نواز اور شہباز کے اختلافات کی اصل حقیقت کیا ہے؟

سابقہ کپتان حکومت کی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب کرتیزی سےغیرمقبول ہونے والی شہباز شریف حکومت اب عمران خان کو اقتدار سے الگ کرنے کے فیصلے پر پچھتا رہی ہے اور اس کی ساری توجہ یہ ثابت کرنے پر مرکوز ہے کہ پارٹی قائد نواز شریف موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق محسوس یہ ہوتا ہے کہ ن لیگ کی توجہ اب کارکردگی پر نہیں، بلکہ اداکاری پر ہے۔ سکرپٹ یہ ہے کہ عوام میں اس تاثر کو مستحکم کر دیا جائے کہ حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے، نواز شریف کی مرضی کے بغیر کر رہی ہے اور وہ حکومتی ناکامیوں پر بہت دکھی ہیں۔ اسکا مقصد یہ ہے کہ پہلے شہباز شریف عملیت پسندی کے فوائد سمیٹ لیں اور پھر نواز شریف واپس آ کر مثالیت پسندی کے رجز پڑھیں اور میلہ لوٹ لیں۔ لیکن معلوم نہیں کہ ن لیگ واقعی اتنی سادہ ہے یا پھر بہت زیادہ ہوشیار ہے؟
انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے ہاں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ دیوانگی شوق میں غلطی ہو گئی۔ عمران خان اب میدان میں کھڑے سب کو للکار رہے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ان کے دور اقتدار کی ناکامیوں کا حساب بھی اب اگلے الیکشن میں ن لیگ کو دینا ہو گا۔ اگلے عام انتخابات کے وقت عوام کی جانب سے سوال عمران خان سے نہیں، بلکہ ن لیگ سے ہونا ہے کہ تم تو بڑے چاؤ سے اقتدار میں آئے تھے، لیکن عوام کا بیڑہ غرق کردیا ۔ تاہم ن لیگ اس غلطی کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں ہے حالانکہ 17 جولائی کو پنجاب میں 20 سیٹوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں عوام نے اس کا دھڑن تختہ کر دیا تھا۔نون لیگی قیادت اب بھی اہتمام سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ قائد محترم نواز شریف کی مرضی کے بغیر ہوا ہے اور شہباز شریف اور نواز شریف ایک پیج پر نہیں ہیں۔
لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ ن کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ نوے کی دہائی نہیں ہے، اور پرانی اور روایتی فلمیں اب پٹ جاتی ہیں۔ لوگ بجلی کے بل دیکھ کر شدت غم سے چیختے ہیں تو مریم نواز ان کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر کے دو آنسو بہا دیتی ہیں۔ یوں گویا وہ یہ تاثر دیتی ہیں کہ میری اور نواز شریف والی مسلم لیگ تو عوام کے ساتھ ہے، یہ مہنگائی کرنے والی مسلم لیگ شہباز شریف والی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں خوفناک اضافہ ہوتا ہے تو قوم کو بتاتی ہیں کہ نواز شریف تو پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا سن کر اتنے خفا ہوئے کہ میٹنگ سے ہی اٹھ گئے تھے۔ یہاں بھی وہی تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نواز شریف تو بہت اچھے ہیں، بس یہ والی حکومت غلط کر رہی ہے۔ مفتاح اسماعیل کے بیانیے سے قوم کی روح تک گھائل ہو جاتی ہے تو اسحاق ڈار اپنا موقف لے آتے ہیں تاکہ سند رہے کہ یہ والی مسلم لیگ تو بہت اچھی ہے۔ یہ ایک شعوری کوشش ہے کہ اس دور اقتدار میں عوام کو نچوڑ بھی لیا جائے اور اگلے الیکشن کے لیے ایک بیانیہ بھی تشکیل دے دیا جائے کہ وہ سب کچھ شہباز شریف نے کیا تھا۔ اب نواز شریف میدان میں ہیں اب پہلے جیسی حکومت نہیں ہو گی۔ اب تو کمالات ہوں گے۔ اب تو دودھ کی نہریں بہیں گی۔ اب تو شہد کے جھرنے پھوٹیں گے۔ اب تو جون میں برفیں پڑیں گی، اب تو دسمبر گرم ہو گا۔
بلدیہ فیکٹری میں 264 جانیں لینے والے ٹانگے کیوں نہیں گئے؟
لیکن سیاسی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ بیانیہ کامیاب ہو جائے گا؟ کیا نواز شریف مجبور ہو چکے ہیں؟ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ نواز شریف جن مقامات پر رجز پڑھتے رہے شہباز شریف انہی مقامات کو قصیدہ بنا دیتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کیا ہوا؟ ناقدین کہتے ہیں عمران خان تویو ٹرن لیتے تھے، ن لیگ نے تو اباؤٹ ٹرن ہی لے لیا۔ اب یہ باہمی اختلافات ہیں، بے بسی ہے، حالات کا جبر ہے یا پھر دونوں بھائی ایک پیج پر ہیں اور حکمت عملی کے تحت گڈ کاپ، بیڈ کاپ کھیلا جا رہا ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق دو سوالات بہت اہم ہیں اور مسلم لیگ ن چاہے بھی تو ان سوالات کے آسیب سے دامن نہیں بچا سکتی۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ایسی کیا افتاد آن پڑی تھی کہ عمران کو تب اقتدار سے الگ کیا جاتا جب وہ اقتدار کی غالب مدت پوری کر چکے تھے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ عمران کو اقتدار سے الگ کر ہی دیا تھا تو مسلم لیگ ن کے پاس متبادل معاشی حکمت عملی کیا تھی؟ عمران آج پہلے سے زیادہ مقبول ہیں۔ انہیں اگر اقتدار سے الگ نہ کیا جاتا تو ان کی سیاست اس وقت نیم جان ہوتی۔ جس تیزی سے وہ غیر مقبول ہو رہے تھے امکان یہی تھا اگلے انتخابات میں ان کا ٹکٹ لینے والا ہی کوئی نہ ہو گا۔
لیکن آج وہ سیاست کی سب سے طاقتور آواز ہیں۔ قانون کی زد میں آ کر نااہل ہو جائیں تو الگ بات ہے لیکن سیاست کی دنیا میں اس وقت عمران کا کوئی مقابل نہیں۔ انہوں نے سب کو دھول چٹا دی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسری طرف مسلم لیگ ن اپنے اس ایڈوینچر کے بوجھ تلے کچلی جا رہی ہے۔ اسکے جن حلیفوں نے اسے شہ دی تھی کہ بہار آئے نہ آئے خزاں ختم ہونی چاہیے تھی وہ وزارتوں کا ’مال غنیمت‘ لے کر گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ شور تھا کہ ہم اقتدار میں آئیں گے تو عمران خان کے ہاتھوں تباہ ہونے والی معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کر دیں گے لیکن معلوم یہ ہوا کہ ن لیگ حکومت کی کل معاشی بصیرت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی ہر شرط مان کر قرض لے لیا جائے۔ قرض کا حصول بے شک ضروری ہو گا لیکن کیا ہر شرط مان کر لیا جانے والا قرض بھی کامیابی کے باب میں درج کیا جا سکتا ہے؟دیوالیہ ہونے سے بچ کر حکومتی اداروں اور جملہ افسر شاہی کے اخراجات تو پورے ہو جائیں گے لیکن کیا اچھی طرز حکومت صرف افسر شاہی کے ناز اٹھانے کا نام ہے؟ اس سارے بندوبست میں عوام کہاں ہیں؟
