شہبازنئے صوبوں کے بڑے حامی، مریم تقسیم کی مخالف، نواز خاموش کیوں؟

پاکستان میں نئے صوبوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مرتبہ بحث صرف مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں بلکہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اندر بھی اس معاملے پر مختلف آرا کا تاثر سامنے آیا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نئے صوبوں کے بہت بڑے حامی ہیں، جبکہ پنجاب کی تقسیم کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس کے حق میں نہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے فی الحال پارٹی رہنماؤں کو اس موضوع پر بات کرنے سے روک دیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے صوبوں کا معاملہ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑے سیاسی فیصلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے، اور کیا پنجاب کی ممکنہ تقسیم پر بالآخر کوئی سمجھوتا ہوگا؟

حامد میر نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نئے صوبوں کے قیام کے بڑے حامی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق مریم نواز پنجاب کی تقسیم نہیں چاہتیں۔ اس معاملے پر نواز شریف کی جانب سے پارٹی کے اندر سب کو بات کرنے سے روکنے کا فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت شاید اس حساس معاملے کو فوری طور پر سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے وقت اور حالات کو دیکھنا چاہتی ہے۔

نئے صوبوں کا سوال پاکستان میں کوئی نیا سیاسی مسئلہ نہیں۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، انتظامی مشکلات، بڑے صوبوں کے اندر علاقائی احساسِ محرومی اور وسائل کی تقسیم جیسے مسائل کی بنیاد پر مختلف اوقات میں نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر خطوں میں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے مطالبات سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں صوبوں کی تشکیل محض انتظامی فیصلے سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے آئینی اور سیاسی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ ہمیشہ انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔

پنجاب کے معاملے میں یہ بحث مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے کیونکہ پنجاب آبادی، سیاسی اثر و رسوخ اور قومی سیاست میں اپنی اہمیت کے باعث ملک کا سب سے طاقتور صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب کی تقسیم کی بات محض نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات انتظامی ڈھانچے، سیاسی نمائندگی، وسائل کی تقسیم، بیوروکریسی، اسمبلی کی نشستوں اور قومی سیاست تک پھیل سکتے ہیں۔

اسی لیے شہباز شریف کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ نئے صوبوں کے بڑے حامی ہیں، سیاسی طور پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ شہباز شریف ماضی میں بھی انتظامی اصلاحات اور حکومتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے حوالے سے مختلف خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اگر واقعی وہ نئے صوبوں کے قیام کو انتظامی ضرورت سمجھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مستقبل میں یہ معاملہ محض سیاسی نعرے کے بجائے حکومتی سطح پر بھی سنجیدہ غور کا موضوع بن سکتا ہے۔

لیکن دوسری طرف مریم نواز کا پنجاب کی تقسیم کے حوالے سے مختلف مؤقف مسلم لیگ ن کے اندر ایک اہم سیاسی سوال پیدا کرتا ہے۔ مریم نواز پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں اور صوبے کی سیاست میں ان کا براہِ راست سیاسی مفاد اور انتظامی کردار موجود ہے۔ ایسے میں پنجاب کو تقسیم کرنے کی تجویز ان کی حکومت، سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کی جانب سے پارٹی رہنماؤں کو اس معاملے پر بات نہ کرنے کی ہدایت کو بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔ بظاہر یہ حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اس وقت نئے صوبوں کی بحث کو کھلے اختلاف یا باقاعدہ جماعتی مؤقف میں تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔ اگر پارٹی کے مختلف اہم رہنما ایک ہی معاملے پر مختلف آرا کا اظہار کرنے لگیں تو اس سے نہ صرف اندرونی اختلافات نمایاں ہوسکتے ہیں بلکہ اتحادی سیاست اور دیگر صوبوں کے سیاسی مطالبات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

حامد میر کے مطابق اگرچہ اس وقت نواز شریف نے سب کو اس معاملے پر بات کرنے سے روک رکھا ہے، تاہم مستقبل میں کہیں نہ کہیں اس معاملے پر سمجھوتا ضرور ہوگا۔ یہ بات اس امکان کو جنم دیتی ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ سیاسی حالات سازگار ہونے پر دوبارہ سامنے آسکتا ہے۔

