سائبر کرائم کا خطرناک جال، ارکانِ اسمبلی بھی غیر محفوظ قرار

پاکستان میں سائبر کرائم اب محض موبائل فون پر آنے والی مشکوک کالز یا جعلی پیغامات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک منظم اور خطرناک نیٹ ورک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں شہریوں کے فنگر پرنٹس، بائیومیٹرک معلومات، موبائل سمز، بینک اکاؤنٹس اور دیگر حساس معلومات جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھ لگنے کا انکشاف ہوا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین بھی خود جعل سازوں کی کالز اور واٹس ایپ ہیکنگ کا سامنا کر چکے ہیں، جبکہ حکام نے ایک ہی کارروائی میں 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک ڈیٹا برآمد ہونے کا انکشاف کیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سائبر کرائمز کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین خرم نواز نے بتایا کہ انہیں ہر ہفتے کوریئر کے نام پر جعل سازوں کی کالز موصول ہوتی ہیں، جبکہ ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ بھی ہیک ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ارکانِ اسمبلی تک سائبر جعل سازوں کی رسائی ہو سکتی ہے تو عام شہری کس قدر غیر محفوظ ہوں گے؟ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ شہریوں کے انگوٹھوں کے نشان اور دیگر حساس معلومات جرائم پیشہ عناصر تک آخر پہنچتی کیسے ہیں اور وہ ان معلومات کو استعمال کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹس تک رسائی کیسے حاصل کر لیتے ہیں۔
اجلاس میں قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کے حکام نے ایسے انکشافات پیش کیے جنہوں نے ڈیجیٹل اور مالیاتی تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ حکام کے مطابق ایک ہی چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے تقریباً 6 لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بائیومیٹرک ڈیٹا برآمد ہوا۔ یہ انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہریوں کی شناخت سے متعلق انتہائی حساس معلومات کس بڑے پیمانے پر جرائم پیشہ عناصر کے پاس پہنچ رہی ہیں اور انہیں مالیاتی فراڈ سمیت مختلف جرائم میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کارروائی کے دوران فیصل آباد سے گرفتار کیے گئے ایک ملزم کے قبضے سے 195 فعال موبائل سمز، 16 سمارٹ فونز اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈز بھی برآمد کیے گئے۔ حکام کے مطابق چوری شدہ ڈیٹا، جعلی سمز اور دیگر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے شہریوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر مالیاتی فراڈ کیا جا رہا ہے۔ اس پورے نیٹ ورک میں موبائل فون، شناختی معلومات اور بینکاری نظام کو باہم جوڑ کر شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اجلاس میں موبائل سمز کے غیر قانونی اجرا کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ اب تک دوسروں کے نام پر جاری ہونے والی ایک کروڑ 80 لاکھ جعلی سمز بلاک کی جا چکی ہیں، جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر ٹیلی کام کمپنیوں پر ساڑھے 4 ارب روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم معاملے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ سامنے آیا کہ موبائل کمپنیوں کے بعض اپنے اہلکار بھی شہریوں کا حساس ڈیٹا لیک کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
حکام نے راجن پور کا ایک واقعہ بطور مثال پیش کیا، جہاں راشن فراہم کرنے کے بہانے ایک خاتون کا انگوٹھا لگوایا گیا اور اسی بائیومیٹرک معلومات کو استعمال کرتے ہوئے اس کے نام پر سم جاری کر دی گئی۔ بعد ازاں یہی سم دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوئی۔ یہ واقعہ اس امر کی سنگینی کو واضح کرتا ہے کہ شہری اگر اپنی بائیومیٹرک معلومات کے استعمال میں معمولی سی بے احتیاطی بھی کریں تو اس کے نتائج نہ صرف مالی نقصان بلکہ سنگین قانونی اور سکیورٹی مسائل کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے ایک اور خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں بینک اکاؤنٹس کرائے پر دینے کا نیا کاروبار بھی چل رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض لوگ چند پیسوں کے عوض اپنے بینک اکاؤنٹس دوسرے افراد کو استعمال کرنے کے لیے دے دیتے ہیں۔ حیران کن طور پر بعض اکاؤنٹ مالکان کو اس بات کا علم بھی ہوتا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ کے ذریعے غیر قانونی سرگرمی ہوئی تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ پہلے ہی اپنا حصہ طے کر کے اس غیر قانونی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سائبر کرائم اب صرف ہیکرز یا آن لائن جعل سازوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا غیر قانونی ڈھانچہ تشکیل پا رہا ہے، جس میں جعلی سمز، چوری شدہ بائیومیٹرک ڈیٹا، موبائل فونز، اے ٹی ایم کارڈز اور کرائے کے بینک اکاؤنٹس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف شہریوں کی شناخت اور ذاتی معلومات چوری کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب ان معلومات کو استعمال کرتے ہوئے مالیاتی فراڈ اور دیگر جرائم کے لیے راستے ہموار کیے جا رہے ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی اور قانونی نظام کو مزید مؤثر اور محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ حکام کی جانب سے واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے اور سائبر جرائم کے اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔
تاہم اصل چیلنج صرف جعلی سمز بلاک کرنا یا چند ملزمان کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے حساس ڈیٹا کے تحفظ کے پورے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ جب ایک عام شہری کا انگوٹھا، شناختی معلومات یا موبائل نمبر اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال ہو جائے تو مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں رہتا بلکہ پورے ڈیجیٹل نظام پر اعتماد کا سوال بن جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ بائیومیٹرک ڈیٹا تک رسائی، سموں کے اجرا، موبائل کمپنیوں کے اندرونی نظام، بینک اکاؤنٹس کے استعمال اور ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے ایسا مؤثر نظام تشکیل دیا جائے جس میں شہری کا ڈیٹا کسی بھی مرحلے پر آسانی سے جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھ نہ لگ سکے۔
