کیا PPP اور GHQ کے مابین فاصلے بڑھنے لگے ہیں؟

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے فوری انتخابات نہ کرانے پر سخت ردعمل کے انتباہ کو سیاسی حلقے پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ میں آنے والے فاصلوں سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت کا حصہ رہنے والی پاکستان پیپلز پارٹی اب جی ایچ کیو سے اپنی راہ جدا کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔اب کئی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور ملک کی طاقتوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ان بڑھتے ہوئے فاصلوں کا ایک اشارہ جمعہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کی ہونے والی ایک پریس کانفرنس سے ہی ملتا ہے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء نیر بخاری اور دیگر نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے 90 دن میں الیکشن نہیں کروائے تو پاکستان پیپلز پارٹی قانونی راستہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس پریس کانفرنس میں پہلی مرتبہ یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے مشترکہ مفادات کی کونسل میں نئی مردم شماری کے تحت انتخابات کرانے کی حامی اس لیے بھری تھی کہ انہیں یقین دہانیاں کرائی گئی تھی کہ اس سے انتخابات میں التوا نہیں ہوگا۔

ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ملتوی کروانا چاہتی ہے لیکن دوسری طرف سندھ میں اقتدار سے ہاتھ دھونے والی پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ انتخابات فوری طور پر اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہیں۔ پیپلز پارٹی کی سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق چیئر پرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شازیہ مری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ انتخابات 90 دن کی آئینی مدت میں ہوں۔ انہوں نے بتایا، ”ہمارا واحد مطالبہ یہ ہے کہ انتخابات 90 دن کی آئینی مدت میں کرائے جائیں۔ ہماری سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے اور وہ بھی اس نقطہ نظر کی حامی تھی کہ 90 دن کے آئینی مدت میں انتخابات ہونے چاہییں۔‘‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کا کہنا ہے کہ پی پی پی کا یہ رویہ اسٹیبلشمنٹ کی منشا کے خلاف ہے’اور یقیناً یہ مطالبہ دونوں کے درمیان ناراضگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔‘‘

کچھ مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات کی وجہ صرف 90 دن کی آئینی مدت میں انتخابات ہی نہیں ہیں بلکہ ان اختلافات کی نوعیت اس سے زیادہ گہری ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار نوید حسین کا کہنا ہے پاکستان پیپلز پارٹی یہ امید کر رہی تھی کہ بلاول بھٹو زرداری کو اگلا وزیراعظم بنایا جائے گا لیکن اب ان کی یہ امید پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے بتایا، ” با اختیار حلقوں کا یہ خیال ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اتنا تجربہ نہیں رکھتے کہ وہ کسی بحرانی کیفیت میں ملک کو سنبھال سکیں اور ان حلقوں کے خیال میں سابق وزیراعظم شہباز شریف وزارت اعظمٰی کی کرسی کے لیے سب سے موضوع ترین شخصیت ہیں۔‘‘

نوید حسین کا خیال ہے کہ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی میں اعتماد کا فقدان بھی ہے۔ ”کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کیونکہ ایک نظریاتی جماعت ہے اور اس میں بعض اراکین پارلیمنٹ ایسے ہیں جواسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پہ تنقید بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں ایسی پالیسیوں کے لیے رکاوٹ بھی کھڑی کر سکتے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ لانا چاہتی ہو۔ اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو اقتدار دے کر رسک نہیں لیا جا سکتا۔‘‘

نوید حسین کے مطابق جب پارلیمنٹ نے حال ہی میں مختلف مسائل پر قانون سازی کی، تو وہاں بھی رضا ربانی اور پیپلز پارٹی کی کچھ رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ ”اس روئیے کو طاقتور حلقوں میں پسند نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کی طرف سے پی ٹی آئی کی حمایت اور اس پر پی پی پی کی خاموشی کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس شہباز شریف نے یہ ثابت کیا کہ وہ عمران خان سے بھی زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے وفادار ہیں اور انہوں نے فخر سے اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات بیان کیے۔‘‘

 بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ”ابھی کچھ مہینے پہلے تک واقعی یہ لگ رہا تھا کہ اگلی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کو دی جائے گی۔ جنوبی پنجاب سے روایتی سیاستدان اور بلوچستان سے بلوچستان عوامی پارٹی کے لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن پھر اچانک سب کچھ تبدیل ہو گیا اور ایسا لگتا ہے کہ طاقتور حلقے اب ہمیں وفاق یا دوسرے صوبوں میں حکومت میں آنے نہیں دینگے۔‘‘

خیال کیا جاتا ہے کہ سندھ میں افسران کے تبادلے اور عبوری سیٹ ا پ میں پی پی پی کی نمائندگی نہ ہونا بھی پنڈی اور بلاول ہاؤس کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے۔پیپلز پارٹی مشکل میں ہے

آپ پاکستان کا فخرہیں، شاہین اورحارث کی تاریخی فتح پرارشد ندیم کومبارکباد

اسی لیے نہیں چاہتی کہ انتخابات 90روز سے آگے جائیں۔

Back to top button