پٹرولیم لیوی، کیا جماعت اسلامی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر پائے گی؟

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعتِ اسلامی کے احتجاج نے حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سیاسی محاذ پر ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا راستہ کھل گیا ہے اور دونوں جانب سے مذاکراتی کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی نے مذاکرات کے ساتھ اپنا احتجاج اور دھرنا بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا دونوں فریق کسی قابلِ عمل فارمولے پر اتفاق کر پاتے ہیں یا مذاکرات بھی ماضی کی طرح محض وعدوں اور یقین دہانیوں تک محدود رہتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے منصورہ میں جماعتِ اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے یا کمی سمیت دیگر مطالبات پر بات چیت ہوئی۔ دونوں جانب سے مذاکراتی کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جو 7 ستمبر کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گی۔ جماعتِ اسلامی اپنی تجاویز حکومت کے سامنے رکھے گی جبکہ متعلقہ حکام ان پر غور کریں گے۔
امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ مذاکرات کے ساتھ دھرنا بھی جاری رہے گا، یعنی جماعتِ اسلامی حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ حکومت کی جانب سے گرفتار کارکنوں کی رہائی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
تاہم پٹرولیم لیوی میں بڑی کمی حکومت کے لیے آسان نہیں، کیونکہ یہ وفاقی آمدن کا اہم ذریعہ ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ کیے گئے مالیاتی وعدے بھی حکومت کے سامنے ہیں۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ حکومت لیوی مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اس میں کسی حد تک کمی کی کوشش کرے گی۔
اس مذاکراتی عمل نے ایک وسیع سیاسی سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ اگر حکومت جماعتِ اسلامی کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کر سکتی ہے تو دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی مذاکرات کا سلسلہ کیوں نہ آگے بڑھایا جائے؟ سیاسی ماہرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامعنی مذاکرات ملک میں سیاسی کشیدگی کم اور استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے بقول سیاسی اعتبار سے بھی یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ حکومت کی جانب سے جماعتِ اسلامی کی قیادت سے براہِ راست ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی اختلافات کو سڑکوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ عمل کامیاب رہتا ہے تو نہ صرف پٹرولیم لیوی کے معاملے پر کوئی قابلِ قبول حل سامنے آ سکتا ہے بلکہ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے لیے بھی ایک مثال قائم ہو سکتی ہے۔تاہم یہاں ایک بنیادی سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر حکومت جماعتِ اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسئلے کا حل تلاش کر سکتی ہے تو یہی طرزِ عمل دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کیوں اختیار نہیں کیا جا سکتا؟ سیاسی ماہرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مسلسل کشیدگی ملک میں سیاسی عدم استحکام کو بڑھاتی ہے، جبکہ بامعنی مذاکرات سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام کی بھی ضرورت ہے۔ مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، ٹیکسوں اور لیوی کا بوجھ عوام کے لیے پہلے ہی بڑے مسائل ہیں۔ اگر حکومت کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے عوامی ریلیف کا قابلِ عمل راستہ نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف موجودہ احتجاج کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ حکومت کے لیے سیاسی اعتبار سے بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔
اب تمام نظریں 7 ستمبر کے مذاکرات پر ہیں۔ اگر حکومت عوامی ریلیف اور اپنے مالی تقاضوں کے درمیان کوئی قابلِ عمل راستہ نکال لیتی ہے تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، بصورتِ دیگر جماعتِ اسلامی کا احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ یوں حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان مذاکرات محض پٹرولیم لیوی کے ایک معاملے تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ پاکستان میں حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات، احتجاج اور سیاسی دباؤ کے مستقبل کے طریقۂ کار کا بھی ایک امتحان بن گئے ہیں۔ اگر دونوں فریق سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی ریلیف کے کسی قابلِ عمل فارمولے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ موجودہ سیاسی ماحول میں ایک مثبت پیش رفت ہوگی، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ ان کا کوئی واضح اور قابلِ عمل نتیجہ بھی سامنے آئے۔
