارٹر تیار کریگی۔کمیٹی دونوں جماعتوں کےدرمیان اشتراک کیلئے حتمی تجاویز 10روز میں قیادت کو پیش کریگی جبکہ صوبہ سندھ بالخصوص اسکے شہری علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے جامع چارٹر بھی تیار کیا جائیگا جس پر ہم خیال اور دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائیگا، ملاقات میں نواز شریف کی سندھ کی ابترصورتحال، مردم شماری اور حلقہ بندیوں پرمتحدہ کے مؤقف کی تائید کی اور اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ،علاوہ ازیں ن لیگ نے سندھ میں جی ڈی اے، جے یو آئی سمیت پیپلز پارٹی کے تمام مخالفین سے اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ جلد نواز شریف سندھ کادورہ بھی کرینگے

سیاسی مبصرین نون لیگ اور ایم کیو ایم کے انتخابی اتحاد کو پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی منظرنامے پر بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات میں سیاسی اتحاد تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہیں لیکن اس بار جس طرح ملک کی زیادہ سیاسی جماعتوں کی مشترکہ حکومت بنی اب نئے اتحاد بھی اسی کا شاخسانہ دکھائی دیتے ہیں۔ لہذا یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ملک میں آئندہ الیکشن میں بھی کسی ایک جماعت کا حکومت بنانا مشکل ہے۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ن لیگ اور ایم کیو ایم کے انتخابی اتحاد سے کس کا فائدہ کس کا نقصان؟ تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ اور ایم کیو ایم کے انتخابی اتحاد کا سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا. تاہم ن لیگ اور ایم کیو ایم کے اتحاد سے بلاول بھٹو کے وزارت عظمیٰ کے خواب بکھرتے دکھائی دے رہے ہیں۔سینئر صحافی مظہر عباس کے مطابق ن لیگ اور ایم کیو ایم کے انتخابی اتحاد کا اصل فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا، اس قسم کے اتحاد کو پیپلز پارٹی دیہی اور شہری سندھ میں اپنے حق میں استعمال کرسکتی ہے. پی ٹی آئی کا ووٹر کراچی میں نکلا تو ن لیگ اور ایم کیو ایم کو نقصان اور پیپلز پارٹی کو فائدہ ہوگا، عموماً انتخابی اتحادوں میں ووٹرز اپنے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں دوسری جماعت کے امیدوار کو صرف سپورٹ دی جاتی ہے.ن لیگ اور ایم کیو ایم ایک انتخابی نشان کے تحت انتخابات نہیں لڑیں گی، ن لیگ اور ایم کیو ایم کی ماضی میں نفرت اور محبت کا رشتہ رہا ہے، کراچی میں تین آپریشنز ن لیگ کے اقتدار میں ہوئے، 2018ء کے انتخابات میں کراچی سے ایم کیو ایم کی بہت سی نشستیں پی ٹی آئی کو دیدی گئی تھیں، ن لیگ کا سندھ میں ووٹ موجود لیکن تنظیم مضبوط نہیں ہے۔

جبکہ دوسری جانب یوتھیے تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ سندھ میں ن لیگ اور ایم کیو ایم کو انتخابی اتحاد کا فائدہ جبکہ پیپلز پارٹی کو نقصان ہوگا، ایسا لگ رہا ہے ن لیگ اور ایم کیو ایم کی ملاقات رسمی کارروائی تھی سب کچھ پہلے سے طے تھا، ن لیگ اور ایم کیو ایم کے اتحاد سے بلاول بھٹو کے وزارت عظمیٰ کے خواب بکھرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے پی ٹی آئی کے ساتھ بیک ڈور رابطوں کی خبریں ہیں۔

دوسری جانب سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور ایم کیو ایم کے اتحاد سے دونوں جماعتوں کو فائدہ اور پیپلز پارٹی کو نقصان ہوگا، ایم کیو ایم کے تعاون سے ن لیگ کو کراچی میں کچھ نشستیں مل سکتی ہیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی و تجزیہ کار ندیم رضا کے مطابق’ایم کیو ایم کو جو عروج ماضی میں حاصل رہا وہ 2013 کے انتخابات اور حالیہ بلدیاتی انتخاب میں دکھائی نہیں دیا۔ اسی لیے ایم کیو ایم نے ن لیگ سے اتحاد کر کے کراچی میں پنجابی ووٹ ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔‘’پیپلز پارٹی بھی کیونکہ سندھ اور کراچی کی حکمران جماعت ہے اس لیے ایم کیو ایم کو ان سے اتحاد کر کے کچھ نہیں ملنا تھا۔ اس لئے ایم کیو ایم نے نون لیگ سے اتحاد کو ترجیح دی

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’دونوں جماعتوں کے اتحاد سے سیاسی طور پر تو دونوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ کیونکہ ن لیگ سندھ میں اتنی مضبوط نہیں رہی اب ایم کیو ایم سے ہاتھ ملا کر شاید وہاں سے جیتی گئی نشستوں سے حکومت سازی آسان ہوجائے گی۔‘’ایم کیو ایم بھی اب وہاں اتنی مضبوط نہیں لہذا ن لیگ جیسی وفاقی جماعت کے ساتھ جڑ کر کراچی میں اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے ساتھ وہاں نشستوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔‘سلمان غنی کے مطابق ’بظاہر لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کو ن لیگ نے کراچی میں پی ٹی آئی کاووٹ بینک توڑنے کے لیے ساتھ ملایا اور پیپلز پارٹی سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی کوشش بھی ہے۔‘سلمان غنی نے کہا کہ ’کراچی میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا اتحاد پیپلز پارٹی کے لیے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ایم کیو ایم کے ن لیگ سے اتحاد پر پیپلز پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ویسے بھی متحدہ اور پیپلز پارٹی میں تو اتحاد ہونا ممکن نہیں لہذا دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے سے چھوٹی جماعتوں کے تعلقات کو اہمیت دیں گی۔‘ان کے خیال میں ’ابھی تو یہ پہلا اتحاد ہے ابھی تو دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے مزید اتحاد بھی سامنے آئیں گے۔ پنجاب سے مسلم لیگ ق، ٹی ایل پی، جماعت اسلامی، استحکام پاکستان، کے پی کے سے جے یو آئی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین، جماعت اسلامی، اے این پی نے بھی کسی بڑی جماعت سے اتحاد کرنا ہے۔ بلوچستان میں بھی چھوٹی جماعتوں کا الائنس ہو گا۔‘

ندیم رضا نے کہا کہ ’ن لیگ اور پیپلز پارٹی بنیادی طور پر دونوں چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر وفاق میں حکومت کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ تحریک انصاف جو سابق حکمران جماعت ہے اس کے ووٹ بینک کو کس طرح اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔ اس کے لیے دونوں جماعتیں چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملانے میں سنجیدہ ہیں۔‘’یہ کہنا غلط نہیں ہوگا اس بار پہلے سے زیادہ صوبائی جماعتوں کا اتحاد اہمیت اختیار کر گیا ہے۔‘

Back to top button