وزیراعظم ہاؤس خطرے میں، فائر سیفٹی نظام مکمل ناکام؟

وزیراعظم ہاؤس ملک کی اہم ترین اور حساس عمارتوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی حفاظتی انتظامات کی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن اسلام آباد میں ہونے والی ایک فرضی فائر اینڈ ریسکیو ڈرل نے اسی نظام میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کردی ہے جو کسی حقیقی ہنگامی صورتحال میں سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہیں۔ فائر ڈرل کے دوران معلوم ہوا کہ سائرن کی آواز انتہائی کم ہے جبکہ بجلی بند ہونے کی صورت میں وزیراعظم ہاؤس کا برقی گیٹ بھی نہیں کھل سکا۔ اگرچہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیم کا ردعمل مقررہ وقت کے اندر اور مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر فرضی مشق میں ہی بنیادی حفاظتی خامیاں سامنے آگئی ہیں تو حقیقی آگ لگنے کی صورت میں کیا ہوگا؟
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی فرضی فائر اینڈ ریسکیو ڈرل کے دوران عمارت کے حفاظتی نظام میں اہم خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ مشق کے دوران معلوم ہوا کہ فائر الارم اور سائرن کی آواز انتہائی کم ہے جبکہ بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس کا برقی گیٹ بھی نہیں کھل سکا۔ سی ڈی اے نے ان خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق فائر کال موصول ہونے کے تقریباً چار منٹ بعد جی فائیو فائر ٹینڈر وزیراعظم ہاؤس پہنچا، جبکہ ریسکیو وین اور برونٹو اسکائی لفٹ نے تقریباً نو منٹ میں موقع پر پہنچ کر رسپانس دیا۔ سی ڈی اے کے مطابق کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کا مجموعی فائر اینڈ ریسکیو ردعمل بروقت اور تسلی بخش رہا۔
تاہم مشق کے دوران سامنے آنے والی بنیادی خامیوں نے عمارت کے اندر موجود حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ سائرن کی آواز کم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہنگامی صورتحال میں عمارت میں موجود افراد کو بروقت خطرے سے آگاہ کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے، جبکہ بجلی بند ہونے کی صورت میں ایمرجنسی گیٹ کا نہ کھلنا محفوظ انخلا کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم ہاؤس میں بجلی کی بندش یا برقی نظام کی خرابی کی صورت میں گیٹ کھولنے کے لیے دستی یا متبادل نظام فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی حساس عمارت کے فائر سیفٹی نظام میں صرف فائر بریگیڈ کا بروقت پہنچنا کافی نہیں ہوتا بلکہ الارم، سائرن، ہنگامی راستے اور ایمرجنسی دروازوں کا ہر صورتحال میں فعال رہنا بھی ضروری ہے۔
وزیراعظم ہاؤس کی یہ مشق پاکستان میں فائر سیفٹی کے وسیع تر نظام کے حوالے سے بھی اہم سوال اٹھاتی ہے۔ اگر ملک کی اہم ترین سرکاری عمارتوں میں سے ایک میں فرضی مشق کے دوران بنیادی حفاظتی خامیاں سامنے آسکتی ہیں تو دیگر سرکاری عمارتوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر فائر سیفٹی انتظامات کی باقاعدہ جانچ بھی ضروری ہے۔
فائر ڈرل کا بنیادی مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ کسی حقیقی حادثے سے پہلے حفاظتی نظام کی کمزوریاں سامنے آجائیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں سائرن اور ایمرجنسی گیٹ کی خامیوں کی بروقت نشاندہی ایک مثبت پہلو ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ ان مسائل کو کتنی جلدی دور کیا جاتا ہے اور مستقبل میں باقاعدہ مشقوں کے ذریعے ان کی کارکردگی کو کس طرح یقینی بنایا جاتا ہے۔
آخرکار کسی بھی عمارت کی حفاظتی صلاحیت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب معمول کا نظام ناکام ہوجائے۔ وزیراعظم ہاؤس کی فائر ڈرل نے جہاں فائر اینڈ ریسکیو ٹیم کے بروقت ردعمل کو واضح کیا، وہیں یہ بھی دکھا دیا کہ ہنگامی صورتحال میں صرف امدادی ٹیم کا وقت پر پہنچنا کافی نہیں، عمارت کے اندر موجود حفاظتی نظام کا ہر حال میں قابلِ اعتماد ہونا بھی ضروری ہے۔
