پولیس والوں نے دعا منگی کے اغوا کار کو کیوں فرار کرایا؟

سزائے موت کے مجرم شاہ رخ جتوئی کو شاہانہ پروٹوکول دینے والی سندھ پولیس نے اب اندھیر نگری چوپٹ راج کی ایک اور مثال قائم کرتے ہوئے 2019 کے ہائی پروفائل دعا منگی اغواء کیس کے مرکزی ملزم زوہیب قریشی کو دن دیہاڑے میں فرار کروادیا ہے۔ اگرچہ اہلکاروں نے بات چھپانے کی کوشش کی لیکن جیل میں قیدیوں کی گنتی کے وقت یہ راز کھل گیا، اب وزیر اعلیٰ سندھ نے حسب سابق کارروائی ڈالتے ہوئے واقعے کی انکوائری ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس بااثر جرائم پیشہ افراد کی کھل کر سرپررستی کررہی ہے۔ کبھی مہینوں تک سزائے موت کے مجرم کو وی آئی پروٹوکول میں نجی اسپتال میں ٹھہرایا جاتا ہے اور کبھی زیر حراست ملزمان کو شاپنگ کے لئے لیجا کر فرار کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔ یہ سب وارداتیں حکومت کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں لیکن وزیرا علی سندھ ہر مرتبہ لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے محض انکوائری کا حکم جاری کرکے معصوم بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ دعا منگی کے اغوا کا واقعہ 30 نومبر 2019 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پیش آیا تھا جہاں دعا کو خیابان بخاری سے مسلح افراد نے اغوا کیا تھا جبکہ ان کے دوست حارث سومرو پر فائرنگ بھی کی تھی جس سے وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو گیا۔

دعا منگی دسمبر میں تاوان کی ادائیگی کے بعد گھر واپس آئی تھیں، ان کی رہائی 20 سے 25 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی تھی۔ اس ہائی پروفائل کیس کے ملزمان کو کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم نے 18 مارچ 2020 کو گرفتار کیا تھا جن میں زوہیب قریشی بھی شامل تھا، ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان ہی ملزمان نے ڈیفنس سے بسمہ سلیم نامی لڑکی کو بھی تاوان کے لیے اغوا کیا تھا اور تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا تھا۔

بسمہ نامی طالبہ کو 11 مئی 2019 کو ڈیفنس میں کار سوار مسلح افراد نے ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا۔پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کا جرائم کا ریکارڈ ہے اور وہ شہر میں گاڑیاں چھیننے میں بھی ملوث ہیں جبکہ ایک پولیس افسر بھی ان سرگرمیوں میں ملوث تھا جن کو محکمے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ دونوں مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ملزم زوہیب قریشی پر ایک کیس میں 3 سال کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے۔

بلاگر وقاص گورایہ کو مارنے کی سازش کا الزام ثابت ہو گیا

حکام کا کہنا ہے کہ زوہیب قریشی کو دعا اغوا کیس میں عدالت میں پیش کیا گیا تھا، حاضری کے بعد ملزم پولیس کے ساتھ جوتوں کی خریداری کے بہانے طارق روڈ گیا، پولیس اہلکار ملزم کو قیدیوں کی وین کے بجائے پرائیویٹ گاڑی میں لائے تھے۔ زوہیب قریشی گاڑی سے اکیلا باہر آیا، شاپنگ مال کے ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے سے باہر نکلا اور رکشے میں بیٹھ کر وہاں سے باآسانی فرار ہوگیا۔

فرار کے اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر کسی کو اطلاع نہ دی، جیل پہنچنے پر جب قیدیوں کی گنتی ہوئی تو زوہیب قریشی کے فرار کا عقدہ کھلا۔ ذرائع کے مطابق ملزم زوہیب قریشی کو واپس جیل پہنچانے کی ذمہ داری ہیڈ کانسٹیبل نوید اور کانسٹیبل ظفر کی تھی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اور سیکریٹری داخلہ کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی اور ملزم زوہیب قریشی کو فوری گرفتار کر کے رپورٹ طلب کی ہے۔

وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر دونوں پولیس اہلکاروں نوید اور ظفر کو گرفتار کرکے لاک اپ کردیا گیا ہے جبکہ ایس ایس پی کورٹ پولیس اعظم درانی کو فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی جاچکی ہے۔ پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس پارٹی تشکیل دی جاچکی ہے، ڈی آئی جی شرقی اور سی آئی اے کے اہلکارروں پر مشتمل پولیس پارٹی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائے گی۔

Back to top button