نئے صوبوں کی بحث میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا صوبے صرف انتظامی ضرورت کے تحت بنائے جانے چاہئیں یا ان کے قیام کے پیچھے سیاسی محرکات بھی شامل ہوتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں انتظامی سہولت کے لیے صوبوں، ریاستوں یا خطوں کی حدود تبدیل ہوتی رہی ہیں، لیکن پاکستان جیسے سیاسی طور پر حساس ملک میں کسی نئے صوبے کا قیام قومی اور صوبائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

اگر جنوبی پنجاب کے حوالے سے بات کی جائے تو اس خطے میں طویل عرصے سے یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ وسیع رقبے اور بڑی آبادی کے باعث جنوبی علاقوں کو الگ انتظامی شناخت ملنی چاہیے تاکہ مقامی مسائل پر زیادہ توجہ دی جاسکے۔ دوسری جانب مخالفین کا مؤقف رہا ہے کہ صرف صوبہ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ اصل ضرورت بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے اور انتظامی نظام کو مؤثر کرنے کی ہے۔

یہی بنیادی سوال پنجاب کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے صوبے واقعی عوامی مسائل حل کریں گے یا اس کے نتیجے میں صرف نئے سیاسی مراکز وجود میں آئیں گے۔ ایک نیا صوبہ بنانے کے لیے نئی اسمبلی، سیکریٹریٹ، بیوروکریسی، پولیس، عدالتی اور دیگر انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے بڑے مالی وسائل درکار ہوں گے۔ اگرچہ طویل مدت میں بہتر انتظامی کارکردگی کے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، لیکن ابتدائی مرحلے میں اخراجات اور ادارہ جاتی تنظیم نو ایک بڑا چیلنج ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب نئے صوبوں کے حامی یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ بڑے صوبوں میں دور دراز علاقوں تک حکومتی وسائل اور انتظامی توجہ کی مؤثر رسائی مشکل ہوجاتی ہے۔ اگر ایک علاقے کو الگ انتظامی شناخت مل جائے تو وہاں کے مسائل کے حل کے لیے فیصلہ سازی مقامی سطح کے قریب آسکتی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو نئے صوبے محض سیاسی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تشکیل واضح اصولوں اور عوامی مفاد کے تحت کی جائے۔

اس معاملے کا سب سے حساس پہلو سیاسی نمائندگی ہے۔ پنجاب کی تقسیم کی صورت میں نہ صرف صوبائی سیاست کا نقشہ تبدیل ہوگا بلکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ نئے صوبے نئے سیاسی مراکز پیدا کریں گے اور ممکن ہے کہ موجودہ سیاسی جماعتوں کے طاقت کے توازن میں بھی تبدیلی آئے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں ایسے معاملات پر انتہائی محتاط انداز اختیار کرتی ہیں۔

حامد میر کی گفتگو کے دوسرے حصے میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات کا بھی ذکر ہوا۔ میزبان شاہزیب خانزادہ کے مطابق اس ملاقات کے تناظر میں صدر زرداری نے نئے صوبوں کی بحث پر اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ دیگر سیاسی قوتیں بھی اس پر اپنے اپنے مفادات اور سیاسی ترجیحات کے مطابق مؤقف رکھتی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ بھی نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم کے مباحث سے جڑی رہی ہے، خصوصاً جنوبی پنجاب اور دیگر محروم علاقوں کی سیاسی نمائندگی کے سوال پر۔ اگر آنے والے دنوں میں نئے صوبوں کا معاملہ دوبارہ باضابطہ سیاسی ایجنڈے پر آتا ہے تو مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے درمیان اس مسئلے پر مذاکرات اور اختلافات دونوں سامنے آسکتے ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی بحث اکثر انتخابی سیاست کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔ انتخابات سے قبل نئے صوبے بنانے کے وعدے کیے جاتے ہیں، مختلف علاقوں کے عوام میں امید پیدا ہوتی ہے، لیکن عملی سطح پر آئینی ترمیم، سیاسی اتفاق رائے اور انتظامی تیاری کے مراحل اس عمل کو انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں نئے صوبوں کے متعدد مطالبات سیاسی نعرے سے آگے نہیں بڑھ سکے۔

