میر رضا کی موت خودکشی یا کچھ اور؟ عدالتی کمیشن میں اہم انکشافات

میر رضا کی موت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمیشن کی کارروائی آگے بڑھنے کے ساتھ ایسے سوالات سامنے آ رہے ہیں جن کے جوابات ان کے اہلِ خانہ پہلے دن سے چاہتے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کے اجلاس میں میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے، ان کے بھائی عبداللہ بھردے، سابق ڈی ایس پی ارشد آفریدی اور آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ سابق پولیس افسر اور میر رضا کی والدہ کے بیانات میں بھی اہم تضاد سامنے آیا۔
تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی کارروائی میں احمد بھردے سے تقریباً دو گھنٹے تک سوالات کیے گئے۔ کمیشن نے میر رضا کے دوست حثیم اور رازق کو 7 ستمبر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرلیا، جبکہ گلستانِ جوہر کے ایس ایچ او اور ہیڈ محرر کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
میر رضا کراچی میں قائم ڈیزرٹ آؤٹ لیٹ کے 25 سالہ مالک تھے، جو 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے اور اگلے روز گلستانِ جوہر میں مردہ پائے گئے۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر موت کو خودکشی قرار دیا گیا، تاہم اہلِ خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے جائے وقوعہ، پوسٹ مارٹم، فرانزک اور شواہد سے متعلق کئی سوالات اٹھائے۔
میر رضا کے والد میر حسین کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کی تحقیقات سے بالکل مطمئن نہیں، تاہم عدالتی کمیشن میں ان سوالات کے اٹھائے جانے پر انہیں کسی حد تک اطمینان ہے جو خاندان پہلے دن سے سامنے لاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق جائے وقوعہ، فرانزک، مبینہ طور پر شواہد میں ردوبدل، ویڈیوز کے غائب ہونے، فرانزک میں تاخیر اور دیگر معاملات پر اب کمیشن میں بھی سوالات کیے جا رہے ہیں۔
میر رضا کی بہن علیشبا نے بھی کہا کہ خاندان اس وقت تک مطمئن نہیں ہوگا جب تک کیس کے حقائق سامنے نہیں آتے۔ ان کے مطابق کمیشن کی کارروائی کے دوران واقعات کی ترتیب واضح ہو رہی ہے، لیکن یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ میر رضا کے قریبی دوستوں میں سے کسی کو ان کے حالات کے بارے میں کچھ معلوم کیوں نہیں تھا۔
کارروائی کے دوران میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھردے نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گمشدگی سے متعلق سندھ پولیس کے متعلقہ پورٹل پر موجود پوسٹ پولیس سے حذف کروائی تھی۔ انہوں نے کاروباری معاملات اور میر رضا کے لاپتہ ہونے سے لاش ملنے تک کے واقعات بھی کمیشن کے سامنے بیان کیے۔
کمیشن نے احمد بھردے سے یہ بھی پوچھا کہ میر رضا کے لاپتہ ہونے کے روز انہوں نے ان کے اہلِ خانہ سے رقم اور اکاؤنٹ کا مطالبہ کیوں کیا اور ان کا کمرہ کیوں تلاش کیا۔ احمد بھردے کے مطابق وہ میر رضا کے قریبی دوست تھے اور یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا انہوں نے کوئی نوٹ چھوڑا ہے۔ ان کے مطابق کمرے سے سگریٹ بھی ملے تھے۔
احمد بھردے نے کاروباری مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے بتایا کہ اس میں میر رضا کو گارڈ کی بندوق نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان کے مطابق ابتدا میں انہیں فوٹیج تک رسائی نہیں ملی، تاہم بعد میں ماہر کی مدد سے اسے حاصل کرکے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعض افراد نے میر رضا کے مالی معاملات کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا اور ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میر رضا کے ذمے 50 لاکھ روپے تھے۔
ان کے مطابق میر رضا مالی مشکلات کا شکار تھے اور انہیں ایک کنٹینر کے لاپتہ ہونے کے باعث رقم واپس کرنے کے دباؤ کا بھی سامنا تھا۔ یہ مالی معاملات بھی کمیشن کی تحقیقات میں اہم پہلو بن سکتے ہیں۔
کیس میں ایک اہم تضاد اس وقت سامنے آیا جب سابق ڈی ایس پی ارشد آفریدی نے کمیشن کے سامنے کہا کہ انہوں نے میر رضا کے اہلِ خانہ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے بیٹے نے خودکشی کی ہے۔ ان کے مطابق وہ ایس ایچ او فیروز کے ہمراہ میر رضا کے گھر گئے تھے، تاہم دوسری جانب میر رضا کی والدہ نے بیان دیا کہ دونوں پولیس افسران نے گھر آکر انہیں بتایا تھا کہ میر رضا نے خودکشی کی ہے۔
کمیشن نے میر رضا کو رات کے وقت گلستانِ جوہر لے جانے والے آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ ڈرائیور کے مطابق میر رضا کو ایک سنسان مقام پر اتارا گیا اور دوسری سواری ملنے کے باعث وہ وہاں سے چلا گیا۔ احسان نے بتایا کہ واقعے کے بعد اسے رہائش سے نکال دیا گیا اور اب وہ پولیس اسٹیشن میں رہ رہا ہے، جبکہ متعلقہ کمپنی نے اس کی گاڑی بھی واپس لے لی ہے۔
میر رضا کی بہن کے مطابق خاندان مسلسل قانونی کارروائی اور احتجاج میں مصروف ہونے کے باعث اپنے بھائی کو معمول کے مطابق یاد کرنے کا موقع بھی نہیں پا رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان صرف پُرامن طریقے سے حقائق سامنے لانا چاہتا ہے۔
اب کمیشن کی اگلی سماعت 7 ستمبر کو ہوگی، جس میں میر رضا کے دوست حثیم اور رازق کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے جبکہ گلستانِ جوہر کے ایس ایچ او اور ہیڈ محرر بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے۔ ان بیانات کے بعد کیس میں موجود تضادات، ڈیجیٹل شواہد، سی سی ٹی وی اور پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے متعلق مزید سوالات کے جواب سامنے آنے کی توقع ہے۔
فی الحال کمیشن کی کارروائی جاری ہے اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تاہم اتنا ضرور ہے کہ عدالتی تحقیقات نے میر رضا کی موت سے متعلق ان سوالات کو باضابطہ طور پر زیرِبحث لا دیا ہے جنہیں ان کا خاندان ابتدا ہی سے اٹھاتا رہا ہے۔
