سندھ طاس معاہدہ، پانی پر پاک بھارت جنگ چھڑنے کا خطرہ کیوں؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ دی ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت نے قرار دیا ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ اب بھی مؤثر اور قابلِ عمل ہے، لیکن بھارت نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ نئی دہلی نے ثالثی عدالت کو ہی ’’نام نہاد عدالت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے بھارت کے خودمختار فیصلوں پر رائے دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ یوں ایک ایسے معاہدے کا مستقبل سوال بن گیا ہے جو گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کی جنگوں اور شدید کشیدگی کے باوجود قائم رہا۔

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج پر بھارت کے حقوق تسلیم کیے گئے، جبکہ مغربی دریائے سندھ، جہلم اور چناب کا پانی بنیادی طور پر پاکستان کے لیے مختص کیا گیا۔ تاہم بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود مقاصد، خصوصاً مخصوص پن بجلی منصوبوں کے لیے پانی استعمال کرنے کی اجازت بھی حاصل ہے۔ یہی انتظام دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازع کو ایک باقاعدہ قانونی اور بین الاقوامی فریم ورک میں رکھتا رہا ہے۔

مسئلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اپریل 2025 میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کے بعد نئی دہلی نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ بھارت نے حملے کی ذمہ داری کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد پانی کا معاملہ محض ایک تکنیکی یا سفارتی تنازع نہیں رہا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دباؤ اور ردعمل کی وسیع تر کشمکش کا حصہ بن گیا۔

پاکستان کے لیے اس تنازع کی اہمیت غیر معمولی ہے کیونکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب ملک کے کروڑوں افراد کی پانی اور زرعی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ خصوصاً پنجاب اور سندھ کی معیشت کا ایک بڑا حصہ انہی دریاؤں کے پانی پر منحصر ہے۔ اسی لیے پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ پانی کے حصے سے محروم کرنے یا اس کے بہاؤ کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی کوشش انتہائی سنگین اقدام تصور کی جائے گی۔

حالیہ قانونی پیش رفت میں پاکستان کو ایک اہم سفارتی کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے، کیونکہ ثالثی عدالت نے معاہدے کے مؤثر ہونے کی توثیق کی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر کسی بین الاقوامی معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ تاہم اصل چیلنج فیصلے کے اعلان سے زیادہ اس پر عمل درآمد کا ہے، کیونکہ اگر بھارت عدالت کے فیصلے کو تسلیم ہی نہ کرے تو اسے عملی طور پر نافذ کرانا آسان نہیں ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ثالثی عدالت کے فیصلے سے پاکستان کا قانونی اور سفارتی مؤقف مضبوط ضرور ہوا ہے، لیکن اس سے بھارت کی موجودہ پالیسی میں فوری تبدیلی کے امکانات محدود ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل ثالثی عدالت کے پاس اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے ایسی براہِ راست قوت موجود نہیں جس کے ذریعے وہ بھارت کو زبردستی فیصلے پر عمل کرا سکے۔ بھارت چونکہ کارروائی میں شریک نہیں ہوا، اس لیے نئی دہلی پہلے ہی اس عمل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتا رہا ہے۔

اس کے باوجود بھارت کے لیے بھی معاملہ مکمل طور پر بے خطر نہیں۔ کسی بین الاقوامی معاہدے اور ثالثی کے عمل کو مسلسل مسترد کرنا اس کی عالمی قانونی اور سفارتی ساکھ کے لیے سوالات پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ فیصلہ اسی لیے اہم ہے کہ اس نے بین الاقوامی سطح پر یہ مؤقف مضبوط کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض دونوں ممالک کے درمیان ایک سیاسی سمجھوتا نہیں بلکہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے۔

دوسری طرف یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر بھارت واقعی مغربی دریاؤں کے پانی کو روکنے یا اس کے بہاؤ میں نمایاں تبدیلی لانا چاہے تو کیا وہ فوری طور پر ایسا کر سکتا ہے؟ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں اس کے لیے بڑے پیمانے پر ڈیم، ذخیرہ آب، نہریں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ درکار ہوگا، جو فوری طور پر دستیاب نہیں۔ جغرافیائی اور تکنیکی رکاوٹیں بھی بھارت کی صلاحیت کو محدود کرتی ہیں۔ اس لیے معاہدے کی معطلی کا فوری اثر پانی مکمل طور پر روک دینے کے بجائے زیادہ تر سیاسی، سفارتی اور نفسیاتی دباؤ کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

تاہم طویل مدت میں صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر بھارت مغربی دریاؤں پر مزید بڑے منصوبے تعمیر کرتا ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کی اپنی صلاحیت بڑھاتا ہے تو پاکستان کے لیے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی آبادی، پانی کی بڑھتی طلب اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

یوں سندھ طاس معاہدے کا مستقبل صرف ایک عدالتی فیصلے سے طے نہیں ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ایک طرف بین الاقوامی قانون اور سفارتی محاذ پر اپنا مقدمہ مضبوط رکھنا ہوگا، تو دوسری جانب پانی کے بہتر انتظام، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور آبی وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی فوری توجہ دینا ہوگی۔ اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ بھارت معاہدے کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کا مسئلہ آنے والے برسوں میں سیاسی دباؤ سے بڑھ کر قومی سلامتی کا مسئلہ کس حد تک بن سکتا ہے۔

Back to top button