پی ٹی آئی پنجاب میں اختیار کی جنگ، پارٹی تماشہ بن گئی

 

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی خلیج کم نہ ہو سکی۔ اقتدار اور اختیار کے حصول کی کشمکش میں پارٹی رہنما ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں، وسطی پنجاب کی تنظیمی قیادت کے معاملے پر سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کے درمیان سوشل میڈیا پر چھڑنے والی لفظی جنگ نے پی ٹی آئی کو ایک مرتبہ پھر تماشہ بنا دیا ہے.پی ٹی آئی وسطی پنجاب کے صدر احمد چٹھہ اور جنرل سیکریٹری بلال اعجاز کی برطرفی اور علی امتیاز وڑائچ کی بطور صدر تقرری کے معاملے نے پارٹی کے اندر موجود اختلافات کو مزید آشکار کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ دونوں پارٹی رہنماؤں کے مابین تنازعہ اُس وقت بھڑکا جب علیہ حمزہ نے اکتوبر میں ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے احمد چٹھہ اور بلال اعجاز کو ان کے عہدوں سے برطرف کر کے علی امتیاز وڑائچ کو نیا صدر مقرر کر دیا۔

تاہم سلمان اکرم راجہ نے اس اقدام کو متنازع قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان نے ان کی موجودگی میں ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا، جس سے پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے۔ تاہم یہ معاملہ اُس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب عمران خان کے ایکس یعنی ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں احمد چٹھہ اور بلال اعجاز کی حمایت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا گیا کہ اُن کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ عمران خان کے اس وضاحتی بیان نے نہ صرف پارٹی کے اندرونی نظم و ضبط کو مزید کمزور کر دیا بلکہ تنظیمی ڈھانچے کی شفافیت پر بھی گہرا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی میں اقتدار کی کئی متوازی لائنیں بن چکی ہیں۔ ایک وہ جو جیل میں قید عمران خان کے قریب سمجھی جاتی ہے، اور دوسری وہ جو بیرونِ جیل بیٹھے رہنما چلا رہے ہیں۔ اس دو عملی نے نہ صرف پارٹی کی داخلی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عام کارکنان کے اعتماد کو بھی مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔ یوتھیے کارکنان بھی پریشان ہیں کہ وہ کس لائن کو فالو کریں۔

مبصرین کے مطابق یہ معاملہ صرف تنظیمی تبدیلی تک محدود نہیں رہا بلکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مابین ایک اور تنازعہ اس وقت ابھر کر سامنے آیا جب اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لئے دئیے گئے ناموں کی فہرست کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر علی ظفر کے درمیان بھی کھچاؤ پیدا ہو گیا۔ جیل حکام کو دونوں پارٹی رہنماؤں کی جانب سے الگ الگ فہرستیں جمع کرانے سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ پی ٹی آئی کا انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق سپریم کورٹ کی واضح ہدایت کے باوجود کہ ملاقاتوں کی فہرستیں صرف سیکریٹری جنرل جمع کرائیں گے، علی ظفر کی جانب سے علیحدہ فہرست جمع کرانا پارٹی کے اندر طاقت کی کشمکش کو نمایاں کرتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کے یہ داخلی جھگڑے محض شخصی انا یا تنظیمی عہدوں کی لڑائی نہیں ہیں بلکہ یہ اس گہرے انتشار کی علامت ہیں جو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی غیر موجودگی میں رہنما اقتدار کی پوزیشن سنبھالنے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ دوسری جانب پارٹی کے نظریاتی کارکن اس بدانتظامی سے بددل ہو رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کا ایک دوسرے کے خلاف محاذ کھولنا جہاں پی ٹی آئی کو کمزور کر رہا ہے وہیں مخالف جماعتوں کو پارٹی  تمسخر اڑانے کا موقع بھی فراہم کررہا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان کی غیر موجودگی نے پی ٹی آئی میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے جسے پر کرنے کے بجائے رہنما ذاتی مفادات کی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہیں۔ اگر پی ٹی آئی نے اس اندرونی انتشار پر قابو نہ پایا تو مستقبل میں یہ صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ "رہنماؤں کے گروہوں” کا مجموعہ بن کر رہ جائے گی — جہاں فیصلے باہمی مشاورت کی بجائے ٹویٹس کے ذریعے انجام پائیں گے۔ ناقدین کے مطابق تحریک انصاف کا یہ داخلی انتشار اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رگڑا لگنے کے باوجود پی ٹی آئی قیادت اب بھی ذاتی انا، ترجیحات اور گروہی مفادات کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد تنظیم کو متحد رکھنے کے بجائے رہنماؤں نے خود کو اقتدار کے "متبادل مراکز” کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔پارٹی کا یہ طرزِ عمل نہ صرف اس کے نظریاتی کارکنان کے اعتماد کو مجروح کر رہا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی تحریک انصاف کی ساکھ ہر گزرت دن کے ساتھ کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔

Back to top button