اگر مسلم لیگ ن مستقبل میں نئے صوبوں کے معاملے پر کوئی سمجھوتا کرتی ہے تو اس کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ وہ اس فیصلے کو کس سیاسی اور انتظامی بنیاد پر پیش کرتی ہے۔ اگر اسے محض سیاسی ضرورت کے طور پر دیکھا گیا تو اس پر اعتراضات اٹھ سکتے ہیں، لیکن اگر آبادی، انتظامی سہولت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، عوامی نمائندگی اور مقامی حکومت کے اصولوں کو بنیاد بنایا جائے تو بحث زیادہ سنجیدہ اور قابلِ عمل ہوسکتی ہے۔

اسی طرح مریم نواز کے لیے بھی یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی امتحان سے کم نہیں ہوگا۔ اگر وہ پنجاب کی تقسیم کے حق میں نہیں تو انہیں اس مؤقف کے لیے ایک مضبوط انتظامی اور سیاسی دلیل دینا ہوگی۔ دوسری طرف اگر مستقبل میں جماعتی سطح پر نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق ہوجاتا ہے تو انہیں اپنی سیاسی حکمت عملی میں اس تبدیلی کو جگہ دینا پڑ سکتی ہے۔

شہباز شریف کے مبینہ طور پر نئے صوبوں کے حامی ہونے کی بات بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ اگر وزیراعظم واقعی اس تصور کے حامی ہیں تو مستقبل میں وفاقی سطح پر اس مسئلے پر سیاسی مشاورت کا امکان موجود رہے گا۔ تاہم کسی بھی عملی پیش رفت کے لیے نہ صرف مسلم لیگ ن کے اندر اتفاق رائے بلکہ دوسری بڑی سیاسی جماعتوں، متعلقہ صوبوں اور پارلیمان میں وسیع تر سیاسی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

آخرکار نئے صوبوں کا سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں مزید صوبے ہونے چاہئیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی، علاقائی ضروریات اور عوامی توقعات پوری کرنے کے لیے کافی ہے؟ اگر نہیں تو اس کا بہتر متبادل کیا ہے؟ نئے صوبے، مضبوط مقامی حکومتیں، انتظامی ڈویژنوں کو زیادہ اختیارات یا موجودہ صوبائی نظام میں اصلاحات؟

شہباز شریف، مریم نواز اور نواز شریف کے بارے میں سامنے آنے والے مؤقف نے اس پرانی بحث کو ایک مرتبہ پھر سیاسی زندگی دے دی ہے۔ فی الحال مسلم لیگ ن نے اس معاملے پر کوئی واضح اجتماعی پالیسی سامنے نہیں رکھی اور نواز شریف کی جانب سے خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی اس وقت کھلے تصادم سے بچنا چاہتی ہے۔ لیکن اگر حامد میر کی اطلاعات درست ہیں اور وزیراعظم نئے صوبوں کے بڑے حامی ہیں تو مستقبل میں یہ معاملہ دوبارہ زیادہ شدت سے سامنے آسکتا ہے۔

یوں نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سیاست میں ایک ایسے سوال کے طور پر موجود ہے جس کا جواب صرف سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ آئینی اتفاق رائے، انتظامی ضرورت، عوامی خواہش اور سیاسی مفادات کے درمیان توازن پیدا کرکے دینا ہوگا۔ فی الحال گیند سیاسی قیادت کے کورٹ میں ہے، لیکن آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ شہباز شریف کی حمایت، مریم نواز کی مخالفت اور نواز شریف کی خاموشی آخر کس نتیجے پر پہنچتی ہے—اور کیا نئے صوبوں پر واقعی کوئی بڑا سیاسی سمجھوتا ہونے جارہا ہے؟

Back to top button