پاکستان سیاسی ربوٹ اور مصنوعی صحافی بنانے میں خود کفیل کیسے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اب جب دُنیا چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شاہکار تجربوں سے مستفیض ہو رہی ہے، ہم دُنیا سے اس معاملے میں کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے تیار شدہ اینکر و صحافی اب منظر عام پر آ رہے ہیں جبکہ ہم گذشتہ کم از کم دو دہائیوں سے الیکٹرانک اور پرنٹ میں اس سے کہیں پہلے مصنوعی ذہانت کے طور پر ’پروگرامڈ‘ صحافت کا ’فائدہ‘ اُٹھا رہے ہیں اور مسلسل فیکٹریوں میں ایسے دماغ تیار کر رہے ہیں جو فیڈڈ اطلاعات دے کر مخصوص نقطہ نظر کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ اپنے ایک کالم عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں کہ ایک خبر نظر سے گزری کہ ایک روبوٹ میں فیڈ کردہ پروگرام خود سائنسدان کی جان لے گیا کیونکہ روبوٹ کے خودکار نظام نے کنٹرول ہاتھ میں لے لیا اور یوں پروگرامر اُسی روبوٹ کے ہاتھوں کام آیا۔ یہ خبر چونکا دینے والی بالکل نہ لگی کیونکہ ہمارے ہاں حقیقتاً ایسا ہو چکا۔ وطن عزیز میں یہ تجربہ یوں ہوا کہ سیاسی روبوٹ تیار کرنے والوں نے یہاں بھی خودکار نظام کا بٹن دبا دیا اور یوں اب سیاسی روبوٹ گذشتہ تقریبا ڈیڑھ سال سے ’پروگرامر‘ کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے۔ عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ زمانے کی اپنی چال ہے اور چال کی چاپ وہی سُنائی دیتی ہے جن پیروں میں جان ہو اور جان بھی ایسی کہ نشان باقی رہیں۔ افسانے حقیقت بنیں گے اور خواب سے پہلے تعبیر ہو گی، شعر میں لفظوں کی جگہ اعداد بولیں گے، روح کے بنا جسم اور دل بغیر احساس، مصنوعی ذہن نقلی شخصیتیں بنائیں گے اور کمپویٹر گفتگو کریں گے، ہو بہو آپ کا لہجہ ہو گا، آپ کا چہرہ ہو گا اور آپ کی شخصیت ہو گی۔ لفظ باتیں کریں گے مگر باتوں سے خوشبو نہ آئے گی، لب ہلیں گے مگر چاشنی نہ ہو گی، آنکھیں ہوں گی مگر عکس نہ ہو گا۔۔۔ محبوب محبت کے بغیر، چاہت بغیر ضرورت اور عشق بنا عین ہو گا۔۔۔ بھلا اس دُنیا میں اور کیا کام ہو گا؟ جناب! زمانہ اپنی چال چل گیا ہے۔ ابھی گذشتہ ہفتے ٹی وی پر خبریں پڑھتا اصلی سے بہتر اطلاعات دیتا مگر نقلی اینکر دیکھا۔ گوشت پوست کا انسان سوال پوچھ رہا تھا اور روبوٹ درست جواب دے رہا تھا یعنی روبوٹ میں فیڈ کی گئی اطلاعات یا گوگل سرچ کا انجن دھڑا دھڑ زبان کا انجن چلا رہا تھا۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ انسانی ذہن کے موافق رفتار روبوٹ کے دماغ کی اصلیت پر کوئی شُبہ بھی ظاہر نہ کر رہی تھی۔ ابھی ورطۂ حیرت میں تھے کہ ایک خبر نے چونکا دیا، روبوٹ ریسٹورنٹ میں کام کریں گے، آرڈر لیں گے، ڈیلیور کریں گے اور تن دہی سے کام سرانجام دیں گے، نہ چھٹی کی جھنجھٹ نہ ہی کوئی کِل کِل۔۔۔ نہ تنخواہ کا مسئلہ نہ کوئی میڈیکل اور دیگر لوازمات۔ جس تواتر سے مصنوعی ذہانت کی اصل مصنوعات منظر عام پر آ رہی ہیں خوف کا احساس ہوا کہ کیا انسان بھی اپنی عقل استعمال کر پائیں گے لیکن پھر طفل تسلی دی کہ اس ذہانت کے پیچھے بھی تو اصل دماغ انسان کا ہی ہے بھلا اُس کو کون پچھاڑ سکتا ہے۔
