پنجاب کے طلبا کوقسطوں پر سستی ای بائیکس کیسے ملیں گی؟

پنجاب حکومت نے صوبے کے طلبہ و طالبات کے لیے الیکٹرک بائیک سکیم میں بڑی مالیاتی تبدیلی کرتے ہوئے ڈاؤن پیمنٹ اور پیشگی رقم کی شرط ختم کر دی ہے۔ نئے منصوبے کے تحت طلبہ کو کسی بھی قسم کی پیشگی رقم ادا نہیں کرنا ہوگی جبکہ ماہانہ قسط صرف 3 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق بلاسود اس سکیم کے تحت 24 ماہ میں مجموعی طور پر 72 ہزار روپے ادا کرکے ای بائیک کی مکمل ملکیت حاصل کی جا سکے گی۔

پنجاب حکومت نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور بینک آف پنجاب کو درخواستوں کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ 4 ستمبر سے آن لائن پورٹل فعال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے صوبے کے 36 اضلاع کے طلبہ و طالبات گھر بیٹھے درخواست دے سکیں گے۔ سکیم کے تحت ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد جدید لیتھیئم آئرن فاسفیٹ بیٹری والی الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔

نئے مالیاتی ماڈل میں بینک کا مارک اپ، انشورنس اور رجسٹریشن کے اخراجات بھی پنجاب حکومت برداشت کرے گی۔ اس طرح طلبہ پر سابقہ سکیم کے مقابلے میں مالی بوجھ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ اس سے پہلے تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار روپے مالیت کی بائیک کے لیے 30 فیصد تک ڈاؤن پیمنٹ، پیشگی رقم اور 6 ہزار 400 روپے سے زائد ماہانہ قسط ادا کرنا پڑتی تھی۔

سکیم کے تحت کامیاب طلبہ کو صرف بائیک ہی نہیں بلکہ مفت ہیلمٹ، سیفٹی راڈ اور دو دن کی مفت رائیڈنگ تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کے لیے تعلیمی سفر کو آسان، محفوظ اور کم خرچ بنانا ہے۔

اہلیت کے لیے امیدوار کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری ہے۔ اس کے پاس پنجاب کا درست قومی شناختی کارڈ اور ڈومیسائل ہونا چاہیے جبکہ وہ کسی منظور شدہ کالج یا یونیورسٹی میں باقاعدہ طالب علم ہو۔ طالب علم ہونے کی تصدیق کے لیے طالب علم کارڈ اور بونا فائیڈ سرٹیفکیٹ درکار ہوگا۔

ملازمت کرنے والے افراد بھی اس سکیم کے لیے اہل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ پنجاب کے کسی تسلیم شدہ ادارے میں باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سے زیرِتعلیم ہوں۔ تاہم درخواست دینے والے کے پاس موٹر سائیکل چلانے کا درست ڈرائیونگ لائسنس یا کم از کم سرکاری لرنر پرمٹ ہونا لازمی ہے۔

جو طلبہ پہلے سے کسی رجسٹرڈ گاڑی کے مالک ہیں یا جن کے گھر کے کسی فرد کو پنجاب حکومت کی اسی سکیم کے تحت موٹرسائیکل مل چکی ہے، وہ اس سکیم کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

درخواستوں کی تعداد مقررہ کوٹے سے زیادہ ہونے کی صورت میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے شفاف اور خودکار کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی جائے گی۔ شہری اور دیہی علاقوں سمیت تمام اضلاع کے لیے مساوی کوٹہ رکھا گیا ہے۔ قرعہ اندازی میں کامیاب امیدواروں کے کوائف بینک آف پنجاب کو بھجوائے جائیں گے، جہاں تعلیمی اور ضمانتی دستاویزات کی تصدیق کے بعد بائیک کی منظوری دی جائے گی۔ حکومت کے مطابق حتمی منظوری کے بعد چھ ہفتوں کے اندر کامیاب طلبہ کو ای بائیک، مفت ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یوں نئی سکیم نہ صرف طلبہ کے لیے موٹرسائیکل کا حصول آسان بنانے کی کوشش ہے بلکہ پنجاب میں ماحول دوست اور کم خرچ سفری سہولت کے فروغ کی جانب بھی ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے

چار ستمبر سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا تیارکردہ پورٹل bikes.punjab.gov.pk آن لائن کر دیا جائے گا جہاں طلبہ اپنا اکاؤنٹ بنا کر تعلیمی کوائف، شناختی کارڈ، ڈومیسائل اور ڈرائیونگ پرمٹ اَپ لوڈ کر سکیں گے۔
حکام کے مطابق ’درخواستوں کی وصولی مکمل ہونے کے بعد اگر کوٹے سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں تو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے مکمل طور پر شفاف اور خودکار ای بيلٹ یعنی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کی جائے گی۔‘ قرعہ اندازی کے لیے شہری اور دیہی علاقوں اور تمام اضلاح کے لیے مساوی کوٹہ رکھا گیا ہے۔ قرعہ اندازی میں کامياب ہونے والے طلبہ کےائف کی تصدیق کے لیے کیس بینک آف پنجاب کو بھیجا جائے گا۔
بینک آف پنجاب درخواست دہندہ کی تعلیمی اور ضمانتی دستاویزات کی پڑتال کے بعد اُسے موٹرسائیکل دینے کی منظوری دے گا۔ بینک آف پنجاب کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بائیک کی فراہمی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
حکومتِ پنجاب نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ حتمی منظوری کے چھ ہفتوں کے اندر اندر الیکٹرک بائیک، مفت ہیلمٹ اور سیفٹی راڈ طالب علم یا طالبہ کے حوالے کر دی جائے تاکہ اُن کا تعلیمی سفر آسان، محفوظ اور کم خرچ ہو سکے۔

Back to top button